اسی خواتین سے جنسی زیادتی،ملزم ہاروی وائن اسٹائن کو 23 سال قید کی سزا

اسی خواتین سے جنسی زیادتی،ملزم ہاروی وائن اسٹائن کو 23 سال قید کی سزا

جنسی زیادتی می ٹو ہاروی

سزا میں نرمی کا مطالبہ رد۔۔ ہاروی وائن اسٹائن کو پچھتاوے ستانے لگے۔۔

می ٹو مہم  کی وجہ بننے والےاور 80 سے زائد خواتین کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے والے 67سالہ ہاروی وائن اسٹائن پر گزشتہ ماہ 24 فروری کو 2 خواتین سے تھرڈ ڈگری ریپ اور فرسٹ ڈگری مجرمانہ جنسی حرکت کے الزامات ثابت ہونے پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ ان پر لگنے والے الزامات میں 2006 میں انہوں نے اپنی سابقہ پروڈکشن اسسٹنٹ کو جنسی  طور پر ہراساں کرنا اور  2013 میں  فلم انڈسٹری میں کام کی خواہش مند ایک اداکارہ جیسیکا مین کے ساتھ جنسی زیادتی کا تھا ۔

5سال کی سزا بھی عمر قید کے برابر

دوران سماعت  مجرم کے وکلا کی جانب سےہاروی وائن اسٹائن کی سزا میں نرمی کی درخواست کا مطالبہ   کرتے ہوئے کہا گیا کہ  5 سال کی سزا بھی ان کے موکل کیلئے عمر قید کی سزا کے برابر ہوگی۔تاہم نیویارک کی عدالت نے وکلاء کی درخواست رد کرتے ہوئے ہاروی وائن اسٹائن کو 23 سال قید کی سزا سنادی۔

جنسی زیادتی می ٹو ہاروی

CNN.com

ہاروی کے پچھتاوے

دوران سماعت عدالت میں پہلی بار ہاروی وائن اسٹائن نے اپنے کیے پر پچھتاوے کا اظہار  بھی کیا۔ انہوں نےاپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے کیے پر  دل کی گہرائیوں کے ساتھ افسوس ہے، اور اب وہ  اپنا زیادہ سے زیادہ وقت ایک بہتر شخص بننے  کی کوشش میں صرف کریں گے۔

واضح رہے   نیویارک ٹائمز نے اکتوبر 2017 کو اپنی تحقیقاتی رپورٹ  میں اس تہلکہ خیز اسکینڈل کا انکشاف کیا تھا جس کے بعد خواتین کی بڑی تعداد نے ہالی وڈ پروڈیوسر ہاروی وائن اسٹائن سے متعلق ہوش رُبا حقائق سے پردہ اٹھایا تھا۔ وائن اسٹائن پر الزامات لگانے والی خواتین میں ہالی وڈ کی صف اول کی اداکارائیں انجیلینا جولی، سلمیٰ ہائیک، گائینتھ پیلٹرو، ایشلے جَڈ، روز میک گوئن اور ہیتھر گراہم شامل ہیں۔

جنسی زیادتی می ٹو ہاروی

AP News

مزید پڑھیے: میشا شفیع نے علی ظفر پر ہراساں کرنے کا الزام لگادیا

ان انکشافات کے بعد  می ٹومہم شروع کی گئی تھی ۔ جس کے بعد دنیا بھر میں می ٹومہم نے ہلچل  مچادی تھی۔ خصوصاً خواتین سیلیبریٹیز   نے اپنی خاموشی توڑتے ہوئےطاقتور اور اونچے عہدوں پر فائز مردوں کی جانب سے انہیں  ہراساں اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے انکشافات کیے گئے تھے۔

To Top