میشا شفیع کے بعد ایک اور معروف خاتون نے بھی علی ظفر پر ہراساں کرنے کا الزام لگادیا

میشا شفیع کے بعد ایک اور معروف خاتون نے بھی علی ظفر پر ہراساں کرنے کا الزام لگادیا

پاکستان کی شو بز انڈسٹری اس وقت میشا شفیع اور علی ظفر اسکینڈل کی ذد میں ہے ۔ میشاشفیع نے علی ظفر کے اوپر جنسی طور پر کئی دفعہ ہراساں کرنے کا الزام لگایا انہوں نے اپنے ٹوئٹ پیغام میں اس بات کا اظہار کیا کہ گلوکار علی ظفر نے ساتھ کام کرتے ہوۓ کئی دفعہ نہ صرف جنسی طور پر ہراساں کیا ان کا یہ ٹوئٹ وائرل ہو گیا اور پوری شو بز انڈسٹری نے اس حوالے سے اپنی راۓ کا اظہار کیا


کسی خاتون کی جانب سے کسی مرد پر لگایا جانے والا یہ پہلا الزام نہیں ہے مگر اس الزامات میں حیرت کا عنصر اس لیۓ بھی شامل ہو گیا کہ شو بز انڈسٹری سے جڑی ایک شادی شدہ عورت جو کہ کامیابی کی منزلوں کو چھو رہی ہے اس کو بھی اگر ایک مرد جنسی طور پر ہراساں کر سکتا ہے تو ایک عام عورت تو کسی شمار ہی میں نہیں آتی

اگرچہ علی ظفر کی جانب سے نہ صرف ان الزامات کی تردید کی گئی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے علی ظفر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے ۔ساتھی اداکاروں کی جانب سے بھی اس حوالے سے ملا جلا رجحان سامنے آیا ہے کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ دھواں وہیں سے اٹھتا ہے جہاں چنگاری ہوتی ہے جب کہ کچھ لوگوں نے میشا شفیع کی جانب سے سستی شہرت حاصل کرنے کی ایک کوشش قرار دیا ہے

مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک اور بات جو قابل غور ہے وہ کچھ عام خواتین کے وہ پیغاماات ہیں جن کے مطابق علی ظفر نے ان کے ساتھ بھی جنسی طور پر زیادتی کرنے کی کوشش کا اعتراف کیا ہے ان میں سے ایک خاتون کا یہ کہنا تھا کہ علی ظفر نے نہ صرف ان کی بھانجی  کے ساتھ بھی بدتمیزی کی بلکہ الگ کمرے میں لے جا کر اس کو کس کرنے کی بھی کوشش کی ۔

ایک اور خاتون نے اپنے ٹوئٹ میں اس بات کا شکر ادا کیا کہ کوئی تو ہے جس نے علی ظفر کی بدتمیزیوں پر منہ کھولنے کا حوصلہ کیا ججب کہ دوسری جانب کچھ میڈیا چینلز پر یہ بھی خبر چلائی جا رہی ہے کہ میشا شفیع نے یہ سارے الزامات اس جھگڑے کے بعد لگاۓ ہیں جس کے تحت ان کا اس میڈیا چینل کے ساتھ علی ظفر کو بطور جج شامل کرنے پر جھگرا ہوا جس کے بعد میشا شفیع نے اس چینل والوں سے یہ مطالبہ کیا کہ ان کو بھی وہی معاوضہ ادا کیا جاۓ جو بطور جج علی ظفر کو ادا کیا جا رہا ہے اور چینل کی جانب سے انکار کے بعد انہوں نے یہ ٹوئٹ پیغام جاری کیا ۔

 

I’m not here to say who is wrong and who is right or who did what and who didn’t… Let’s say, I haven’t known him for long, but I have been working with him since 1 year, we shot our film in Lahore and then we were all together in Poland to shoot the rest of the film and I never ever got any kind of that vibe from him… I always found him talking to his wife and kids on FaceTime and this made me a fan of him, because he would always share his good and bad moments with his wife and family… When we were on set or in any restaurant with the whole team he would always make sure that he was sharing these moments with her… I am not judging anyone nor giving any clarification on anyone’s behalf, and we can’t judge the one side of a book… I respect this man @ali_zafar and want the truth to come out, until then we shouldn’t judge anyone’s character…????

A post shared by Maya Ali (@official_mayaali) on

ساتھی ادااروں میں مایا علی نے بھی اپنے پیغام میں یہ واضح کیا ہے کہ وہ گزشتہ ایک سال سے علی ظفر کے ساتھ کام کر رہی ہیں اس دوران ان کو ایسی کسی بھی قسم کی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے اور علی ظفر پر لگاۓ گۓ ان الزامات میں کوئی صداقت موجود نہیں ہے

مگر اسی حوالے سے ماضی میں علی ظفر کے کیۓ گۓ کچھ ٹوئٹ بھی سامنے آۓ ہیں جس میں خواتین کے بارے میں ان کی عجیب و غریب راۓ سامنے آئی ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئي عورت ایک بار منع کرے تو اس کی راۓ کا احترام کریں مگر اس کے بعد دوبارہ کوشش کریں اور اگر وہ قطعی طور پر بھی منع کر دے تو مایوس نہ ہوں بلکہ اپنی کوشش جاری رکھیں

اب دیکھنا یہ ہے کہ شو بز کے اندر جاری یہ جنگ کس کروٹ بیٹھتی ہے اس جنگ میں فتح میشا شفیع کے ہاتھ آتی ہے یا پھر بے قصور ہونے کا میڈل علی ظفر کے گلے میں پہنایا جاتا ہے

To Top