ساس بہو کے بیچ سب سے بڑے جھگڑے کی وجہ سامنے آگئی جانئیے

ساس بہو کے بیچ سب سے بڑے جھگڑے کی وجہ سامنے آگئی جانئیے

مشرقی معاشرے میں لڑکی کی  زندگی کو  صرف دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے ایک حصہ شادی سے پہلے کا اور دوسرا شادی کے بعد کا۔ پہلے دور میں لڑکی کو شادی کے بعد کے دور کے لۓ تیار کیا جاتا ہے ۔ اس کو اس پورے دور میں ان ان دیکھے رشتوں کے نام سے ڈرایا جاتا ہے ۔جن کے ساتھ اس نے اپنی پوری باقی آدھی زندگی گزارنی ہوتی ہے ۔

کوئی کام نہ کرو تو امی کا پہلا جملہ یہی ہوتا ہے کہ اگر سسرال میں یہ نہ  کیا تو شوہر چٹیا سے پکڑ کر نکال باہر کرے گا ۔اور اگر اس طرح زبان ساس کے سامنے چلائی تو وہ تو زبان نکال کر ہاتھ میں پکڑا دے گی ۔ بہنوں سے کسی بات پر جھگڑا ہو جاۓ تو سننے کو ملتا ہے کہ کل کو نندوں کے ساتھ کیسے گزارا کرو گی جب کہ آج بہن تک تو تمھیں برداشت نہیں ۔ غرض شادی سے پہلے کی ساری عمر ان رشتوں سے ڈرتے اور ان سے نفرت کرتے گزر جاتی ہے

جو تاثر بہو سسرال میں آنے سے پہلے اپنی ساس کے لیۓ اپنے دل میں بنا چکی ہوتی ہے وہ کچھ اس طرح ہوتے ہیں

ساس ظالم ہوتی ہے

سسرال کی زندگی کے خواب دکھاتے ہوۓ جس رشتے سے سب سے زیادہ ڈرایا جاتا ہے وہ شوہر کی ماں یعنی ساس کا ہوتا ہے ۔ شروع سے یہ خاکہ تیار کیا جاتا ہے کہ یہ وہ عورت ہوگی جو تمھیں گھر میں لاۓ گی ہی اسی لۓ تاکہ تم پر ظلم و ستم کر سکے۔

ساس بہو کی سب سے بڑی رقیب ہوتی ہے

جو دوسرا خوف ایک لڑکی کے ذہن میں ڈالا جاتا ہے وہ یہ ہوتا ہے کہ ساس وہ ہوتی ہے جس کے بیٹے پر قبضہ کرنے کے لۓ تم اس گھر میں آئی ہو اس لۓ ساس تمھاری سب سے بڑی رقیب ہے ۔

ساس بہو کے بیچ سب سے بڑا جھگڑا اختیارات کا ہوتا ہے

بہو کی آمد سے قبل اس گھر کی مالکہ ساس اکیلے ہوتی ہے ۔پورے گھر میں ہر معاملے میں اس کی توتی بول رہی ہوتی ہے ۔مگر بہو جو اس گھر میں آتی ہے تو اس کے ذہن میں بھی اس گھر پر حکمرانی کا خواب ہوتا ہے جس کے سبب گھر میں جھگڑے ہوتے ہیں۔

اس قسم کے تاثر لے کر جب بہو اس گھر میں داخل ہوتی ہے تو وہ کبھی بھی خوش نہیں رہ سکتی ۔ اسی سبب سب سے پہلے تو ہمیں چاہۓ کہ لڑکیوں کی زندگی کا شادی سے پہلا دور جو انتہائی سنہرا دور ہوتا ہے اس کو ان نفرتوں کے ساۓ میں برباد نہ کریں ۔انہیں محبت اور برداشت کا سبق دیں ۔

یہ وقت اپنی بچی کی اچھی تربیت کا ہے اس کی تربیت ضرور کریں مگر یہ تربیت اس خیال سے کریں کہ وہ اس کی بدولت اچھی زندگی گزار سکے۔ اس خوف سے تربیت نہ کریں کہ سسرال والے کیا کہیں گے ۔

To Top