'مرد کے لیۓ داڑھی منڈوانا اس کی ٹانگ کٹوانے کے برابر ہے 'اسلامی اسکالر نے فتوی جاری کر دیا

‘مرد کے لیۓ داڑھی منڈوانا اس کی ٹانگ کٹوانے کے برابر ہے ‘اسلامی اسکالر نے فتوی جاری کر دیا

ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع کے موقعے پر عرفات کے میدان میں حطبہ دیتے ہوۓ فرمایا تھا کہ میں مسلمانوں کی رہنمائی کے لیۓ دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں ایک تو قرآن اور دوسری سنت  ۔ آج جب کے ا دنیا کے بہت سارے معاملات میں کافی تبدیلیاں واقع ہو گئی ہیں ایسے معاملات میں رہنمائی کے لیۓ اس وقت کے عالم اور مجتہد قرآن اور سنت کی روشنی میں نہ صرف عوام کی رہنمائی فرماتے ہیں بلکہ ان مسائل کے حل کے لیۓ فتوی بھی پیش کرتے ہیں


علما یہ فتوی قرآن وسنت کی روشنی میں اخذ کرتے ہیں اور ان کے لیۓ لازم ہے کہ اس کے ساتھ وہ اس فتوی کا لازمی طور پر ماخذ ضرور پیش کریں مگر حالیہ دنوں میں ہمارے سامنے بہت سارے ایسے فتوی بھی آۓ ہیں جو کہ علما کرام کی جانب سے تو پیش کر دیۓ جاتے ہیں مگر وہ لوگوں میں مذید انتشار کا سبب بن جاتے ہیں ۔

 

برطانیہ کے ایک عالم جناب عمران ابن منصور کی ایک ویڈیو کچھ دن قبل سوشل میڈیا کی زینت بنی جس میں انہوں نے برطانیہ کی مسلمان عورتوں کی بے حجابی پر لیکچر دیتے ہوۓ انہیں سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوۓ روتے ہوۓ بتایا کہ عورتوں کی اس بے حجابی کے سبب انہوں نے گھر سے باہر نکلنا چھوڑ دیا ہے تاکہ وہ بے حجاب عورتوں کو دیکھ کر گناہ گار نہ ہوں

اس کے بعد حالیہ دنوں میں اسی عالم کا ایک اور فتوی بھی منظر عام پر آیا جس میں انہوں نے داڑھی کو سنت نبوی قرار دیا مگر اس کے بعد اس داڑھی کو ترشوانا بالکل اسی طرح قرار دیا جیسے کوئی اپنا ہاتھ یا ٹانگ کٹوا دے ۔ اس فتوی کو پیش کرتے ہوۓ انہوں نے کوئی قرآنی حوالہ نہیں دیا ۔

‘My Lord Told Me To Grow The Beard’ #LetTheSunnahGoForth

Posted by Imran ibn Mansur on Wednesday, November 22, 2017

اس بات سے سب لوگ واقف ہیں کہ داڑھی رکھنا سنت نبوی ہے مگر اس حوالے سے قرآن میں کوئی ہدایت موجود نہیں ہے اسی سبب داڑھی رکھنے کو سنت نبوی ہونے کے باعث برکت اور باعث ثواب سمجھا جاتا ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ داڑھی نہ رکھنے کی ایسی کوئی وعید بھی قرآن میں موجود نہیں کہ اس کے کٹوانے کا بدلہ انسانی ٹانگ یا بازو کٹوانے کے برابر ہو

اس قسم کے فتوی نہ صرف لوگوں میں اضطراب پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ ایک عام انسان کے دل میں اسلام کا تشخص ایک سخت گیر مزہب کی صورت میں ابھارتے ہیں ۔

To Top