یا اللہ الیکشن ہر سال کیوں نہیں ہوتے ؟ ایک غریب بچی کا معصومانہ سوال

یا اللہ الیکشن ہر سال کیوں نہیں ہوتے ؟ ایک غریب بچی کا معصومانہ سوال

اماں اماں آخر کب ہمیں بھی نۓ کپڑے ملیں گے ؟ آپ نے کہا تھا کہ رمضان میں ہم بھی اچھی اچھی چیزیں کھائیں گے مگر پورا رمضان ہم نے روزہ سوکھی روٹی سے ہی کھولا اس کے بعد لوگوں کے گھروں پر عید آئی انہوں نے نۓ کپڑے بناۓ مگر ابا کو نہ تو رمضان میں مزدوری ملی اور نہ عید پر

روتی بلکتی مریم ماں کے آنچل سے لپٹی آنسو بہاۓ جا رہی تھی ۔ چھ سال کی معصوم بچی کو کیا پتہ تھا کہ زمانہ کتنا ظالم ہو گيا تھا ۔ لوگوں کی اپنی ضروریات ہی اتنا بڑھ چکی تھیں کہ ان کے لیۓ کسی غریب کو ایک وقت پیٹ بھر کھلانا بھی بوجھ لگنے لگا تھا

پہلے رمضان پھر عید اور اب الیکشن کے موسم کے سبب مزدوری ملنا بالکل ہی ختم ہو گئی تھی ۔ اس کا باپ روز صبح فجر کی نماز پڑھ کر نکلتا اور رات گۓ جب تھکے ہوے جسم اور روح کے  ساتھ آتا تو اس کے پلے میں صرف اتنا ہی ہوتا کہ جس سے وہ اپنے گھر والوں کا روکھی سوکھی کھلا کر پیٹ بھر سکتا تھا ان کے لیۓ بریانی اور نۓ کپڑے دلانا اس کی طاقت سے باہر تھا ۔

ابھی مریم رو ہی رہی تھی کہ اچانک باہر سے ڈھول کی آواز نے اسےاپنی جانب متوجہ کر لیا اور وہ معصوم بچی اپنا دکھ بھول کر باہر کی جانب بھاگی ۔ باہر الیکشن کے امیدوار ڈھول باجوں کے ساتھ اس غریب بستی کے لوگوں سے ووٹ مانگنے آيا تھا ۔

اس کے ساتھ والی گاڑی میں بریانی کی دیگیں تھیں جس میں سے تھیلیاں نکال نکال کر اس کے کارندے لوگوں کی جانب اچھال رہے تھے ۔ اسی کھینچم تان میں ایک تھیلی مریم کے ہاتھ بھی لگ گئی جس کو لے کر وہ گھر کی جانب بڑھی

پھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ اس نے اپنی امی کو بتایا کہ جس عید کا آپ نے مجھے بتایا تھا باہر وہی عید آئی ہے اور اسی خوشی میں سب کو بریانی مل رہی ہے (اس معصوم کو کیا پتہ تھا کہ یہ عید کی نہیں الیکشن کی بریانی ہے )اس دن اس نے پیٹ بھر کر بریانی کھائی شام ہوئی تو اس نے اپنے ابا کو بھی بتا یا کہ آج ہمارے محلے میں عید آئی تھی اور اس نے سب کو بریانی دی

اس سے اگلے دن جو دوسرا امیدوار آیا اس کو بریانی کی تقسیم کا پہلے ہی پتہ چل چکا تھا اس وجہ سے اس نے اس بار بریانی کے ساتھ زردے کے پیکٹ بھی تقسیم کیۓ تو مریم کو لگا آج تو بڑی عید تھی اس وجہ سے ساتھ میں میٹھا بھی ملا

اس سے اگلے دن بریانی اور زردے کے ساتھ پارٹی کے رنگ کے نۓ کپڑے اور چوڑیاں بھی تقسیم کی گئیں مریم کو لگ رہا تھا کہ جیسے اس کی غریب بستی میں بہاریں آگئی ہیں وہ پارٹی کے رنگ کا نیا جوڑا پہن کر اور چوڑیاں ہاتھوں میں پہن کر بہت غرور سے علاقے میں گھومتی رہی

یہاں تک کہ الیکشن کا دن آن پہنچا اور جیت ہار کا فیصلہ ہو گیا اس دن وہ سارا دن اس بات کا انتظار کرتی رہی کہ اس کے لیۓ بریانی آۓ گی مگر کوئی نہیں آیا شام کو ابا کی لائی ہوئی روٹی اس سے چبائی بھی نہیں جا رہی تھی

اس نے اپنے ابا سے پوچھا کہ کیا عید ختم ہو گئی ہے اور یہ عید دوبارہ کب آۓ گی اس کے ابا نے کہا کہ اب یہ عید پانچ سال بعد ہی آۓ گی تو اس نے دعا کی کہ اللہ میاں پانچ سال تک تو یہ کپڑے پھر سے پرانے ہو جائیں گے آپ ایسا کچھ کر دیں کہ اس ملک میں یہ الیکشن والی عید ہر سال آۓ تاکہ ہم غریب پیٹ بھر کر کھانا تو کھا سکیں

To Top