بیوٹی پارلر میں "کسٹمر" بن کر جانے والے خواتین و حضرات متوجہ ہوں۔۔۔

بیوٹی پارلر میں “کسٹمر” بن کر جانے والے خواتین و حضرات متوجہ ہوں۔۔۔

بیوٹی پارلر اور خواتین کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے ۔آج کل کے دور میں خواتین کی تیاری کا بنیادی ذمہ انہی پارلر والیوں پر ہوتا ہے جو قبول صورت خواتین کو بھی اس مہارت سے سنوارتی ہیں کہ قلوپطرہ کی روح بھی چلا اٹھتی ہے ۔

ہر عورت یہ سمجھتی ہے کہ پارلر جا کر اس کی خوبصورتی میں سو گنا اضافہ کیا جا سکتا ہے ۔لہذا ہر وہ عیب جو ان کی ظاہری شخصیت میں ہوتا ہے اس کو چھپانے کا ٹھیکا پارلر والی کو مل جاتا ہے ۔انواع اقسام کی کسٹمر بیوٹی پارلر آتی ہیں اور الگ الگ طریقے سے ردعمل کا اظہار کرتی ہیں ۔

عمر چھپانے والی کسٹمر

1

ایسی آنٹیاں جن کے چہرے پر وقت اپنے نشان چھوڑ چکا ہوتا ہے اپنی عمر کے بارے میں بہت حساس ہو جاتی ہیں ۔ان کی ہر ممکن کوشش ہوتی ہے کہ وہ بیوٹی پارلر کی ہر اس سروس کا فائدہ اٹھائیں جس کا تعلق عمر چھپانے سے ہوتا ہے ۔ چہرے پر پڑی ہوئی جھریاں الگ الگ قسم کے ماسک لگوا کر ٹائٹ کروانے والی یہ خواتین ڈھلتی عمر کو تو نہیں روک سکتیں مگر شوہروں کی جیب سے پیسے اپنے پرس میں بیوٹی پارلر کے لۓ ضرور روک کر رکھتی ہیں ۔

فلمی ہیروئین بننے کی شوقین کسٹمر

2

ایسی کسٹمر کے لۓ عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی ہے بس اس کی شکل کسی نہ کسی ہیروئین سے ملنی چاہۓ اور بس باقی کام بیوٹی پارلر والی کو کرنا ہوتا ہے اس کے چار فٹ قد کو دیپیکا کی طرح سرو قامت بنانا یا پھر اس کی گندمی رنگت کو کرینہ کی طرح گلابی بنانا ،یا پھر اس کے چـپٹے ناک کو مائرہ خان کی طرح توانا بنا نا یہ سب کام پارلر والی کے ذمے ہو جاتے ہیں ۔مگر یہ یاد رکھیں کہ پارلر والی بھی قدرت کے ہاتھوں مجبور ہوتی ہے ۔اور بعض اوقات کسٹمر کی فرمائشوں کے سبب بھی مجبور ہو جاتی ہے۔

وزن کے ہاتھوں پریشان کسٹمر

3

کسٹمر کی یہ قسم بیوٹی پارلر والی کو کوئی جادو گر سمجھتی ہے ۔اس کا وزن تو ڈھائی من کے قریب ہوتا ہے مگر وہ اپنے وزن کا نصف نظر آنا چاہتی ہے اور پھر اس کی ذمہ داری بھی پارلر والی کو سونپ دی جاتی ہے کہ ایسا میک اپ کرے کہ چہرہ پتلا نظر آۓ یہ پھرایسا ہیر اسٹائل بناۓ کہ وزن کم دکھے ۔اب ان سے کوئی کہے کہ اتنی فکر اگر آپ اپنے کھانے پینے کی کر لیتیں تو آج یہ دن تو نہ دیکھنا پڑتا ۔

ناک پر مکھی نہ بیٹھنے دینے والی کسٹمر

4

ایسی کسٹمر بیوٹی پارلر والی کے لۓ سب سے بڑا امتحان ہوتی ہے کیوںکہ اس کو ہر چیز انوکھی چاہۓ ہوتی ہے جو کسی کی نہ ہو ۔اس کا میک اپ ،ہیر اسٹائل یہاں تک کہ فیشل کرنا بھی ایک امتحان ہوتا ہے ۔ہر بات پر یہ جملہ سننے کو ملتا ہے کہ یہ تو آپ نے اس کو بھی لگایا تھا مجھے مت لگایۓ گا مجھے سوٹ نہیں کرتا ہے ۔یا پھر میری بروز اس کی طرح مت بنائیے گا وہ تو پوڑی چڑیل دکھتی ہے ۔

اس کے علاوہ بھی کسٹمر کی بے انتہا قسمیں ہوتی ہیں مگر دکانداری کا ایک بنیادی اصول ہے نا کہ کسٹمر ہمیشہ صحیح کہتا ہے لہذا ہر پارلر والی اس اصول پر اپنی دکان چلاتی رہتی ہے ۔

 

To Top