آصف علی زرداری کی عجب کرپشن کی غضب کہانی

آصف علی زرداری کی عجب کرپشن کی غضب کہانی

آصف علی زرداری کی 23 دسمبر کو واپسی اور ان کے استقبال کی تیاریاں دیکھ کر عقل محو حیران ہے اور دل پاکستان کی قوم کے اتنے خراب حافظے پر ماتم کر رہا ہے ۔

اپنی قلمی ذمہ داریوں کی تکمیل کرتے ہوۓ آصف علی زرداری صاحب کی ماضی کی ایک جھلک پیش کرنا چاہوں گی جس کو میری راۓ نہ سمجھا جاۓ بلکہ تاریخ کے تناظر میں صرف واقعاتی بنیاد پر دیکھا جاۓ اور فیصلہ کیا جاۓ کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں۔

 

جولائی 1955 کو سندھ میں پیدا ہونے والے آصف علی زرداری کو قوم نے تب جانا جب کہ وہ 1987 میں قوم کے ہر دلعزیز لیڈر ذوالفقار علی بھٹو شہید کی بیٹی بے نظیر بھٹو کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوۓ اور اس سے اگلس ہی سال بی بی کے وزیر اعظم بننے کے سبب فرسٹ جنٹل مین کے خطاب کے حقدار ٹھہرے۔

1

اگرچہ اس دوران انہوں نے عملی سیاست میں حصہ نہیں لیا مگر فرسٹ جنٹل مین کی حیثیت سے اپنے سیاسی اثر و سوخ کا اتنا فائدہ اٹھایا کہ 1990 میں ہی اس حکومت کے خاتمے کا سبب بنے اور 10 اکتوبر 1990 کو اغوا ، بد عنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں جیل جا بیٹھے ۔

25 جولائی 1991 کو سنگاپور ائیر لائن کی فلائٹ نمبر 117 کو اغوا کیا جاتا ہے اور ہائی جیکر مطالبہ کرتے ہیں کہ آصف علی زرداری کو جیل سے رہا کیا جاۓ یہ ایک علیحدہ بات ہے کہ سنگاپوری گورنمنٹ نے مطالبات ماننے کے بجاۓ کمانڈو ایکشن کے ذریعے مسافروں کو بازیاب کر وا لیا ۔

اسی دوران عبوری وزیر اعظم غلام مصطفی جتوئی نے پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ہونے والی مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا اعلان کیا اور قوم کو بتایا کہ ان کے دور حکومت میں ہر منصوبے کے آغاز سے قبل یا قرضے کی ہر درخواست کی منظوری سے قبل دس فی صد حصہ لازمی طور پر آصف علی زرداری کو دیا جاتا تھا، یہی وجہ تھی کہ آصف علی زرداری کو آج تک مسٹر ٹین پرسینٹ کے نام سے پکارا جاتا ہے ۔

00

اسی دور میں ہونے والے انتخابات میں قوم ان کو پھر منتخب کرتی ہے اور1993 میں وہ ضمانت پر رہا ہوتے ہیں ۔

 

ان کے دیگر مقدمات پر بات کرنے کے بجاۓ مختصرا بیان کرتے ہیں کہ 1993 میں جب ان کی جماعت دوبارہ اقتدار میں آئی تو اس دوران بھی ان پر لگنے والے الزامات اور قائم ہونے والے مقدمات کا سلسلہ نہیں رکا اس دفعہ بھی ان کی حکومت تقریبا دو سال ہی چل سکی۔

اس دور حکومت کی اہم بات آصف علی زرداری اور ان کے سالے مرتضی بھٹو کے درمیان ہونے والی لڑائی تھی جس کا خاتمہ ستمبر 1996 کو ہوا جب پولیس نے مرتضی بھٹو کو ان کے سات ساتھیوں سمیت ان کے گھر کے سامنے ہی مار ڈالا ان کے قتل کا الزام نصرت بھٹو اور مرتضی بھٹو کی بیوہ غنوی بھٹو نے آصف علی زرداری ہی پر لگایا اور اسی لۓ مرتضی کے مرنے کے سات ہفتوں بعد ہی صدر فارو‍ق لغاری نے ایک بار پھر پیپلز پارٹی کی حکومت کا خاتمہ کر دیا اور اس بار بھی سبب بنے آصف علی زرداری۔۔۔

4

 

اور اب 1996 میں ان کو ایک بار پھر گرفتار کر لیا گیا اس بار بھی ان پر الزامات کی فہرست کوئی نئی نہ تھی بلکہ اس میں اغوا کے ساتھ ساتھ قتل کا اضافہ بھی ہو گیا تھا اور کرپشن تو پہلے ہی ان کے گھر کی لونڈی تھی۔

اس دوران ایک بار سینٹ کے رکن بھی منتخب ہوۓ اور 2005 میں صدر پرویز مشرف کے ساتھ بیک ڈور مذاکرات کے سبب آزاد ہو کر خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرتے ہوۓ دبئی چلے گۓ اور پھر 27 دسمبر 2007 کو بی بی کی شہادت پر واپس آۓ اور کو چئیرمین پیپلز پارٹی کی سیٹ سنبھال لی ۔

3

ان کے سوئس بینک میں موجود اکاونٹ، سرے محل، اور یہ سب مقدمات ان کے سیاسی ماضی کا ثبوت ہیں اور پھر بھی کمزور حافظے والی قوم آج پورا کراچی بند کر کے چلو چلو ائیر پورٹ چلو کے نعرے لگا رہی ہے۔

کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائيں کیا؟

To Top