Parhlo Urdu

پڑھئیے سولہ سالہ بیٹی کی آپ بیتی جسے اسکے ہی باپ نے حاملہ کر دیا

میری ماں کا انتقال میرے بچپن ہی میں ہو گیا تھا اس وقت میری عمر صرف چھ برس تھی مجھ سے دو چھوٹی بہنیں بھی تھیں جن کو سنبھالنا بھی میری ہی ذمہ داری ٹھہری تھی۔ میرا باپ سبزی کا ٹھیلا لگاتا تھا اور ہماری گزر بسر انتہائی تنگی سے ہوتی تھی کیونکہ اس قلیل آمدنی میں بھی میرا باپ شراب نوشی کا شوق بھی پورا کیا کرتا تھا ۔

میرے لۓ اسکول جانے کا تصور بھی محال تھا ۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر میرا باپ مجھے روئی کی طرح دھنک کے رکھ دیتا تھا میں ہر پل اس سے انتہائی خوفزدہ رہتی تھی ۔ میرے باپ کو ہمارا ننھیال والوں سے میل جول قطعی پسند نہ تھا ۔اس لۓ اس نے ہماری ان سے ملنے پر پابندی لگا رکھی تھی ۔

وہ گھر سے باہر جاتے ہوۓ ہم بہنوں کو باہر سے تالا ڈال کر بند کر دیتا تھا ۔ اور جب واپس آتا تو شراب کھول کر بیٹھ جاتا تھا ۔ ہمارے دن رات عجیب تاریکی میں گزر رہے تھے ہمارا گھر صرف ایک ہی کمرے پر مشتمل تھا ۔ میرے ابو کا اور میرا بستر ساتھ ساتھ جڑا ہوتا ۔ کمرہ اتنا چھوٹا تھا کہ اس میں دور دور بستر بچھانے کا سوچنا بھی محال تھا ۔

مجھے احساس ہوا کہ جب رات کی تاریکی چھا جاتی تو میرے جسم پر رات کی تاریکی میں کچھ ایسے لمس رینگنے لگتے جو کہ میرے لۓ انتہائی ناپسندیدہ ہوتے ۔ اس وقت کم عمری کے سبب مجھے اس بات کا شعور نہیں تھا کہ میرے ساتھ کچھ غلط ہو رہا ہے ۔ ایک دن تو انتہا ہو گئی میں نہا رہی تھی اور میرے ابو دروازہ کھول کر اندر آگۓ اور اس کے بعد انہوں نے میرے ساتھ جو کچھ کیا وہ بیان کرنے سے میں قاصر ہوں ۔

ان کے خوف کے سبب میں کسی کے سامنے زبان بھی نہیں کھول سکتی تھی ان کی حرکتیں بڑھتی جا رہی تھیں۔ میں ہر لمحے خوفزدہ رہتی باہر کی دنیا سے بھی کوئی رابطہ نہ تھا کہ میں کسی کو ان کے بارے میں بتا سکتی ۔

یہ سب بھگتتے بھگتتے دس سال گزر گۓ میں بالغ ہو گئی میرا باپ میری بہنو ں کے اسکول جانے کے بعد گھر آجاتا اور وحشت اور بربریت کا یہ کھیل میرے ساتھ کھیلتا مجھے اب اس کو اپنا باپ کہتے ہوۓ بھی گھن آتی تھی۔

ایک دن میری طبیعت بہت خراب تھی ۔مجھے بہت چکر آرہے تھے ۔ میں چکرا کر گری اور بے ہوش ہو گئی میرا باپ مجھے اٹھا کر ڈاکٹر کے پاس لے گیا مگر اس سے پہلے اس نے مجھے دھمکا دیا کہ میں نے کسی کو کچھ بتایا تو وہ مجھے نہیں چھوڑے گا ۔

ڈاکٹر نے جب میرا معائنہ کیا تو اس نے مجھے بتایا کہ میں حاملہ ہوں اس نے جب مجھ سے میرے شوہر کے بارے میں پوچھا تو میں نے اس کو بتایا کم میں غیر شادی شدہ ہوں ۔ تو وہ حیران ہو گئی اور جب میں نے اس کو سب بتایا تو اس نے فورا ہی مجھے اپنے ےکمرے میں چھپا لیا اور تھانے فون کر دیا ۔ تھانے والوں کے استفار پر میں نے ان کو پوری روداد سنائی ۔ پولیس نے میرے باپ کو گرفتار کر لیا ۔

مجھے سمجھ نہیں آتا کہ اس معاشرے میں جب میں اپنے باپ کے ہاتھوں محفوظ نہیں رہی تو میری اور میری بہنوں کا آئندہ مستقبل کیا ہو گا ۔

Snap Chat Tap to follow