گلاب کی پتیاں زینب کی قبر پر پڑی آنسو بہارہی ہیں

گلاب کی پتیاں زینب کی قبر پر پڑی آنسو بہارہی ہیں

Disclaimer*: The articles shared under 'Your Voice' section are sent to us by contributors and we neither confirm nor deny the authenticity of any facts stated below. Parhlo will not be liable for any false, inaccurate, inappropriate or incomplete information presented on the website. Read our disclaimer.

گلاب کی پتیاں زینب کی قبر پر پڑی آنسو بہارہی ہیں اور لحد کی مٹی نم ہے۔ اس ماتمی فضا میں بہت سی افسردہ آوازیں سنائی دے رہی ہیں جو اس نظام اور قانون کو مطعون کرتے ہوئے انصاف کی طلبگار ہیں۔ اب شاید وہ درندہ صفت انسان پولیس کی گرفت میں آجائے۔

شاید اسے پھانسی بھی دی جائے اور انصاف کے تمام تقاضے پورے کر دیئے جائیں، مگر زینب لوٹ کر اس دنیا میں نہیں آئے گی۔ وہ ننھی، معصوم بچی جسے صرف کھیل کود اور کھلونوں کی سمجھ تھی، جسے صرف فرمائش کرنا آتا تھا، جس نے ہر بڑی عمر کے آدمی کو انکل کہنا سیکھا تھا۔ زینب نے اس درندہ صفت انسان کو بھی انکل کہہ کر ہی مخاطب کیا ہو گا، مگر اس کے باطن کی خباثت اور سفاکی سے لاعلم تھی۔

زینب تو صرف کھلونے کی پہچان رکھتی تھی، ایک وحشی کے ارادے، اس کی نیت کیسے جان پاتی۔ اور جب انسان کے بھیس میں موجود اس بھیڑیئے کا اصل چہرہ زینب کے سامنے آیا تو وہ بہت چیخی، چلائی اور روئی ہو گی، مگر کوئی اس کی مدد کو نہیں پہنچ سکا۔

وہ قانون جس کا دعوی ہے کہ اس کی گرفت سے کوئی نہیں بچ پاتا ایک چھوٹے سے شہر کے اندر موجود زینب کو بازیاب نہ کروا سکا۔ قصور کا رقبہ کتنا ہے، پولیس کے اختیارات، پہنچ اور وسائل کے آگے آخر کوئی بڑے سے بڑا مجرم کب تک ٹھہر سکتا ہے۔ ایک دن، دو دن نہیں پورے پانچ روز تک زینب لاپتہ ہی رہی۔ حقیقت یہ ہے کہ پولیس نے اسے تلاش کرنا ضروری نہیں سمجھا۔

وہی روایتی انداز، مشینی رویہ اور بے حسی اس بار بھی ہمارے سامنے ہے۔ یہ پہلا واقعہ نہیں جو اس چھوٹے سے قصور میں رونما ہوا ہے بلکہ ایک سال کے دوران بارہ بچوں کو جنسی زیادتی اور ہراساں کرنے کے بعد سفاکی سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ ہر بار گریہ و زاری، احتجاج اور حکومت مخالف مظاہرے کرکے ہم بھی گھروں میں بیٹھ گئے۔یہ ہمارے نظام کی غفلت اور بے حسی ہی نہیں بلکہ اس معاشرے کی اجتماعی موت کا مظہر ہے۔

قصور میں اغواء کے بعد جنسی زیادتی اور قتل کے واقعات کے بعد کم عمر لڑکوں کا ویڈیو اسکینڈل بھی منظر عام پر آیا لیکن آج تک کسی مجرم کو قرار واقعی سزا نہیں دی گئی۔ حالیہ واقعے کے بعد پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کرکے دو افراد کی زندگی چھین لی۔

میڈیا نے حکومت اور انتظامیہ کی کمزویوں اور نظام کی خرابیوں کی نشاندہی کی تو وزیرِ قانون پنجاب رانا ثناء اللہ کو بہت ناگوار گزرا۔ ان کا کہنا ہے کہ میڈیا معاملے کو ہوا دے رہا ہے۔ معروف شوبز شخصیت حمزہ علی عباسی نے اس پر رانا ثناء اللہ کو آڑے ہاتھوں لیا اور انکے جاہ و جلال کی پرواہ کئے بغیر اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے۔

رانا نثاء اللہ کی بات کا خلاصہ یہ ہے کہ حکومت اپنی ذمہ داری پوری کررہی ہے اور قصور کے ایسے بیشتر کیسز کے ملزمان کو گرفتار کر کے سزائیں دی گئی ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اب تک کسی بھی ملزم کو سزا نہیں ہوئی ہے۔ اور زینب کے کیس میں بھی پولیس کی غفلت سب پر عیاں ہے۔ والدین کا سوال ہے کہ کیا اپنے بچوں کو گھروں میں قید رکھیں؟ ان کا بچپن چھین لیں ان کی خواہشوں کا گلہ دبا دیں اس ڈر سے کوئی ان پھولوں کو نوچ نہ لے۔

ایران کی طرف چلیں تو پچھلے سال ایک سات سالہ لڑکی کے ساتھ ایسی درندگی کا کھیل کھیلا گیا تھا جس پر وہاں بھرے مجمع میں اس وحشی کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ عبرت کا نشان بنا دیا گیا۔

فیصل آباد کے قریب ایک علاقے کے رہائشی فیضان کی عمر پندرہ برس تھی۔ وہ اغوا ہوا اور پولیس بازیاب نہیں کرواسکی۔کچھ دنوں بعد اہل خانہ کو یہ روح فرسا خبر ملی کہ ان کے لخت جگر کی لاش کھیتوں میں پڑی ہے۔ اور پھر تواتر سے ایسے واقعات جیسے قصور میں جنسی درندوں کا غول گھس آیا ہے اور وہ پولیس سے کئی گنا طاقتور ہے اور انتظامیہ کی پہنچ سے دور ہے۔

To Top