آپریشن ردالفساد میں شہید ہونے والے جانباز لیفٹینینٹ کو ماں کا خط

آپریشن ردالفساد میں شہید ہونے والے جانباز لیفٹینینٹ کو ماں کا خط

میرے شہید لعل ، تمہیں ہم سے بچھڑے آج پانچواں روز ہے مگر مجھے آج بھی یقین نہیں آتا کہ تم اب ہم میں نہیں رہے ۔ میرے لعل تمہاری چاروں بہنیں بہت روتی ہیں ۔ وہ تو تمہاری شادی کی تیاری کر رہی تھیں میں ان کو کیسے سمجھاؤں کہ ان کے بھائی کو تو کسی اور نے اپنا دولہا بنا لیا ۔ اس نے تو اپنی شہادت کی دلہن کا ہاتھ تھاما اور جنت میں جا بیٹھا ۔

میرے لعل وطن کی مٹی بھی ماں جیسی ہوتی ہے اس کی حرمت اپنی جان سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے ۔اور حرمت کی حفاظت تبھی ہوتی ہے جب شہیدوں کے خون کی سرخی سے اس حرمت کی حفاظت کی جنگ لڑی جاۓ ۔ مجھے فخر ہے کہ میں تمہارے جیسے بیٹے کی ماں ہوں ۔

میرے شہید لعل مجھے یاد ہے ایک بار تم کھیلتے ہوۓ گلی میں گر گۓ تھے اور تمہارا گھٹنا چھل گیا تھا اور تم کتنا رو رہے تھے تمہیں روتے دیکھ کر میں نے بھی رونا شروع کر دیا تھا ۔ میری جان جب ان دہشت گردوں نے تم پر گولیاں برسائی ہوں گی تو تمہیں کتنا درد ہوا ہو گا نہ ۔ مجھے پکارا تو ہو گا تم نے اس پل ۔ کاش میں اس پل آکر تمہیں اپنی آغوش میں لے لیتی ۔تمہارے ہر درد کو اپنے آنچل میں چن لیتی ۔

سوچتی ہوں کہ میری جیسی کتنی مائیں اپنے بیٹوں کی شہادت کے بعد سینے پر شہید بیٹے کی شہادت کا اعزاز لگاۓ میری طرح اپنے بیٹوں کے لۓ کتنا تڑپتی ہوں گی ۔آخر کب تک کبھی آپریشن ضرب الغضب اور کبھی آپریشن ردالفساد کے نام پر اپنے جوانوں کی لاشیں اٹھاتے رہیں گے ۔

تم کہا کرتے تھے کہ تم بزدلوں کی طرح نہ جی سکتے ہو اور نہ مر سکتے ہو تم نے واقعی صحیح کہا تھا ۔تمھاری بہادری کی تو آج پوری قوم تعریف کر رہی ہے ۔ تمہار ے سینے پر لگے گولیوں کے نشان میری آنکھوں کے سامنے سے نہیں ہٹتے ۔میں کیا کروں میں ایک ماں ہوں نہ ، مجھے تمھارے سینے پر لگے زخموں کے نشان اور ان میں ہونے والا درد سونے نہیں دیتا ۔

بہت دکھتا ہے میرا یہ کلیجہ ، میری تو خواہش تھی کہ مجھے لحد میں تم اتارتے اب اگر میں مر جاؤں گی تو مجھے قبر میں کون اتارے گا ۔ تمھارے باپ کے گزرنے کے بعد مجھے یہ یقین تھا کہ اگر مجھے کچھ ہو گیا تو تم تو ہو مگر اب تو مجھے مرتے ہوۓ بھی ڈر لگتا ہے ۔

میرے شہید لعل میں تمھارے لۓ اداس نہیں ہوں مگر کیا کروں یہ دل یہ ہر پل تمھیں ہی پکارے جا رہا ہے تمہیں دیکھنا چاہتا ہے تمھیں چھونا چاہتا ہے ۔میں رونا نہیں چاہتی مگر میرے آنسو میرے بس میں نہیں ہیں ۔ بس آخر میں صرف اتنا کہوں گی کہ ہر آتی جاتی سانس کے ساتھ بہت یاد آتے ہو ، دعا کرنا کہ اللہ مجھے بھی جنت میں تمھارے ساتھ رکھے۔ آمین

تمھاری ماں

To Top