کیا آپ جانتے ہیں پاکستان کے نامزد وزیر اعظم عمران خان اور ترکی کے طیب اردگان میں کیا کیا مشترک ہے

کیا آپ جانتے ہیں پاکستان کے نامزد وزیر اعظم عمران خان اور ترکی کے طیب اردگان میں کیا کیا مشترک ہے ؟

موجودہ حالات میں اگردیکھا جاۓ تو مسلم امہ کے لیے یہ ایک اہم گھڑی ہے جب کہ اس وقت مسلمانوں کو دو ایسے قائد میسر ہیں جو کہ انتہائی طاقتور اور بہادر ہیں ان کے دل کے  اندر ایک جانب تو مسلم امہ کے لیۓ درد ہے اور دوسری جانب اتنا حوصلہ ہے کہ وہ مغربی طاقتوں کے غلط کو غلط کہہ سکتے ہیں

ان میں سے ایک رہنما ترکی کے طیب اردگان ہیں جب کہ دوسرے پاکستان کے نامزد وزیر اعظم عمران خان ان دونوں کی زندگی میں بہت ساری ایسی قدریں موجود ہیں جو مشترک ہیں اور ان کو دیکھتے ہوے ہم یہ امید کر سکتے ہیں کہ عمران خان بھی پاکستان کو اتنا ہی مضبوط ملک بنانے میں کامیاب ہو سکے گا جس طرح طیب اردگان نے ترکی کو بنایا تھا

ابتدائی زندگی

رجب طیب اردگان   1954ء میں ایک غریب کوسٹ گارڈ کے گھر استنبول کی نواحی بستی ”قاسم پاشا“ میں پیدا ہوے بچپن میں ٹافیاں اور ڈبل روٹی بیچنا شروع کی اور ساتھ تعلیم بھی جاری رکھی۔ 1965ء میں گریجویشن اور 1981ء میں بزنس ایڈمنسٹریشن میں ڈگری حاصل کی طیب اردگان اپنی زندگی کے ابتدائی دور میں فٹ بال کے اچھے کھلاڑی تھے

عمران خان کی پیدائش 1952 میں لاہور میں ہوئي معاشی طور پر ان کا تعلق ایک سفید پوش گھرانے سے تھا ان کے والد ایک سیاسی ملازم تھے عمران خان ان ابتدائی تعلیم لاہور سے اور اعلی تعلیم انگلینڈ سے حاصل کی جہاں انہوں نے سیاسیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اپنی زندگی کے ابتدائي حصے میں عمران خان  نے کرکٹ کے میدان میں کافی اہم کامیابیاں حاصل کیں

سیاسی زندگی

طیب اردگان نے 1976 میں سیاست میں قدم رکھا مگر ان کا آغاز بہت خاطر خواہ اور حوصلہ افزا نہ تھا اٹھارہ سال تک کے طویل سیاسی سفر کے دوران انہیں بہت سارے پاپڑ بیلنے پڑے اس دوران ان کو جیل بھی جانا پڑا مگر وہ سخت محنت اور مضبوط قوت ارادی کے سبب تمام مشکلات کا سامنا انتہائي جوصلے سے کرتے رہے یہاں تک کہ 1994 میں پرکی کے سب سے بڑے شہر استنبول کے مئیر منتخب ہوۓ ۔ یہ شہر اس وقت جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں ہرغمال تھا اور بدترین امن و امان کے مسائل کا شکار تھا مگر طیب اردگان کی سیاسی بصیرت کے سبب دو سال کے قلیل عرصے میں اس شہر میں واضح تبدیلی آئی

عمران خان نے 1996 میں عملی سیاست میں قدم رکھا اور اٹھارہ سال تک کی طویل جدوجہد کے بعد 2013 میں اس قابل ہوۓ کے خیبر پختونخواہ میں اپنی حکومت قائم کر سکے استنبول کی طرح خیبر پختونخواہ میں بھی بد امنی ،رشوت خوری اور دہشت گردی نے اس صوبے کی کمر توڑ رکھی تھی مگر عمران خان نے اپنے دور حکومت میں اس صوبے میں ایسے اقدامات کیۓ جس کے سبب اس صوبے کے اندر استحکام پیدا ہوا

دونوں قائدین کو ان کے ملک کی عوام نے ان کی خدمات کے باعث اعتماد سے نوازہ اور ان کو پورے ملک کا وزیر اعظم منتخب کروایا

شہرت

دونوں سربراہ اپنے ملک کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے مقبول ترین اور بااثر ترین سربراہ ہیں جنہوں نے ہمیشہ مسلم امہ کے لیے ہر محاذ پر بہت بہادری اور بے جگری سے جنگ کی ہے اسی وجہ سے یہ دونوں لیڈر صرف اپنے ملک کے لوگوں میں ہی مشہور نہیں بلکہ دنیا بھر کے تمام لوگوں میں مشہور ہیں

پاکستانی قوم کو اب اس حوالے سے بہت توقعات وابستہ ہیں کہ جس طرح طیب اردگان نے ترکی کی کمزور معیشت کو مضبوط کر کے اس کو ترقی کے سفر پر گامزن کیا ہے اسی طوح پاکستان کو عمران خان بھی ترقی کی راہ پرگامزن کر پاۓ گا

 

 

To Top