جنگل کا قانون اور اس کے فیصلے

جنگل کا قانون اور اس کے فیصلے

ایک پرانی کہاوت ہے کہ ایک جنگل میں ایک دفعہ ایک درخت پر ایک چڑیا کا گھونسلہ تھا اس گھونسلے میں چڑیا کے انڈوں سے پانچ بچے نکلے تھے ۔ ایک دن جب چڑیا کھانا لے کر گھونسلے میں واپس آئی تو اس نے دیکھا کہ ایک سانپ بیٹھا اس کے بچے کھا رہا ہے چڑیا کو دیکھتے ہی سانپ بھاگا اور بل میں گھس گیا۔

چڑیا پر تو قیامت ٹوٹ پڑی ۔ اس نے رونا چلانا شروع کر دیا اور رو رو کے دہائی دینے لگی۔ اس کو سب نے مشورہ دیا کہ اس طرح رونے سے کچھ نہ ہو گا سانپ کی شکایت ارباب اعلی سے کرے  تاکہ اس کو سزا دلوائی جا سکے ورنہ اس کے ہاتھوں کسی کا مستقبل محفوظ نہ ہو گا۔ اس کو یہ بات سمجھ آگئی وہ درخواست لے کر پہلے جنگل کی پولیس کے پاس گئی تو چونکہ پولیس والے کمزور چوہے تھے تو انہوں نے چڑیا سے کہا کہ چونکہ تمھارے پاس سانپ کے خلاف کوئی گواہ نہیں ہے اور قانونی کتابوں کے مطابق تمھاری گواہی قبول نہیں ہو سکتی لہذا پہلے واقعے کا کوئی چشم دید گواہ لے کر آؤ پھر پرچہ کٹے گا۔

07

Source: crimsonrose2 – DeviantArt

اس در سے مایوس ہونے کے بعدوہ چڑیا روتی دھوتی عدالت پہنچی کہ مجھے انصاف دلایا جاۓ۔ پہلے تو جج صاحبان نے اس کو ٹالنے کی بہت کوشش کی کیونکہ سانپ سے براہ راست کوئی دشمنی نہیں لینا چاہتا تھا مگر آخر کار اس چڑیا کے شور اور ہنگامے سے تنگ آکر انہوں نے ایک کمیشن تشکیل دے دیا۔ پہلے دن کی سماعت میں بظاہر سانپ کو خوب برا بھلا کہا گیا اور پھر چڑیا سے مطالبہ کیا گیا کہ تم اپنے دعوے کے حق میں ثبوت عدالت میں پیش کرو۔

اگلے دن چڑیا پھر عدالت میں موجود تھی ۔ اس سے پہلا سوال پوچھا گیا کہ کیا تمھیں واقعی لگتا ہے کہ سانپ نے تمھارے بچے کھاۓ ہیں؟ اس کا کیا ثبوت ہے؟ اور اس کا کیا ثبوت ہے کہ تمھارے بچے بھی تھے؟ ہو سکتا ہے تم ایک بانجھ ہو ؟ اور تم نے یہ کیس صرف اور صرف سانپ جیسی مقتدر ہستی کو پریشان کرنے کے لۓ کیا ہو؟ جواب میں سانپ نے اس دن پڑوسی جنگل میں ہونے والی ایک دعوت کا ثبوت پیش کر دیا جس کے مطابق سانپ اس دن پڑوسی جنگل کی ایک دعوت میں مدعو تھا ۔

تمام ثبوتوں کو دیکھتے ہوۓ عدالت نے چڑیا کو سانپ جیسی باعزت ہستی کو پریشان کرنے کے سبب ہرجانے کی سزا سنائی ۔ یہ واقعہ پڑھ کر مجھے تو پانامالیکس کی ہونے والی سماعت اور اس کے آنے والے فیصلے کا پہلے سے پتہ چل گيا ہے آپ کو کیا لگتا ہے؟

To Top