فیس بک پر جعلی پیر کا کارنامہ، جس نے توہم پرستی کی نئی داستان بنا ڈالی

فیس بک پر پیر کے دیدار سے جن بھاگ گیا ، جعلی پیر کا ایسا کارنامہ جس نے توہم پرستی کی نئی داستان بنا ڈالی

فیس بک پر جعلی پیر

جعلی پیر اور ان کے مریدوں کے اعتقاد کی داستانیں کوئی نئی بات نہیں ہیں اندھی تقلید کے سبب ان پیروں کی پیروی میں مرید ایسے ایسے کام کر گزرتے ہیں جن کو دیکھ کر انسانی عقل حیران و پریشان ہو جاتی ہے پاکستانی قوانین کے تحت اگرچے اس کاروبار کو خلاف قانون گردانا جا تا ہے اس کے باوجود اس میں کمی آنے کے بجاۓ دن بدن اضافہ ہی دیکھنے مں آرہا ہے

فیس بک پر جعلی پیر کی پروموشن

سوشل میڈيا کی بڑھتی ہوئي ترقی کے سبب جعلی پیروں نے اب سوشل میڈیا کو ہی اپنی پروموشن اور شہرت کے لیۓ استعمال کرنا شروع کر دیا ہے یہاں تک کہ اب ایسے پیر بھی سامنے آگۓ ہیں جو فیس بک کے ذریعے ہی دم درود کرتے ہیں اور ان کا یہ ماننا ہے کہ فیس بک کے ذریعے بھی ان کے کیۓ گۓ دم درود انتہائی موثر ثابت ہوتے ہیں

 جعلی پیر

حالیہ دنوں میں ایسے ہی ایک پیر کی ویڈيو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ ایک نوجوان کے والد کے ساتھ موجود ہیں جن کا یہ کہنا ہے کہ ان کا بیٹا طویل عرصے سے بیمار تھا اور اس کے علاج کے طور پر وہ ہر روز سیکڑوں کی تعداد میں نیند کے انجکشن اپنے بیٹے کو لگاتےتھے مگر اس کے باوجود ان کے بیٹے کی تکلیف اور بے چینی میں کوئی کمی واقع نہ ہوتی تھی

مرید

مگر جب وہ ان  جعلی پیر صاحب کے پاس گۓ تو ان پیر صایب کی لائيو ویڈیو دیکھ کر ان کے بیٹے کے اوپر عاشق جن باہر آگیا اور اس نے فیس بک پر ہونے والے دیدار کے سبب نہ صرف ان کے بیٹے کی جان چھوڑ دی بلکہ ان کے بیٹے کو تنگ کرنا بھی چھوڑ دیا

فیس بک کے ذریعہ دم

اس حوالے سے ان  جعلی پیر صاحب کا یہ بھی فرمانا ہے کہ جب فیس بک پر دیکھنے س جن حاضر ہو سکتا ہے تو دم کا اثر بھی فیس بک سے ہو سکتا ہے بات صرف اور صرف اعتقاد کی ہوتی ہے سوشل میڈیا کی توسط سے جعلی پیروں کا اس طرح اپنے مریدوں کی تعداد میں اضافہ کرنا اور لوگوں تک غلط تعلیمات کا پھیلاؤ ہم سب کے لیۓ ایک لمحہ فکریہ ہے

اگرچہ میڈیا ایسے لوگون کو ب نقاب کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے اس کے باوجود یہ جعلی پیر ایسے دعوی کرتے ہیں جن کا عقل سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا اور غریب لوگ ان کے ان دعوؤ کو نہ صرف تسلیم کرتے ہیں بلکہ ان کے ہاتھوں جانی مالی یہاں تک کہ اپنی عزتوں سے بھی محروم ہو بیٹھتے ہیں

To Top