موت بھی کبھی کبھی بہت مہربان ہو جاتی ہے

موت بھی کبھی کبھی بہت مہربان ہو جاتی ہے

وہ کسی فاسٹ فوڈ کی دکان تھی۔ جس کے شیشے سے اندر جھانکنا اس کو بہت پسند تھا۔ جب بھی اس کو موقع ملتا وہ اس دکان کے شیشے کے پاس جا بیٹھتا تھا ۔ رنگ برنگے لوگ اپنی گاڑیوں سے اترتے اور ان میں سے بعض اس کے پھیلے ہاتھوں پر چند سکے اچھال دیتے تھے ۔ اس کو بہت شوق تھا کہ وہ بھی دیکھے کہ اس دکان میں بننے والا کھانا کیسا ہوتا ہے۔ مگر اس کے پاس کبھی اتنے پیسے جمع ہی نہ ہو پاۓ کہ وہ اس کو خرید سکے۔

اس کی زبان بہت محدود سے ذائقوں سے آشنا تھی۔ صبح چاۓ نامی مشروب جس میں پانی کا تناسب سب سے زیادہ ہوتا تھا۔ دودھ ،پتی اور چینی نہ ہونے کے برابر ، اس کے ساتھ دو پاپے ، جو کہ وہ گلی کی نکڑ والی دکان سے لے کر آیا کرتا تھا۔ یہی اس کا اور اس کے گھر والوں کا ناشتہ ہوتا تھا ۔ پراٹھے اور انڈے کی عیاشی اس نے اپنی پوری دس سالہ زندگی میں ایک ہی بار کی تھی ۔ جب اس کا باپ مرا تھا۔ تو باپ کے کسی دوست نے اس سویرے ناشتہ بھیجا تھا۔

اس کی سمجھ نہیں آتا تھا کہ اس دکان کے بن میں لوگ وہ لوگ ایسا کیا رکھ کر دیتے ہیں کہ اس کی قیمت اتنی زیادہ ہوتی ہے۔ مگر اس کو اس دکان سے آتی سوندھی سوندھی خوشبو بہت پسند تھی۔ وہ گھنٹوں بیٹھ کر اس خوشبو کو سونگھا کرتا تھا۔ اس دن وہ اسی دکان کے سامنے بیٹھا تھا۔کہ ایک بڑی سی گاڑی اس کے سامنے آکر رکی ۔ اس میں سے اسی کی عمر کا ایک لڑکا اپنے باپ اور ماں کا ہاتھ تھامے اترا۔

اس نے ان کی طرف حسرت سے دیکھا۔ کاش اس کے پاس بھی یہ سب کچھ ہوتا ، مگر وہ جانتا تھا کہ یہ اس کا نصیب نہیں ہے۔ اس کے نصیب میں تو گاڑیوں کے گندے شیشے صاف کر کے ڈانٹ پھٹکار سن کر چند سکے ہی وصولنے ہیں۔ یہ سکے بھی شام سے پہلے اس کی ماں لے کر رکھ لیتی تھی کہ اس نے ان کے لۓ کھانے کا سامان لینا ہوتا تھا ۔ کھانا بھی کیا ہوتا تھا پتلی دال اور ایک سخت چپاتی ۔

وہ اپنی ماں سے اکثر کہا کرتا تھا کہ اب اگر کوئی مرا تو وہ لوگوں سے کہے گا کہ اس کو پراٹھا انڈا نہیں کھانا۔ اس کے لۓ اس دکان سے برگر لا کر دے ۔اس کی اس بات پر اس کی ماں اس کو بہت مارتی تھی ۔ پچھلے کئی دن سے اس کی چھوٹی بہن بہت بیمار تھی ۔ علاج کے نام پر ماں خیراتی ادارے سے پانی ملے شربت پلا رہی تھی۔مگر اس سے کچھ افاقہ نہیں ہو رہا تھا ۔

آج صبح تو اس کو چاۓ پاپے بھی نہیں ملے تھے۔ اس کی بہن کی حالت بہت خراب تھی۔ اس نے آج پھر اپنی ماں سے کہا تھا کہ آخر یہ بہن کب مرے گی، اس نے برگر کھانے ہیں۔ اس کی ماں نے اس کو مار کر گھر سے نکال دیا تھا ۔ شام کو جب واپس آیا تو اس نے دیکھا کہ اس کی ماں رو رہی تھی۔ اس کے سامنے اس کی دو سالہ بہن کی لاش پڑی تھی ۔

اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اپنی بہن کی لاش کو گود میں اٹھایا اور باہر بھاگ گیا ۔ بیماری کے سبب وہ ہڈیوں کا ایک مجموعہ بن چکی تھی ۔ وہ تیزی سے بھاگتے ہوۓ بہن کی لاش کو لے کر اس فاسٹ فوڈ کی دکان کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا ۔اس نے آواز لگائي “ضاحب میری بہن مر گئي ہے مجھے مدد چاہۓ ” اس کے بعد اس کے سامنے نوٹ گرتے چلے گۓ ۔

اس کی ماں اس کے پیچھے بھاگتے ہوۓ آئی۔ مگر اس کے سامنے گرتے نوٹوں کو دیکھ کر چپ سادھ کر کھڑی ہو گئي ۔ اس دن ان ماں بیٹے نے اس دکان کے نہ صرف برگر کھاۓ ۔ بلکہ گیس والی بوتل بھی پی ۔

To Top