زبیدہ آپا کی آخری ویڈیو جس میں مرنے سے قبل انہوں نے کیا دعا کی سامنے آگئی

زبیدہ آپا کی آخری ویڈیو جس میں مرنے سے قبل انہوں نے کیا دعا کی سامنے آگئی

زبیدہ آپا کو پاکستان کا ہر گھرانہ جانتا ہے ۔دوسرے لفظوں میں زبیدہ آپا اپنے ٹوٹکوں اور اپنے مشوروں کے ذریعے ہر گھر میں رہتی تھیں ۔چار ہزار ٹی وی شوز میں اپنی پکائی ہوئی ڈشز اور اپنے بتاۓ ہوۓ ٹوٹکوں سے مقبولیت حاصل کرنے والی زبیدہ آپا اب اس دنیا میں نہیں رہیں ۔

زبیدہ آپا کا تعلق فاطمہ ثریا بجیا ، انور مقصود اور زہرہ نگار جیسے ادبی لوگوں کے گھرانے سے تھا ۔دس بہن بھائیوں میں ان کا نمبر نواں تھا ۔ زبیدہ آپا کی خاص بات یہ تھی کہ انہوں نے اپنی زندگی کے پچاس سال ایک مکمل گھریلو ہاو‎س وائف کے طور پر گزارے ۔ان کے شوہر ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں جاب کرتے تھے ۔

شوہر کی ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے اسی کمّپنی میں ایڈوائزری سروس کے انچارج کے طور پر کام سنبھالا اور آٹھ سال تک وہاں کام کیا ۔اس کے بعد اٹھارہ سال قبل میڈیا کو جوائن کیا ۔اس کے بعد پلٹ کر نہیں دیکھا ۔میڈیا کے ہر چینل پر ان کے کیے جانے والے پروگرامز کی تعداد چار ہزار تک تھی ۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں کھانا پکانے کا شوق تھا اسی سبب وہ عام طور پر ڈیڑھ دو سو افراد کی دعوتوں کا انتظام تنہا ہی بغیر کسی کیٹرنگ سروس کی مدد کے کر لیا کرتی تھیں ۔ اسی سبب انہوں نے ہمیشہ ان ٹوٹکوں کا استعمال کیا جو انہوں نے اپنی ماں اور دیگر بزرگ خواتین سے سیکھے تھے اور ان ٹوٹکوں ہی کے سبب اب زبیدہ آپا ہمارے دلوں میں اور ہمارے گھروں میں ہمیشہ موجود رہیں گی ۔

کل رات زبیدہ آپا کے انتقال کی خبر نے پورے پاکستان کو افسردہ کر دیا ۔ان کے خاندانی ذرائع کے مطابق محتصر علالت کے بعد ان کا انتقال حرکت قلب بند ہونے کے سبب ہوا ۔

https://www.facebook.com/pakbnews/videos/645273185596325/

زبیدہ آپا کی موت درحقیقت درحقیقت مشرقی روایات اور رواداری کے  ایک دور کا خاتمہ ہے ان کا شمار ہماری معاشرت کی ان ستونوں میں ہوتا تھا جو کہ نئی نسل کے لیۓ مشعل راہ تھے ۔مشرقی اقدار کو جس طرح ان کے خاندان نے سنبھالا وہ ہمارے لیۓ ایک مثال ہے اپنے مرنے سے قبل آخری پیغام میں بھی نۓ سال کی مبارکبد دیتے ہوۓ زبیدہ آپا نئی نسل کو اسی بات کا درس دے رہی تھیں کہ سب دعا کریں کہ کراچی دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کرے تاکہ آنے مالی نسلیں بھی اس سے فیض پا سکیں ۔

ان جیسے لوگوں کا ہم سے جدا ہونا ایک بڑے سانحہ سے کم نہیں ۔اللہ ان کو جوار رحمت میں جگہ دے اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرماۓ ۔

To Top