زندگی گلزار ہے میں زارون کے کردار کے ان نئۓ رنگوں نے سب کو حیران کر دیا

زندگی گلزار ہے میں زارون کے کردار کے ان نئۓ رنگوں نے سب کو حیران کر دیا

زندگی گلزار ہے وہ ڈرامہ ہے جس نے پاکستانی ڈراموں کی مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیۓ ۔آج بھی اس ڈرامے کو پسند کرنے والے دنیا بھر میں موجود ہیں ۔اس ڈرامے کی شہرت صرف پاکستان تک ہی محدود نہ رہی بلکہ اس کی مقبولیت نے پڑوسی ملک بھارت کو بھی اب تک اپنا دیوانہ بنا رکھا ہے ۔

[adinserterblock=”15″]

مشہور معروف مصنفہ عمیرہ احمد کے ناول زندگی گلزار ہے کو اس ڈرامے میں ڈرامائی صورت میں پیش کیا گیا جس میں مرکزی کردار فواد خان اور صنم سعید نے ادا کیۓ ۔ اس ڈرامے کی سب سے خاص بات زارون  کا کردار تھا ۔جس کے اسمارٹ اور ہینڈسم لک کے سبب ہر لڑکی اس بات کی خواہش مند ہو سکتی ہے کہ اللہ اس کو بھی ایسا جیون ساتھی عطا کرے ۔

مگر جیسے جیسے ڈرامہ آگے بڑھتا گیا اور زرعون کا کردار کھل کر سامنے آتا گیا تو اس کے کردار کو دیکھ کر بہت ساری لڑکیاں اس بات سے کترانے لگیں کہ زارون جیسا شخص ان کا جیون ساتھی بن سکے ۔

زارون اپنی طالب علمی کے دور میں ایک فلرٹ لڑکا تھا

زارون کا تعلق ایک بہت امیر گھرانے سے بتایا گیا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے اس کو اچھی صورت اور ذہانت سے بھی نوازا تھا ۔جس کا اس کو بخوبی احساس تھا ۔اسی سبب اس کے گرد ہمیشہ یونی ورسٹی کی لڑکیوں کا ہجوم ہوتا تھا ۔اور وہ ان کے درمیان راجہ اندر کی طرح براجمان ہوتا ۔

اس کے ساتھ ساتھ اس کے لیۓ اس بات کو قبول کرنا ناممکن تھا کہ کوئی اس کو نظر انداز کرے ۔اسی سبب وہ ہمیشہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کشف کو اس کی غربت اور کم صورتی کے سبب تضحیک کا نشانہ بناتا تھا ۔

زارون ایک حاکمیت پسند آدمی تھا

اپنے طالب علمی کے دور ہی میں اس کی منگنی اس کی فرینڈ اسمارا سے ہو جاتی ہے ۔منگنی کے بعد وہ اسمارا کو اپنی ملکیت تصور کرتا ہے ۔اس کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی منگیتر اس کو اپنی تمام روٹین سے آگاہ کرے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی روٹین کی ترتیب بھی اس کی اجازت سے کرے ۔

اسی سبب جب اس کی منگیتر اسمارا اس کو بتاۓ بغیر ملک سے باہر گئی تو اس سے اس کی حاکمیت پسندی کو بہت ٹھیس پہنچی اور اس نے منگنی توڑنے کا اعلان کر دیا کیوںکہ اس کو لگا کہ وہ اس لڑکی کو اپنے زیر تسلط نہیں رکھ پاۓ گا ۔

زارون انتہائی قدامت پرست مرد تھا

تعلیم مکمل ہونے کے بعد کشف اور زارون دونوں سی ایس ایس کا امتحان پاس کر کے ایک پروجیکٹ کے سلسلے میں ایک ساتھ کام کرتے ہیں اس دوران زارون کشف کی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے ۔جب اس کا استاد اس سے اس تبدیلی کی وجہ دریافت کرتا ہے تو وہ بتاتا ہے کہ اس کو کشف کے کردار کی مضبوطی نے اپنی جانب متوجہ کیا ۔

یعنی زارون ایک ایسا مرد ہے جو کہ اپنی بیوی کے بارے میں اس بات کا خواہشمند ہوتا ہے کہ اس کی بیوی کا کردار مضبوط ہونا چاہیۓ ۔جب کہ دوسری جانب وہ خود اپنے لیۓ لڑکیوں سے فلرٹ کرنا جائز سمجھتا ہے ۔

زارون ایک آزاد خیال اور ذہین عورت کو پسند نہیں کرتا تھا ۔

کشف سے شادی کے بعد اس نے اس کو یہ بتایا کہ وہ ایک قدامت پسند انسان ہے اور اس بات کو بالکل پسند نہیں کرتا کہ اس کی بیوی آزاد خیال ہو یا ذہانت میں اس سے آگے ہو ۔مرد کو گھر کا سربراہ ہونا چاہیے اور اس کو حکومت کے اختیارات حاصل ہونے چاہیے ہیں

زارون ایک شکی انسان تھا

زارون اس بات پر بہت ناراض ہوا کہ کشف نے اس کو یہ کیوں نہیں بتایا کہ شادی سے قبل اسے اس کے ایک اور کلاس فیلو نے اس کو شادی کے لیۓ پرپوز کیا تھا ۔اور دوسری جانب زارون شادی کے بعد بھی اپنی سابقہ منگیتر کے ساتھ چھپ چھپ کر رابطے میں تھا ۔

ان تمام وجوہات کی بنا پر زارون کی تمام تر وجاہت کے باوجود کوئی بھی لڑکی اس جیسے انسان کا انتخاب اپنے جیون ساتھی کے طور پر کرنے سے قبل ہزار بار سوچے گی ۔کہ وہ اپنی زندگی کا سفر ایسے انسان کے ساتھ گزار سکتی ہے یا نہیں جس میں یہ تمام خامیاں موجود ہوں گی ۔

 

 

 

To Top