ضمیر کے قیدی کی سچی داستان جس نے محبت میں سب کچھ برباد کرڈالا

ضمیر کے قیدی کی سچی داستان جس نے محبت میں سب کچھ برباد کرڈالا

اللہ نے انسان کی فطرت میں ضمیر رکھ کر اس کے اندر ایک میزان بنا ڈالا ہے جس پر وہ تول کر اچھے اور برے عمل کا فیصلہ کرتا ہے ۔ اچھائی اور برائی درحقیقت انسان کے اپنے اندر پوشیدہ ہے یہ علیحدہ  بات ہے کہ بعض اوقات انسان کی برائی اس کی اچھائی پر غالب آجاتی ہے

ضمیر کی سزا دنیا کی کسی بھی سزا سے بری اور بدترین ہوتی ہے اور میں بھی اسی سزا کا سامنا کر رہا ہوں ۔ میرا نام دین محمد ہے اور میرا تعلق پنجاب کے ایک گاؤں سے ہے میں نے جب ہوش سنبھالا تو اپنے گھر کے ہر فرد کو محنت کرتے ہوۓپایا ۔میرے ابو ایک زمیندار کے مزارعے تھے اور میری ماں اسی ذمیندار کے گھر پر کام کاج کیا کرتی تھی

دن کی روشنی کی پھیلنے سے قبل میرے ماں باپ اور میرے دو بھائی ابو کے ساتھ کام کے لیۓ چلے جاتے تھے میں سب سے چھوٹا تھا اور لاڈلا بھی تبھی میں گھر پر ہی سوتا رہتا اور میرے ذمے بارہ بجے ابو کا کھانا پہنچانے کی ذمہ داری تھی جو میری بہنیں تیار کرتی تھیں ۔


ہمارے گاؤں میں موجود اسکول کے اندر زمیندار کی بھینسیں بندھی ہوتی تھیں اسی وجہ سے گاؤں کے بچوں کی تعلیم کا کوئی انتظام نہ تھا گاؤں کے بچے یا تو گلیوں میں کھیلتے رہتے یا پھر اپنےماں باپ کا ہاتھ بٹایا کرتے تھے ۔

میں سولہ سال کی عمر کو پہنچ چکا تھا مگر ابھی تک گاؤں کے بچوں کے ساتھ گلی ڈنڈہ اور کنچے کھیلا کرتا تھا ۔ انہی دنوں میری دوستی برابر گاؤں کے ایک بڑے لڑکے سے ہو گئی جس کا نام فیروز تھا  اس کی باتیں ہم سب لڑکوں کو بہت دلچسپ لگا کرتی تھیں

گلے میں لٹکے رومال کو جب وہ ایک انداز سے جھٹکتے ہوۓ ، عجیب سے لہجے میں جب لڑکیوں کا ذکر کرتا تو میرے دل کی دھڑکن عجیب سی ہو جاتی تھی اور میرا دل چاہتا کہ وہ بولتا رہے اور میں سنتا رہوں

اسی نے بتایا کہ برابر والے گاؤں میں ایک کمھارکے گھر اس کی اکلوتی بیٹی ہے جس کے حسن کی مثال اس سارے علاقے میں موجود نہیں وہ ہر روز اس لڑکی کے حسن کے قصے بیان کرتا تھا جس سے مجھے بھی اس کو دیکھنے کا اشتیاق ہوا اور ایک دن میں نے گھر والوں سے میچ کھیلنے کا بہانہ کیا اور برابر والے گاؤں جا پہنچا

فیروز کےبتاۓ ہوۓ پتے کے مطابق میں اس حسین لڑکی کے گھر تک جا پہنچا گاؤں کے گھروں کے بیچ میں اونچی دیواریں تو ہوتی نہ تھیں اس لیۓ اس کے گھر کے باہر ہی سے اس کے گھر کا سارا منظر واضح طور پر نظر آرہا تھا جہاں وہ برتن بنانے میں اپنے باپ کا ہاتھ بٹا رہی تھی ۔

اس لڑکی کی خوبصورتی نے جس کا میں نام تک نہ جانتا تھا ایک دم مجھے بڑا کر دیا اور میرے اندر اس لڑکی کے حصول ک خواہش جاگی میرے دل نے کہا کہ کتنا اچھا ہو کہ کسی درخت کی چھاؤں میں ہم دونوں بیٹھے ہوں اور وہ اپنے ہاتھ سے پنکھا جھلتے ہوۓ مجھے کھانا کھلاۓ

اس کو دیکھتے دیکھتے مجھے وقت کا احساس ہی نہ ہوا اور جب ہر سو تاریکی پھیلنے لگی اور وہ نظر آنا بند ہو گئی تب میں واپس اپنےگاؤں کی جانب روانہ ہوا سارا دن میں نے بھوکے پیاسے بس اس کو دیکھتے گزار دیا تھا گھر واپسی کے وقت میرا بھوک سے برا حال تھا

رات ساری اس کے خواب دیکھتے گزری اور سویرے سے قبل ہی میں جاگ چکا تھا مگر چپکے سے لیٹ کر امی ابو کے گھر سے جانے کا انتظار کرتا رہا ا ن کے جاتے ہی منہ پر پانی کے چند چھینٹے مارے جیب میں گڑ اور مکئی کے دانے لیۓ ایک بار پھر میں اس کے گاؤں کی جانب روانہ ہو گیا اور اس کے گاؤں پہنچتے ہی اس کے گھر کے پاس ایسی جگہ ڈیرہ ڈال لیا جہاں سے اس کو واضح طور پر دیکھ سکوں

یہ سلسلہ گئی دن تک جارہی رہا میں نے اسے ایک دن بھی مخاطب کرنے کی کوشش نہیں گی مگر ایک دن اس گاؤں کے لوگوں میں سے کچھ افراد جمع ہو کر میرے ابو کے پاس گۓ اور انہیں میری اس نئی مصروفیت کے بارے میں بتایا جس پر میرے ابو نے مجھے بہت ڈانٹا اور اگلے دن سے مجھے اپنے ساتھ کھیتوں پر ساتھ لے جانا شروع کر دیا وہاں میرا کسی کام میں دل نہ لگتا تھا اور میرے خیال میں بس اسی نازنین کا چہرہ رہتا جس کا میں نام تک نہ جانتا تھا ،

انہی دنوں میری بڑی بہن کی شادی کی تیاری کا آغاز ہوا میرے بہنوئی کا تعلق بھی اسی گاؤں سے تھا جہاں میرے دل کا چین و قرار رہتا تھا ۔ شادی کی تقریبات میں اس دن میری خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا جب میں نے دیکھا کہ برات کے ساتھ وہ بھی آئی ہے ۔

میں نے موقع ڈھونڈ کر اس سے بات کرنے کا فیصلہ کیا اور ایک خاموش سی جگہ پر اس کا راستہ روک کر کھڑا ہو گیا وہ خوفزدہ ہو گئی میں نے چھٹتے ہی اس سے اس کا نام پوچھا اور اس کو  بتا دیا کہ میں اس سے محبت کرنے لگا ہوں اس نے مجھے زور سے دھکیلتے ہوۓ سختی سے اپنے راستے سے ہٹاتے ہوۓ کہا کہ ہم کمھار مٹی سے کھیلنے والے لوگ ہیں ہمیں مٹی میں ہی رلنے دو تم لوگوں میں ہماری کوئی جگہ نہہیں اس لیۓ ایسے خواب مت دکھاؤ

میں نے اس سے درخواست کی کہ گاؤں کے مزار پر آکر کل وہ صرف میری بات سن جاۓ اس کے بعد فیصلہ کرے مگر وہ تیزی سے وہاں سے چلی گئی ۔اگلے دن مزار پر میں نے اس کا انتظار شروع کر دیا سہہ پہر کے وقت وہ وہاں آگئی اس کا مطلب تھا کہ میری بات کی اس کے اندر اتنی تو اہمیت تھی

اس دن ہم نے بہت ساری باتیں کیں میں نے اس کے سامنے اپنا دل کھول کر رکھ دیا میری دیوانگی سے وہ بہت متاثر ہوئی اور اس دن اس نے میرا ہاتھ تھام کر ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھائیں واپسی پر میرے قدم زمین پر نہیں پڑ رہے تھے میں اڑتے ہوۓ گھر پہنچا اور رات بھر اس کے ساتھ کے خواب دیکھتا رہا

اگلے دن میں نے اپنے ابو سے اس کے بارے میں بات کرنے کا فیصلہ کیا اور انہیں سب بتا دیا جواب میں انہوں نے صاف انکار کر دیا کہ کمھاروں کی ذات کی لڑکی ہمارے خاندان کا حصہ نہیں بن سکتی اور ان کا فیصلہ اٹل ہے اس میں کسی قسم کی لچک کی کوئی گنجائش نہیں

ادھر اس کے گھر والوں کو بھی میرے حوالے سے کچھ سن گن مل چکی تھی اسی لیۓ انہوں نے اس کا رشتہ اس کے چچا ذاد کے ساتھ طے کر دیا مجھے اس وقت اور کچھ سمجھ نہ آیا میں اس کے چچا ذار کے پاس گیا اور اس کو کہا کہ جس لڑکی کے ساتھ تم شادی کر رہے ہو وہ مجھے چاہتی ہے اور میرے ساتھ اس کے جسمانی تعلقات بھی ہیں

میرا مقصد صرف یہ تھا کہ وہ یہ سب جاننے کے بعد رشتے سے انکار کر دے مگر اس میں ایسا کرنے کی شائد ہمت نہ تھی اس نے مقررہ تاریخ پر شادی کر لی مگر میری دنیا اندھیر ہو گئی شادی کی پہلی رات اس نے میری معشوقہ کا گھونگھٹ تک نہیں اٹھایا اور کلہاڑیوں کے پے در پے وار کر کے اس کو موت کی گھاٹ اتار دیا

پولیس نے جب اس کو گرفتار کیا تو اس کا کہنا تھا کہ اس لڑکی کا کردار ٹھیک نہ تھا اس وجہ سے اس نے اس مار ڈالا اس کو پولیس نے قید کر دیا مگر میں اس دن سے ضمیر کی قید میں ہوں میرا اوڑھنا بچھونا بس اب وہی مزار ہے جہاں میں اور وہ پہلی اور آخری بار ملے تھے

میری محبت نے اس کو برباد کر ڈالا میرا ضمیر مجھے ایک پل کے لیۓ بھی سکون لینے نہیں دیتا دنیا کی نظر میں میں نے کچھ نہیں کیا مگر میں جانتا ہوں کہ اس کا قاتل کوئی اور نہیں میں ہی ہوں

میں ضمیر کا قیدی ہوں خدا کی عدالت میں میری سزا یہی ہے کہ مین اسی طرح زندہ رہوں ہر دن خود کو اذیت کی صلیب پر چڑھاؤں اور شام ہونے تک خود کو مصلوب رکھوں جب رات کی تاریکی ہر سو پھیل جاۓ تو میں اپنی روح کو اس صلیب سے اتاروں اور گناہوں کے تازیانوں سے اپنی روح کو اس وقت تک مارتا رہوں جب تک کے دن کی سپیدی نہ نمودار ہو جاۓ

 

 

 

 

To Top