زینب کا قاتل اگر عمران ہے تو عوام اس کو تسلیم کیوں نہیں کر رہے

زینب کا قاتل اگر عمران ہے تو عوام اس کو تسلیم کیوں نہیں کر رہے؟

پنجاب حکومت نے آخر کار زینب کے بیہیمانہ قتل کرنے والے کو گرفتار کرنے کا دعوی کر دیا ۔حکومت کے مطابق اس کے قاتل کی گرفتاری ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج کے بعد عمل میں آئی ۔عمران زینب کا نہ صرف پڑوسی ہے بلکہ حکومت کے مطابق یہی وہ سیریل کلر ہے جو کہ قصور میں ہونے والی باقی سات لڑکیوں کے قتل اور جنسی زیادتی میں بھی ملوث تھا ۔

اس طریقے سے پنجاب حکومت نے قصور کے اندر ہونے والے واویلے کا خاتمہ ایک فرد کو گرفتار کر کے کر دیا اور سب مخالفین کے منہ بھی بند کر دیۓ ۔ مگر زینب کے ساتھ ہونے والے سانحے میں پوری قوم نے جس یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور اس کے لیے آواز اٹھائی وہ سب لوگ پنجاب حکومت کی اس پالیسی سے اور ان کے پکڑے اوۓ اس قاتل سے کئی وجوہات کی بنا پر مطمئیں نظر نہیں آتے اور اس کا سبب کچھ اہم نکات ہیں جن کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔

سی سی ٹی وی کی فوٹیج سے اس فرد کی شناخت نہیں ہو سکی

قصور میں ہونے والے اس سانحے اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیج جس کے مطابق زینب اس بندے کے ساتھ جاتی دکھائی گئي تھی اس معاملے کا ایک اہم ثبوت ہے مگر دیکھا جاۓ تو زینب کے خاندان والے یا پھر اس کے محلے والے کسی بھی فرد نے عمران کی شناخت سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے نہیں کی ۔

یہ بات عقلی طور پر ناممکن نظر آتی ہے کہ انسان اپنے محلے دار کی تصویر دیکھے ،اور پھر بھی اس کو شناخت نہ کر سکے جب کہ وہ اسی حلیے میں ہو جس حلیۓ میں وہ دن رات ان لوگوں کے درمیان رہتا ہو ۔ کچھ لوگوں کا یہاں تک کہنا ہے کہ عمران کی شکل اس فرد سے نہیں ملتی جو کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آرہا ہے ۔

مجرم کو میڈیا کے سامنے پیش نہیں کیا گیا

ماضی قریب میں جب فوج نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو گرفتار کیا تھا تو اس کی گرفتاری کے ثبوت کے طور پر اس کی ویڈیو منظر عام پر لے کر آۓ تھے مگر پنجاب حکومت نے عمران کو نہ تو میڈیا کے سامنے پیش کیا اور نہ ہی اس کے اقبالی بیان کو سامنے لاۓ

پنجاب حکومت کا پریس کانفرنس کے دوران زینب کے والد کے ساتھ سلوک

https://www.facebook.com/Jokrkhabarnam/videos/752918871564298/

اپنے افسران پر تعریف کے ڈونگرے بجاتے وزیر اعلی پنجاب نے زینب کے والد کو میڈیا کے نمائندوں سے بات کرنے کا موقعہ کیوں نہیں دیا کیا بات ہے جس کی پردہ داری کی جا رہی ہے ۔اور ایک اور ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس کے مطابق وزیر قانون پنجاب زینب کے والد کو کہہ رہے ہیں کہ زینب کے قاتل کو پھانسی دینے کے علاوہ مذید کوئی مطالبہ نہ کیجیۓ گا ۔

ان کے وہ کون سے مطالبات ہیں جو پنجاب حکومت نہیں چاہتی کہ میڈیا کے سامنے کیۓ جائیں ۔کس بات کی پردہ پوشی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ؟

زینب کے والد کے علاوہ باقی سات لڑکیوں کے والدین پریس کانفرنس کے وقت موجود کیوں نہ تھے

پنجاب حکومت نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ عمران ایک سیریل کلر تھا اور دیگر سات لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل میں بھی یہی شخص ملوث تھا ۔اگر اس بات میں حقیقت تھی تو پھر باقی لڑکیوں کے والدین کو پریس کانفرنس کے وقت کیوں پیش نہیں کیا گیا ؟ کیا ان لڑکیوں کے ڈی این اے بھی کرواۓ گۓ تھے یا پھر سارے الزامات سے جان چھڑانے کے لیے پنجاب حکومت نے ایک ہی فرد کو بلی کا بکرا بنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔؟

سال 2015 میں ہونے والے سانحہ قصور کو ایک بار پھر چھپا کیوں دیا گیا ہے

میڈیا کے مطابق ملزم عمران ایک چوبیس سالہ نوجوان ہے ۔جس کی تعلیمی قابلیت پرائمری سے زیادہ نہیں ہے ۔ اور وہ یہ تمام وارداتیں انفرادی طور پر کرتا تھا ۔مگر قصور میں 2015 میں ہونے والے پورن ویڈیوز اسکینڈل اور ان ویڈيوز کے ڑارک ویب پر چلاۓ جانے کے بعد قصور میں جنسی زيادتیوں اور قتل کے بڑھتے واقعات کے بارے میں پنجاب حکومت کی خاموشی ذومعنی ہے ۔ایسا لگ رہا ہے کہ وہ زینب قتل کیس کو اپنے گلے سے اتارنے کے لیۓ بہت جلد بازی کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔

اسی وجہ سے اس کے لیۓ انہوں نے جس شخص کا انتخاب کیا وہ تعلیمی طور پر اتنا کمزور ہے کہ اس کو ڈارک ویب اور پورن ویڈیوز کو اپ لوڈ کرنے کی الف بے کا بھی پتہ نہیں ہو گا اس طرح وہ الزام بھی دم توڑ جاۓ گا ۔

سپریم کورٹ کی ڈیڈ لائن

سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کو اس کیس کو حل کرنے کے لیۓ بہتر گھنٹے کی ڈیڈ لائن دی تھی ۔پنجاب حکومت نے اس ڈیڈ لائن کے اندر ہی اس قاتل کی گرفتاری ظاہر کر دی ہے ۔کیا جلدبازی میں پنجاب حکومت بہت سارے حقائق کو مسنح تو نہیں کر رہی ۔اگر ہم چند لمحوں کے لیۓ یہ تصور کر لیتے ہیں کہ ملزم عمران زینب کا پڑوسی تھا تبھی وہ اس کے ساتھ جانے کے لیۓ تیار ہو گئی تو کیا وہ باقی سات لڑکیوں کا بھی پڑوسی تھا جن کو وہ اپنے ساتھ بہلا پھسلا کر لے گیا اور ان کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا ۔

جب کہ بظاہر دیگر سات لڑکیوں کا زینب اور اس کے والدین سے اس کے علاوہ کوئی تعلق نظر نہیں آتا کہ ان سب کا تعلق قصور سے تھا ۔اور قصور ایک شہر کا نام ہے ایک محلے کا نام نہیں جہاں پر سب لوگ ایک دوسے کو جانتے ہوں ۔

یہ سب سوال آج پاکستانی عوام کے دلوں میں اٹھ رہے ہیں ان کا جواب ملنا بہت ضروری ہے ورنہ ایک بار پھر لوگوں کا یقین انصاف پر سے اٹھ جاۓ گا اور انصاف کے تقاضوں کی تکمیل کے بغیر کیۓ جانے والا انصاف کسی اور زیادتی کا سبب بن جانے کا اشارہ کرۓ گا ۔

To Top