یوم عاشورا، ایک طویل دن جس کا سویرا آج تک نہ ہوا!

یوم عاشورا، ایک طویل دن جس کا سویرا آج تک نہ ہوا!

دس محرم 61 ھجری ،جمعہ کا دن تھا۔ کربلا کا میدان تھا۔ ایک جانب 22ہزار فوجیوں کا یزیدی لشکر تھا ۔ جن کی خواہش تھی کہ حضرت امام حسین سے بزور طاقت یزید کی بیعت حاصل کی جا سکے اور دوسری جانب صرف 72 اہل بیت تھے ،جودین کی سربلندی کے لئےنکلے تھے۔ جن میں بیبیاں بھی تھیں ،بچے بھی تھے اور بیمار بھی تھے۔

دن کا آغاز فجر کی نماز سے ہوا۔ حضرت امام حسین ،نواسہ رسول، اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار نےنماز فجر اہل بیت اور رفقا کے ہمراہ ادا کی۔ اس کے بعد اپنے خیمے میں تشریف لاۓ۔اہل بیت بھوک پیاس سے نڈھال تھے۔ دریاۓ فرات کا پانی سات محرم سے ان پر ظالموں کی جانب سے بند تھا ۔تیز دھوپ،گرم ریت،صحرا کی ہوا اور ظلم و جبر کے پہاڑ توڑنے کے لئے تیار بائیس ہزار کا لشکر،مگر امام حسین اور انکے رفقاء کے ارادے پہاڑوں سے ذیادہ مضبوط،جس کو امام کے خطبے نے اور زیادہ مضبوط کر دیا۔طبل جنگ بجا اور حق اور ظلم کے معرکہ کا باقاعدہ آغاز ہوا ۔وہ معرکہ جس کی گونج قیامت تک سنائی دیتی رہے گی۔

1

Source: mustafa20.deviantart.com

 

علی المرتضی کے خاندان کے بہادر جاںبازوں نے بہادری کے ایسے جوہر دکھاۓ کہ کربلا کی تشنہ لب زمین کو ظالموں کے خون سے لالہ زار کر دیا۔ اس طرح خاندان رسالت کے نوجوان ،حرمت رسالت پر کٹ کٹ کر قربان ہوتے جارہے تھے۔ حضرت امام حسین کے اکثر رفقا جام شہادت نوش فرما چکے تھے۔ امام تنہا ہوتے جا رہے تھے۔ وقت ظہر آن پہنچا تھا۔ حضرت حسین نے باآواز بلند فرمایا کہ جنگ ملتوی کرو یہاں تک کہ ہم نماز پڑھ لیں مگر ایسی گھمسان کی جنگ میں کون سنتا ہے۔

اس موقعے پر حضرت حسین نے اپنے چند اصحاب کے ساتھ نماز ظہر صلوۃ الخوف کے مطابق ادا فرمائی ۔یزیدی لشکر امام عالی مقام تک پہنچ چکا تھا ۔اس موقعے پر امام کے بھائی حنفی آگے بڑھے اور ڈھال بن کر کھڑے ہو گئے۔ آنے والا ہر تیر اپنے بدن پر روکتے رہے۔ ان کے گرنے کے بعد زبیر بن العین نے جگہ سنبھال لی ۔یہ رفیق جانتے تھے کہ نہ حضرت حسین کو بچا سکتے ہیں نہ خود بچ سکتے ہیں مگر ان میں سے ہر ایک کی خواہش تھی کہ امام کے سامنے ان سے پہلے شہید ہو جا ئیں۔

اس وقت حضرت حسین کے بڑے صاحبزادے حضرت علی اکبر آگے بڑھے ،بہت بےجگری سے لڑے مگر مرہ ابن منقذ نے ان کو نیزہ مار کے گرا دیا اور پھر ظالموں نے ایک باپ کے سامنے اس کے جوان پسر کے لاشے کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔عمر بن سعد نے قاسم بن حسن کے سر پر تلوار کا وار کیا قاسم پکارے یا عماہ، اے چچا ،امام بےساختہ ان کی جانب بڑھے۔مگر تب تک وہ بھی جام شہادت نوش کر چکے تھے۔

2

Source: marefatmagazine.wordpress.com

 

امام عالی مقام ان ٹکڑے ٹکڑے جوان لاشوں کو لے کر خیموں کی طرف آۓ اور دوسرے اہل بیت کے ہمراہ لٹا دیا اب حضرت حسین تقریبا تنہا رہ گئے لیکن ان کی طرف بڑھنے کی کسی کو ہمت نہ ہوئی۔ یہاں تک کہ قبیلہ کندہ کا ایک شقی القلب مالک بن نسیر آگے بڑھا اور اپنی تلوار سے امام کے سر کو نشانہ بنایا جس سے آپ شدید زخمی ہو گئے ۔آپ نے اپنے چھوٹے صاحبزادے عبداللہ کو بلا کر اپنی گود میں بٹھایا مگر بنی اسد کے ایک ظالم نے خانوادہ رسول کے اس معصوم کو بھی نہ چھوڑا اور تیر مار کر اس کمسن کو بھی شہید کر ڈالا.

اب امام بالکل تنہا رہ گئے ، وقت عصر آن پہنچا تھا شمر دس آدمی لے کر امام کی طرف بڑھا اور سب کو حکم دیا کہ ایک ساتھ حملہ کرو۔ سب نے نیزوں تلواروں سے حملہ کیا ۔اور ابن رسول ظالموں کا مقابلہ کرتے ہوۓ شہید ہو گئے۔آپ کے جسم مبارک پر 33 زخم نیزوں کے اور 34 زخم تلواروں کے آۓ ۔ ابن زیاد کے حکم پر لاشوں کو گھوڑوں کی ٹاپوں سے روندا گیا ۔اس طرح تاریخ اسلام کے سخت ترین دن کا خاتمہ اہل بیت کی یتیمی پر ہوا۔

To Top