یقین کا سفر کی آخری قسط میں کیا تھا جو نہیں دکھایا گیا؟

یقین کا سفر کی آخری قسط میں کیا تھا جو نہیں دکھایا گیا؟

پاکستانی ڈراموں کو یہ اعزاز حاصل رہا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ روایتی بھیڑ چال کا حصہ بننے کے بجاۓ نۓ موضوعات کا انتخاب کیا ہے۔ اور یہی سبب ان کی پاکستان کے ساتھ ساتھ پڑوسی ملک میں بھی مقبولیت کا سبب ہے۔ مسابقت کی اس فضا میں ہر میڈیا چینل کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ خوب سے خوب تر پیش کرے تاکہ لوگوں کی توجہ حاصل کی جاسکے۔

گزشتہ کچھ دنوں سے ہم ٹی وی کا ڈرامہ یقین کا سفر لوگوں کی مرکز نگاہ رہا بظاہر اس کا موضوع معاشرے کی ان ناہمواریوں اور ناانصافیوں پر مبنی تھا جس پر اس سے پہلے بھی بہت کچھ پیش کیا جا چکا ہے۔ مگر مشہور و معروف مصنفہ فرحت اشتیاق کے زور قلم نے اس کہانی کو نۓ رنگ بخشے جس کے سبب اس کو قبولیت عام حاصل ہوئی۔

یقین کا سفر میں کہانی کے ساتھ ساتھ جس کردار نے لوگوں میں قبولیت عام کی سند حاصل کی وہ ڈاکٹر اسفندیار کا کردار تھا جس کو احد رضا میر نے بخوبی نبھایا۔ اس ڈرامے کے بعد احد رضا میر کا نام کسی کے لۓ اجنبی نہیں رہا۔ احد رضا میر نے اس ڈرامے کے لۓ سب سے بڑی قربانی اپنے ان بالوں کی دی جن کو نہ جانے کب سے انہوں نے پالا ہوا تھا۔

مگر اس بات کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ ان کی یہ قربانی رائیگاں نہیں گئی اور ان کے بدلے ہوۓ روپ کو ناظرین نے نہ صرف سراہا بلکہ اس کو بہت مقبولیت سے بھی نوازا۔ اسی مقبولیت کا ہی سبب تھا کہ جتنے دن تک یہ ڈرامہ آن ائیر جاتا رہا ڈاکٹر اسفی سے متعلق ہر ہر خبر کو جاننے کے لۓ لوگ بے تاب رہے۔

 

Hahaha!! I reaaly wanna share this happy moment with you guys ? #gaitibhabi #asfi

A post shared by Hira Mani (@hiramaniofficial) on

حرا مانی جو کہ اس ڈرامے میں ایک اہم کردار ادا کر رہی تھیں انہوں نے اپنے انسٹا گرام اکاونٹ سے اس ڈرامے کے کچھ مناظر جو کہ آن ائیر نہیں ہوۓ تھے شئیر کیۓ۔ ان مناظر میں احد رضا میر کا رقص لوگوں کو بہت محظوظ کر رہا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ پوسٹ وائرل ہو گئی۔

اب جب کہ ڈرامہ یقین کا سفر اختتام پذیر ہو چکا ہے۔ اور اس کے خوبصورت اختتام کے بعد دیکھنے والے ایسے ہی مزید خوبصورت ڈراموں کے منتظر ہیں۔ اطلاعات کے مطابق احد رضا میر اور سجل علی کو ناظرین بہت جلد ڈرامہ آنگن میں دیکھ سکیں گے۔

To Top