مرنے والے کی میت پر غم کے بجاۓ خوشی منانے والے لوگوں کا احوال پڑھیۓ

مرنے والے کی میت پر غم کے بجاۓ خوشی منانے والے لوگوں کا احوال پڑھیۓ

پاکستان میں صوبہ سندھ وہ صوبہ ہے جس میں قدیم رواج آج بھی کسی نہ کسی حالت میں نظر آجاتے ہیں خصوصا اس کے دیہی علاقوں میں آج بھی لوگ ایک جانب تو نئی تہزیب کی تقلید کرتے دکھائی دیتے ہیں اور دوسری طرف اپنے پرانے رسوم و رواج کی پیروی بھی اسی طرح کرتے دکھائی دیتے ہیں جو سیکڑوں سالوں سے ان کے بزرگوں کا وطیرہ رہا ہے ۔

سندھ کے علاقے عمر کوٹ کے گاؤں اسرلو بجیر میں ہونے والا یہ واقعہ اس کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ یہاں پر جب پٹیل آسکر او پجیر کا جب ایک سو دس سال کی عمر میں انتقال ہوا تو اس کے خاندان والوں نے اس کی موت پر رونے دھونے کے بجاۓ اس کی ویکوٹی کروانے کا فیصلہ کیا ۔

سندھ: 110 سال زندہ رہنے والے پٹیل کو مرنے کے بعد خاندان والوں نے رونے کے بجائے ڈولی میں بیٹھا کر رخصت کیا، مزید جانیئے اس رپورٹ میں#92NewsHDPlus #Sindh #OldMan #Death #Celebration

Posted by 92 News HD Plus on Sunday, January 21, 2018

پٹیل اسکر کی میت کو دلہن کی طرح سجایا گیا اور اس کو ڈولی پر بٹھا دیا گیا ۔اس کے بعد ان کی میت کو جلوس کی شکل میں پورے گاؤں میں دس کلومیٹر تک گھمایا گیا ۔اس جلوس میں ڈھول اور شہنائی بج رہی تھی ۔لوگ روائتی لباسوں میں ملبوس اپنی آبائی زبان میں ڈولی کے آگے آگے گیت گاتے جارہے تھے ۔

ڈولی کے اندر مرنے والے کو سجا سنوار کر روائتی لباس میں پگڑی پہناۓ لوگوں نے کاندھوں پر اٹھا رکھا تھا ۔ مرنے والے کے لواحقین کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے لیۓ بہت خوشی کا مقام ہے کہ پٹیل جی کو اتنی لمبی عمر ملی کہ وہ اپنی چھ نسلیں اپنی آنکھوں سے دیکھ پاۓ

اور ایسا کوئی فرد جو کہ اپنے خاندان کی پانچ سے سات نسلیں دیکھ لیتا ہے اس کی میت پر سوگ کے بجاۓ ویکوٹی کی جاتی ہے ۔پٹیل کے لواحقین نے اس موقعے پر گاؤں میں خاص طور پر سرکس کا بھی اہتمام کیا تاکہ پٹیل کی موت کا جشن اس کے شایان سان منایا جا سکے ۔

پٹیل کی بیوی جس کی عمر ایک سو آٹھ سال ہے ابھی بھی بقید حیات ہے ۔ اس کے جنازے میں اس کے بیٹوں اس کے نواسوں اور اس کے  پڑ نواسوں نے بھی شرکت کی ۔پٹیل کی ڈولی کو اس کے لواحقین باجوں کی آوازوں میں ناچتے گاتے شمشان گھاٹ تک لے کر گۓ اور وہاں پر لے جا کر انہوں نے خوشی خوشی اس کا کریا کرم انجام دیا

To Top