میں کس کے ہاتھوں میں اپنا لہو تلاش کروں، کم عمر ملازمہ کا بے دردی سے قتل

میں کس کے ہاتھوں میں اپنا لہو تلاش کروں

کم عمر ملازمہ کی آپ بیتی

میری ماں مر گئی تھی مجھے بس اتنا یاد ہے کہ جب میں نے ہوش سنبھالا تو میرے نصیب میں سب کی ڈانٹ پھٹکار ہی آئی میرے والد دل کے مریض تھے اور کسی کمپنی میں سیکیورٹی گارڈ تھے جہاں سے انہیں صرف آٹھ ہزار روپے ملتے تھے مگر جس میں سے میرے نصیب میں کچھ بھی نہ ہوتا کیوں کہ لوگ کہتے تھے کہ میں منحوس ہوں میں نے پیدا ہوتے ہی اپنی ماں کو مار ڈالا تھا

اب آپ خود بتائيں کہ پیدا ہوتے ساتھ میں اپنی ماں کو کیسے مار سکتی تھی ویسے میں بھی ڈھیٹ تھی سارے طعنے ، صلواتیں سن سن کر بھوکی رہ رہ کر مرنے کے بجاۓ دن بدن بڑی ہوتی گئی دس سال کی ہوئی تو ابا نے مجھے کسی گھر میں کام پر رکھوا دیا کل کم ازکم بھابھیوں کی مار سے بچ جاؤں گی اور پیٹ بھر روٹی تو کھا سکوں گی

مگر اس گھر میں جہاں پر افراد تو کم تھے مگر ان کے دلوں میں میرے لیۓ نفرت اور حقارت کے سوا کچھ نہ تھا ۔ میری بڑی باجی غصے کی بہت تیز تھی جب وہ غصے میں ہوتی تو اس کے ہاتھ میں جو کچھ بھی ہوتا وہ میری جانب اچھال دیتی بغیر یہ دیکھے کہ مجھے کہاں چوٹ آرہی ہے

گھر آتے پیسے کسے برے لگتے ہیں

میں نے ابا سے کہا بھی کہ میں اب اس کو تنگ نہ کروں گی مجھے واپس گھر لے جاۓ مگر ابا کو وہ مفت کے پانچ ہزار گنوانگے منظور نہ تھے جو باجی ہر مہینے میرے بدلے میں ابا کو دیا کرتی تھی

باجی اپنی بیٹی کے لیۓ بہت پیارے پیارے کپڑے لے کر آتی تھی اس کی بیٹی میری ہی ہم عمر تھی مگر مجھے اس بات کی اجازت نہ تھی کہ میں ان کو ہاتھ بھی لگا سکوں ٹھیک ہی تو کہتی تھی باجی ٹاکی لگا لگا کر میرے ہاتھ اتنے میلے اور برے ہو گۓ تھےکہ مجھے بھی ان سے گھن آتی تھی

کئی کئی دن منہ تک دھونے کا ٹائم نہ ملتا تھا صبح کے آغاز ہی میں باجی کی لات اس بات کا اعلان ہوتی کہ صبح ہو گئی ہے صبح کا ناشتہ کیا ہوتا ہے یہ تو میں بھول ہی گئی تھی بس سب کے ناشتے کے بعد جو ٹکڑے بچ جاتے وہی برتن دھوتے ہوۓ میرا نصیب ہوتے اور اکثر تو وہ بھی نہ ملتے تھے

جب سے سردیاں شروع ہوئی تھیں مجھے بہت بھوک لگنے لگی تھی ہر وقت کپڑے دھونے اور برتن دھونے کے سبب میری پسلیوں میں بہت درد ہوتا تھا ایک دن جب میں نے باجی کو اس درد کو بتایا تو انہوں نے بلا کے کر میری پسلیوں اور ٹانگوں پر اتنا مارا کہ میں سیدھے بیٹھنے کے قابل بھی نہ رہی

غریب کے بچوں کو درد نہیں ہوتا

باجی کا کہنا تھا کہ بچوں کو درد نہیں ہوتا بچے صرف بہانے کرتے ہیں مگر اپنی بیٹی کے چھینکنے پر بھی مجھے حکم دیتی کہ اس کے لیۓ جوشاندہ بنا کر لاؤں کہ وہ بیمار ہے مجھے سمجھ نہیں آتا تھا کہ باجی یہ کیوں نہیں کہتی کہ غریب کے بچوں کو درد نہیں ہوتا امیر کے بچوں کو درد ہوتا ہے

اس دن باجی کی بیٹی کے لیۓ کھانا لےجاتے ہوۓ مجھے بہت بھوک لگ رہی تھی میں نے صبح سےکچھ نہیں کھایا تھا بازار سے منگوایا ہوا برگر اور اس کے ساتھ چپس بہت لذيذ لگ رہے تھے میں نے ایک چپس کا رانہ جلدی سے اٹھا کر منہ میں ڈال لیا تھا باجی نے جب مجھے ایسا کرتے دیکھا تو بہت غصہ ہوئیں

انہوں نے بلیڈ سے میری زبان کاٹ دی اور میرے سر پر بہت زور سے ڈنڈا مارا میں بے ہوش ہو گئی انہیں لگا میں مکر کر رہی ہوں انہوں نے مجھے اٹھانے کے لیۓ ننگی تاریں میرے جسم سے لگا دیں میں رونا چاہتی تھی چلانا چاہتی تھی مگر میرے اندر چیخنے کی بھی سکت نہ تھی

پھر مجھے لگا فرشتے خوبصورت لباس لیۓ آۓ ہیں انہوں نے مجھے بہت پیار سے اٹھایا اور ہر درد اور تکلیف سے دور بہت دور لے گۓ میں اللہ تعالی کے پاس جا کر صرف ان سے ایک ہی شکوہ کروں گی کہ مجھے غریب کیوں بنایا تھا

To Top