استاد: رہبر یا رہزن؟

استاد: رہبر یا رہزن؟

بیٹا ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں کسی کے باپ میں بھی ہمت نہیں کہ تمہیں ہاتھ بھی لگا سکے۔

بس تھوڑے دن صبر کر لو میں جا کربات کرتا ہوں،کوئی مذاق تو نہیں ہر مہینے اتنے پیسے بھرتے ہیں۔

ٹھیک ہے بیٹا اگلے سیشن میں جہاں تم کہو گے وہیں داخلہ کرادوں گا۔

یہ اور ایسے بہت سے جملے ہماری سماعتوں کے لئے اجنبی نہیں اور یہ بھی ہم جانتے ہیں کہ کس کے لئے بولے جاتے ہیں۔ استاد، معلم، رہبر، رہنما یہ سب وہ نام ہیں جو بظاہر تو الگ الگ ہیں مگر اصل معنوں ایک ہی ہیں۔ اس شخصیت کو بیان کرنے کے لئے معزز، محترم،کے علاوہ اور کوئی لفظ سمجھ ہی نہیں آتا۔ مگر کیا وجہ ہے کہ آج کل استاد کو وہ رتبہ وہ مقام نہیں مل پا رہا جس کے وہ مستحق ہیں؟

01

Source: teachforall.org

تعلیم دینا ایک پیغمبری پیشہ ہے ،یہ وہ پیشہ ہے جس کو ہما رے پیغمبر نے فخریہ طور اپنایا مگر آج اپنی قدر کھو بیٹھا ہے۔ آج کے اس مادیت بھرے دور نے اگرچہ علم کی اہمیت میں اضافہ ضرور کیا ہے مگر استاد کی اہمیت کو کم کر دیا ہے۔ بدقسمتی سے آج کا استاد معاشرے کی نظر میں ایک بکاؤ جنس سے زیادہ نہیں۔جس کو چند نوٹوں کے عوض خریدا جا سکتا ہے۔

معاشرے کے اندر استاد کی اس گرتی ہوئی ساکھ کا سبب کون ہے؟ والدین، شاگرد یا اساتذہ خود؟؟؟ اگر ہم والدین کا کردار دیکھتے ہیں تو ان کی کئی کوتاہیاں ناقابل معافی ہیں۔ ان کا سب سے بڑا قصور یہ ہے کہ ان کے پاس اپنی اولاد کے لئے پیسہ تو ہے مگر وقت نہیں ہے ۔نتیجہ کے طور پر وہ اپنی کمائی کا ایک بڑا حصہ استاد کو دیتا ہے.جس کے سبب وہ سمجھتا ہے کہ وہ ہر فرض سے بری ہو گیا ۔اور اس نے اپنے پیسے سے اپنی اولاد کے لئے ایک فرد کی ذمہ کام لگا دیا  جس کو سختی سے چیک کیا جاتا ہے احترام سے نہیں۔

04

Source: www.deltatec.in

دوسری غلطی استاد کی اپنی بھی ہے ،پیغمبری پیشہ اپنانے والوں نے تربیت اور تبلیغ کو بھی فیس سے مشروط کر دیا ہے ۔کالجز میں پڑھانے کے بجاۓ بچوں کو اپنے ٹیوشن سینٹر میں بھاری فیسوں کے عوض جب وہ پڑھاتے ہیں تو درحقیقت وہ پیسہ تو کما رہے ہوتے ہیں مگر عزت گنوا کر!!!

اب باری آتی ہے شاگرد کی ،یہ وہ فرد ہے جس سے استاد کو شکایت ہوتی ہے کہ عزت نہیں کرتا، احترام نہیں کرتا وغیرہ وغیرہ۔ سوال یہ ہے کہ اس کو یہ احترام اس کے ماں باپ نے سکھایا؟؟؟ یا تو وہ یہ کہتے ہیں کہ ڈرنے کی ضرورت نہیں، تو پھر وہ اس زرخرید جنس کا احترام کیوں کرے؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس حقیقت کو محسوس کریں کہ پہلی تربیت گاہ ماں کی گود ہے ،پہلا استاد ،پہلا معلم ماں ہوتی ہے اس کااحترام جس طرح واجب ہے اسی طرح استاد کا احترام بھی واجب ہے۔ آج اگر بچے کو احترام کرنا سکھائیں گے تو یہ اس کے لئے دین اور دنیا میں کامیابی کا سبب ہو گی ۔انشااللہ

 

To Top