جانئیے استاد کسطرح اس چھوٹی سی کوشش کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں

جانئیے استاد کسطرح اس چھوٹی سی کوشش کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں

اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ چھوٹے بچوں کے لۓ خواتین اساتذہ ہی بہترین ہوتی ہیں ۔ہر روز دن کے پانچ گھنٹے بچوں کے ساتھ گزارنے کے سبب ان کا جو تعلق ان خواتین کا ان بچوں سے پیدا ہو جاتا ہے اس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہفتے کے پانچ دن ان بچوں کے ساتھ گزارنے کے بعد جب وہ اپنے گھر واپس جاتی ہیں تو تب بھی ان کے جذبات کا ایک حصہ لاشعوری طور پر ان بچوں ہی سے جڑا ہوتا ہے ۔

Children examine a snail with teacher in New York City day care center.

سالوں پر محیط یہ تعلق ایک جانب بچوں کی شخصیت پر بہت گہرے اثرات مرتب کرتا ہے اسی طرح استاد جو کہ بچے کے لۓ ایک رول ماڈل ہوتا ہے اس کی بھی شخصیت سازی کرتا ہے۔

عموما یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ یہ تعلق بچوں کی جانب سے ذیادہ گہرا ہوتا ہے اور وہ اپنی زندگی میں ہر جگہ استاد کی بتائی ہوئی بات اور اس کے کۓ گۓ عمل کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور اسی پر عمل پیرا ہوتے ہیں ۔

BeFunky Collage

آج کی اس مادیت پرستی کے اس دور نے اس تعلق کو بھی گہنا سا دیا ہے روحانی تربیت کا یہ عمل اسی وقت مکمل ہو سکتا ہے جب استاد ان تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوۓ اپنی شخصیت کو بھی ایک مثالی خاکے میں ڈھالے۔

اس کے ساتھ ساتھ ہم سب کو یہ یاد رکھنا چاہۓ کہ اسکول درحقیقت وہ فیکٹریاں ہیں جہاں ہمارے مستقبل کی بنیاد رکھی جا رہی ہے اس لۓ والدین کو اسکول کا چناؤ کرتے ہوۓ صرف اونچے اور بڑے نام کے چناؤ کے بجاۓ ایسے اساتذہ کا چناؤ کرنا چاہیۓ جو بچے کے کردار کی تعمیر مضبوط بنیادوں پر کر سکیں ۔

ہم سب نے اپنی روزمرہ کی زندگی میں جس طرح برانڈ کا عمل دخل بڑھا لیا ہے اسی طرح اسکولوں کے چںاؤ میں بھی اب ہم سب برانڈ فیور میں مبتلا نظر آتے ہیں ۔لوگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ بچے کو ایک بڑے برانڈیڈ نام والے اسکول میں پڑھائیں ۔ تاکہ معاشرے میں سر اٹھا کر کہہ سکیں کہ ہمارا بچہ اس اسکول میں پڑھتا ہے ۔

4

اس عمل سے سب سے ذیادہ متاثر ہماری آئندہ نسل ہو رہی ہے۔ بچوں اور اساتذہ کا باہمی تعلق کمزور پڑتا جا رہا ہے جس سے بچے کی شخصیت سازی کمزور پڑتی جا رہی ہے ۔ اساتذہ بھی پیسے کی ہوس  میں بچوں سے اپنے تعلق کو دیکھنے کے بجاۓ اپنی تنخواہ اور ملنے والی دیگر مراعات سے جڑتے جارہے ہیں ۔

اس کے نتیجے میں جو پراڈکٹ ان فیکٹریوں یا اسکولوں سے تیار ہو کر نکل رہا ہے وہ بھی کنفیوژن کا شکار ہے ۔ اور اسی کنفیوژن کے سبب ہم ایک ایسا معاشرہ تعمیر کر رہے ہیں جس کی بنیادیں ہواؤں پر قائم ہیں ۔ جس نے جو کام کرنا ہوتا ہے اس کو خود ہی نہیں پتا ہوتا کہ اس کے حقوق کیا ہیں اور فرائض کیا ہیں ۔

5

اس سارے عمل سے نجات حاصل کرنے کا ایک آسان راستہ یہ ہے کہ ہمیں تعلیم جیسے پیغمبری پیشے کو مادی حوالے سے ناپنے کے بجاۓ اس کی بنیادیں روحانی طور پر قائم کرنی چاہیۓ ہیں ۔اس کے لۓ سب سے پہلے استاد کا وہ عزت و وقار بحال کرنا پڑے گا جو کہ ماضی کا وطیرہ ہے ۔

استاد کو یہ عزت و وقار کوئی اور نہیں دلوا سکتا اس کے لۓ والدین کو اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا ۔ استاد جو کہ بچے کے روحانی والدین ہیں ان کو وہ درجہ دینا پڑے گا ۔ اور اساتذہ کو بھی اپنی شخصیت اور کردار کی ایسی تعمیر کرنی پڑے گی کہ وہ معاشرے کے لۓ مثالی افراد تعمیر کر سکیں ۔

To Top