سرکاری اسکول کا ہیڈ ماسٹر فرعون بن گیا مارک شیٹ جاری کرنے کے لیۓ طالبہ کے باپ کے ساتھ ایسا ظلم کر ڈالا کہ زمین کانپ اٹھی

سندھ کے تعلیمی اداروں کی حالت ملک میں کسی سے پوشیدہ نہین ہے کرپشن کے سبب نوجوان نسل کی تعمیر سے متعلق یہ شعبہ بدترین تنزلی کا شکار ہے کہیں پر گھوسٹ اسکول ہیں تو کہیں ایسے اساتذہ ہین جو کہ اپنی قابلیت کے بجاۓ پیسے دے کر بھرتی ہوۓ ہیں اور ان کا تعلیم سے کچھ بھی لینا دینا نہیں ہے

ایسے ہی استاد جو تعلیم کے ٹھیکیدار بنے بیٹھے ہوتے ہیں ان کی فرعونیت نہ صرف طالب علموں کے لیے ایک عزاب اوتی ہے بلکہ ان کا منفی رویہ بہت سارے طالب علموں کو تعلیم سے دور کر دینے کا بھی سبب بنتے ہیں

ایسے واقعات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے جہاں کہیں تو نقل کا بازار گرم ہے تو کہیں نوجوان لڑکییوں کو ان کے اساتذہ کی جانب سے جنسی طور پر ہراساں کرنے کی شکایات ہیں جو کہ سندھ کے تعلیمی نظام کا پول کھولتے نظر آتے ہیں

حالیہ دنوں میں اندرون سندھ مٹیاری کے ایک کالج  کی ویڈيو وائرل ہو رہی ہے مسروقہ ویڈيو میں ایک بچی کے والد اپنی بچی کی مارک شیٹ کے حصول کے لیۓ استاد کے پیروں میں لوٹ رہے ہیں اور وقت کا یہ فرعون استاد اس بچی کے والد کو بری طرح دھتکار رہا ہے

اس بات سےہم سب واقف ہیں کہ مارک شیٹ درحقیقت کسی بھی طالب علم کی ساری محنت کی وہ سند ہوتی ہے جس کی بنیاد پر وہ طالب علم اپنی تعلیم کے سفر کو جاری رکھ سکتا ہے اور اس کا حصول ہر طالب علم کا آئنی حق ہوتا ہے

مگر موجودہ ویڈيو سے یہ بات ثابت ہو رہی ہے کہ اس مارک شیٹ کو روک کر یہ استاد اپنے مزموم مقاصد کی تکمیل کا خواہشمند ہے اسی وجہ سے یہ استاد اس مجبور باپ کی مجبوری کا نہ صرف فائدہ اٹھا رہا ہے بلکہ اس کے حصول کے لیۓ ایک شریف باپ کو اپنے پیروں میں لوٹنے پر بھی مجبور کر رہا ہے

اس ویڈيو کے وائرل ہونے کے بعد سندھ کے وزير تعلیم سید سردار شاہ نے فوری طور پر ایکشن لینے کا اعلان کر دیا ہے اور اس سادے معاملے کی تحقیق کے لیۓ کمیٹی بنا دی ہے یاد رہے قبل ازيں سندھ کے وزیر تعلیم نے اپنی بیٹی کو بھی سرکاری اسکول میں داخل کروانے کا اعلان کیا تھا تاکہ سرکاری اسکولوں کی حالت زار میں بہتری لائی جا سکے