”بشری بی بی کے انٹر ویو سے ہمیں یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ ۔۔۔“خاتون اول کے پہلے انٹرویو پر اداکارہ اشناشاہ نے ایسی بات کہہ دی کہ عمران خان بھی غصے میں آجائیں گے

پاکستان کی موجودہ خاتون اول اس حوالے سے ماضی کی تمام خواتین اول سے ممتاز ہیں کہ وہ انتہائی لبرل سوچ کے حامل عمران خان کی ایسی بیوی ہیں جنہوں نے شرعی پردے کے ساتھ تمام تقریبات مین نہ صرف شرکت کی بلکہ ان کی مزہبی سوچ اور عقائد بہت واضخ طور پر نظر آتے ہیں جو کہ پاکستان کے بہت سارے لبرلز کو ہضم نہیں ہو رہے اداکارہ اشنا شاہ بھی ان ہی میں سے ایک ہیں

حالیہ دنوں میں ایک پرائیویٹ چینل کو جب بشری بی بی نے اپنا پہلا انٹرویو دیا تو اس میں ان کے نظریات کو ایک جانب تو ملک کے مختلف حلقوں میں بہت سراہا گیا جب کہ کچھ حلقوں میں ان کو کافی تنقید کی نظر سے بھی دیکھا گیا اسی حوالے سے اداکارہ اشنا شاہ کا ایک ٹوئٹ بھی لوگوں میں زیر بحث رہا جس میں ان کاکہنا ہے کہ

ہ کیا بشریٰ بی بی کے انٹرویو سے ہمیں یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ جب آکسفورڈ میں تعلیم حاصل کرنا،ورلڈ کپ میں ٹیم کی کپتانی،کینسر اسپتال بنانا،نم یونیورسٹی اور دھرنا دینا بھی کچھ کام نہ آئے تو بابا فرید کی طرف رجوع کر لیں؟

اس ٹوئٹ  کے سامنے آتے ہی لوگوں نے اشنا شاہ کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا کیوں کہ اس طرح اشنا شاہ نے براہ راست ان لوگوں کے عقائد کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو کہ اللہ کے ولیوں کے معتقد ہین اور ان کے مزاروں پر باقاعدگی سے حاضری دیتے رہتے ہیں

ایک صارف نے اشنا شاہ کے اس ٹوئٹ کو شرمناک قرار دیتے ہوۓ اشنا شاہ سے سوال کر ڈالا کہ کیا آپ جانتی ہیں کہ بابا فرید کون ہین اگر آپ کو اس بارے میں معلومات نہیں ہے تو پہلے جا کر ان کے بارے میں جان کر آئیں پھر زبان کھولیں

کچھ لوگوں نے لبرلز کو نشانہ بناتے ہوۓ کہا کہ میرا جسم میری مرضی کی سوچ کے حامل لوگوں کو اس بات سے تکلیف ہو رہی ہے کہ خاتون اول بشری بی بی نے اپنا جسم چھپا کر کیوں رکھا ہوا ہے

جب کہ لوگوں نے اشنا شاہ کے اس ٹوئٹ کو بدترین مزاح قرار دیا اور کہا کہ جب عمران خان پر لگاۓ گۓ تمام الزامات ناکام ہو گۓ تو آپ جیسے لوگوں نے ان پر صوفی ازم کا الزام تھوپ دیا جو کسی بھی صورت مثبت عمل نہیں ہے

اشنا شاہ کو اس ٹوئٹ کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے کیوں کہ روحانیت کے علمبردار مزہبی طبقہ صوفی ازم کے بارے میں اشنا شاہ کی اس راۓ کو قطعی طور پر برداشت کرنے کو تیار نہیں ہین اور اس کو روحانیت اور صوفی ازم کی بدترین بے عزتی قرار دے رہے ہیں