ترک نوجوان کا اپنی محبوبہ کو خانہ کعبہ میں شادی کی پیشکش کرنا مہنگا پڑگیا، جانئیے کس نے واجب القتل قرار دے دیا؟

ترک نوجوان کا اپنی محبوبہ کو خانہ کعبہ میں شادی کی پیشکش کرنا مہنگا پڑگیا، جانئیے کس نے واجب القتل قرار دے دیا؟

میں اللہ کے اس پاک گھر کے سامنے کھڑا ہو کر اس بات کا اظہار کرتا ہوں کہ مجھے تم سے بے انتہا محبت ہے اور اس موقع پر میں تم سے درخواست کرتا ہوں کہ میری اس محبت کو قبول کرو اور مجھے موقع دو کہ میں اپنی آئندہ زندگی تمھارے ساتھ گزار سکوں ۔

گھٹنے کے بل بیٹھے ہاتھوں میں انگوٹھی لئے حجاب میں ملبوس ایک خاتون سے یہ جملے کہنے والا یوسف اکین ترکی کی سرکاری نیوز ایجنسی کا نیوز کاسٹر تھا ۔ جس نے اپنی پانچ سالہ دوستی کو ایک رشتے میں تبدیل کرنے کا فیصلہ اپنے والدین کی مرضی اور ان کی شرکت سے خانہ کعبہ کے صحن میں کیا۔

اور اس درخواست کی قبولیت کا اعلان اس نے اپنے فیس بک پیچ پر ویڈیو کو اپلوڈ کر کے کیا ۔ مگر اس بے چارے کو خبر نہ تھی کہ اس کی خوشی کی یہ خبر عارضی ہو گی ۔

اس کی یہ  ویڈیو اپ لوڈ ہوتے ہی وائرل ہو گئی اور اس کو ہر جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا ۔ مسلمانوں کی نظر میں اس نے یہ عمل کر کے خانہ کعبہ کا احترام مجروح کیا ہے ۔ اور اس پر طنز کے اتنے تیر برساۓ گۓ کہ اس کو مجبورا اپنا سوشل میڈیا اکاونٹ بند کرنا پڑ گیا۔

اس بات سے قطعی انکار نہیں کہ خانہ کعبہ کا تقدس ہم سب پر واجب ہے مگر تاریخ اٹھا کر دیکھی جاۓ تو لوگوں کی شادیاں اور نکاح خانہ کعبہ میں کرنے کی ممانعت موجود نہیں ہے اور لوگ باقاعدہ طور پر برکت اور رحمت کی نیت سے خانہ کعبہ میں نکاح کا اہتمام بھی کرتے رہے ہیں۔

مگر بد قسمتی سے سوشل میڈیا پر موجود ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو کہ ہر ایک کے معاملے میں دخل دینا اور تنقید کرنا اپنا اولین فریضہ سمجھتے ہیں اور اس طرح سے یوسف اکین جیسے لوگوں کی خوشیوں کو تاراج کرتے ہیں ۔

To Top