میری پارٹی ہر بار ہارتی تھی مگر اس بار اس کے جیتنے کی وجہ فوج نہیں بلکہ ۔۔۔۔ ہے 'تحریک انصاف کے ایک کارکن کی آنکھوں دیکھی کہانی

میری پارٹی ہر بار ہارتی تھی مگر اس بار اس کے جیتنے کی وجہ فوج نہیں بلکہ ۔۔۔۔ ہے ‘تحریک انصاف کے ایک کارکن کی آنکھوں دیکھی کہانی

Disclaimer*: The articles shared under 'Your Voice' section are sent to us by contributors and we neither confirm nor deny the authenticity of any facts stated below. Parhlo will not be liable for any false, inaccurate, inappropriate or incomplete information presented on the website. Read our disclaimer.

میرا تعلق اگر چہ ایک غیر سیاسی گھرانے سے تھا دوسرے لفظوں میں میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں پاکستان کے ان پڑھے لگھے گھرانوں میں سے تھا جو سیاست پر شام کی چاۓ سے رات کے کھانے تک بحث تو کر سکتے تھے مگر اس میں عملی طرو پر حصہ لینا بدتر از گناہ سمجھتے تھے

میں نے اپی طالب علمی کے زمانے میں جب عمران خان کی شخصیت سے متاثر ہو کر آئی ایس ایف میں شمولیت اختیار کی تو اس وقت آئي ایس ایف کے صدر موجودہ فکس اٹ کے سربراہ عالمگیر خان محسود تھے ۔ جب ان سے ملا تو لگا کہ وہ مجھ سے بھی زيادہ عمران خان سے متاثر ہیں  عمران خان کے انداز میں باتیں کرتے ہوۓ دیگر طلبہ سیاسی تنظیموں کے قائدین سے یکسر مختلف انہوں نے ہمیں یہی پیغام دیا کہ ابھی آپ لوگ اپنی درسگاہوں میں آئی ایس ایف کا کوئي یونٹ قائم نہیں کریں گۓ

اس پر مجھ سمیت تمام طالب علموں کو سخت مایوسی ہوئی مگر اس وقت عالمگیر خان محسود نے ایسا نہ کرنے کی جو وجہ بتائی وہ میرے لیۓ کم از کم بہت حیران کن تھی ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں اس وقت تعلیمی اداروں میں تشدد کا عنصر بہت زیادہ ہے اور عمران خان نہیں چاہتے کہ اس کا شکار آئی ایس ایف کا کوئی بھی طالب علم ہو اس وجہ سے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یونٹ کھولے بغیر طالب علموں کو اپنے عمل سے تبدیل کرنا ہے

اس کے بعد میں نے جب تحریک انصاف کے یوتھ کے پروگراموں میں شرکت کی تو وہاں پر بھی ان کے تمام صدور نے ہم تک عمران خان کا ایک ہی پیغام پہنچایا کہ اگر آپ کہیں پارٹی کا پرچم لگاتے ہیں اور کوئی اتار دیتا ہے تو اس سے ٹکراؤ نہ کریں اس سے اگلی جگہ پر دوسرا پرچم لگا دیں دوسرا اتار دیں تو تیسرا لگا دیں

میں جیسے جیسے تحریک انصاف کے اندر شامل ہوتا گیا میرے سیاسی جماعتوں کے بارے میں نظریات ہوا میں تحلیل ہوتے جا رہے تھے خواتین کا احترام ایک دوسرے سے محبت نے اس کو ایک سیاسی جماعت سے زیادہ ایک خاندان بنا دیا تھا

جب 2013 کے الیکشن کا مرحلہ آیا تو اس موقعے پر ہماری امیدیں اور عوصلے بہت بلند تھے ہم نے دن رات محنت کی عوام کی جانب سے بھی ہمیں بے تحاشا محبت مل رہی تھی ہم سب کو امید تھی کہ اس بار ہم ملک میں تبدیلی لانے میں کامیاب ہو جائیں گے

پولنگ والے دن بھی پورے پاکستان سے یہی خبریں آرہی تھیں کہ ہر جانب سے پی ٹی ائی کے ووٹر نکلے ہیں مگر جب گنتی کا وقت آیا تو نتائج ہم سب کے لیۓ حیران کن تھے ۔ ہمارے ووٹ کچرے کے ڈبوں میں سے پھٹی حالت میں ملے ہمارے پالنگ ایجنٹس کو مار کو پولنگ اسٹیشنز سے نکال دیا گیا ہمارے پولنگ کیمپ نہیں لگنے دیۓ گۓ

ان سب کے باوجود ہمارے بڑوں کی وہی صبر کی تلقین تھی نتائج ہماری امیدوں کے برخلاف تھے ہماری ناتجربے کار ٹیم دھاندلی کے اس نظام کو روکنے میں ناکام رہی تھی اور ملک بھر سے سواۓ کے پی کے کے ہم کوئی کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہے

اس ہار نے ہمیں ایک جانب تو سڑکوں پر نکلنے پر مجبور کیا اور دوسری جانب ہمارے بڑوں نےاس بار شروع ہی سے ایک ایسی فورس کی تیاری پر کام شروع کر دیا جو کہ الیکشن کے دن کے لیۓ تیار ہو ہر ہر علاقے سے لوگوں کا انتخاب کیا گیا اور ان کو الیکشن کی ٹریننگ دلوائي گئي

اس کے بعد ٹریننگ لینے والے افراد کو ماسٹر ٹرینر بنا کر ان کے علاقوں میں بھیج دیا گیا جہاں انہوں نے اپنے علاقے کے لوگوں کو یہ ٹریںںگ دینی شروع کر دی اس موقعے پر ہمارا نعرہ تھا ایک بوتھ دس یوتھ یعنی ہر بوتھ کے لیۓ دس نوجوانوں کی ٹیم تیار کی گئی

اس وقت جب دیگر تمام سیاسی جماعتیں تحریک انصاف کے خلاف ٹی وی پر بیان بازی کر رہے ہوتے تھے ہم ہر ہر علاقے میں جا کر لوگوں کو حقائق سے آگاہ کر رہے ہوتے تھے اس کے بعد جب 2018 کے الیکشن کا اعلان ہوا تو ہم اس وقت تک پاکستان کے تمام حلقوں کو جدید سافٹ وئير کے ذریعے ایک سسٹم کے تحت جوڑ چگے تھے

ہم نےایک ایسا سافٹ وئیر بھی تیار کر لیا تھا جس کے ذریعے ہر حلقے کے تمام ووٹرز کے بلاک کوڈ ان کے سلسلہ نمبر اور گھرانہ نمبر صرف ان کے شناختی کارڈ کے نمبر کی مدد سے ہم چند سیکنڈ میں تلاش کر سکتے تھے اور یہ نظام ہر ایک کے اسمارٹ فون میں استعمال کیا جا سکتا تھا

اس کے بعد وہ تمام فارم جو الیکشن کمیشن ہمیشہ بہانوں سے ٹال دیتی تھی ہم نے اپنے تربیت یافتہ پولنگ ایجنٹ کو الیکشن سے قبل ہی فراہم کر دیۓ

اس بار ایک اور بہت بڑا قدم جو الیکشن کمیشن کی جانب سے اٹھایا گیا وہ ہر پولنگ بوتھ میں ایک فوجی کی موجودگی اور سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب تھی جس کے سبب ان تمام سیاسی پارٹیوں کی وہ بدمعاشی جس کے ذریعے وہ ہمارے پولنگ ایجنٹ کو باہر نکال کر ٹھپے لگاتے تھے رک گیا

اس کے بعد گنتی کا مرحلہ بھی اسی طرح فوج کے سامنے ہوا اس بار فارم 45 اور 46 بھی فوج نے اپنی نگرانی میں تمام پولنگ ایجنٹ کے حوالے کیۓ اس سارے عمل کی شفافیت پر آواز اٹھانے والوں کے جواب میں صرف اتنا ہی کہوں گا یہ تحریک انصاف کی یہ جیت فوج یا کسی خفیہ ادارے کی وجہ سے نہیں ہے اس مسلسل محنت کی وجہ سے ہے جو ہمارے قائد کی ہدایات پر ان کی ٹیم نے کی ہے

آج الحمدللہ عوام کے جائز ووٹوں سے عمران خان کی حکومت آچکی ہے اور انہوں نے اپن؛ی پہلی ہی تقریر میں یہ اعلان کر کے سب کے دل جیت لیۓ ہیں کہ جس حلقے پر بھی مخالفین کو کسی بھی قسم کا شک ہے وہ کھلوانے کے لیۓ تیار ہیں اور یہی وہ حقیقی تبدیلی ہے جس کی خواہش پاکستانی عوام میں تھی

To Top