اس نے مجھے زبردستی پکڑ کر گاڑی میں ڈالنے کی کوشش کی اور اس کے بعد ۔۔۔۔' پرائيویٹ ٹیکسی ڈرائیور کی جانب سے لڑکی کو اغوا کرنے کی کوشش منظر عام پر آگئی

اس نے مجھے زبردستی پکڑ کر گاڑی میں ڈالنے کی کوشش کی اور اس کے بعد ۔۔۔۔’ پرائيویٹ ٹیکسی ڈرائیور کی جانب سے لڑکی کو اغوا کرنے کی کوشش منظر عام پر آگئی

پاکستان کے اندر پرائيویٹ ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے آنے کے بعد ایک جانب تو عوام کو کافی سہولت حاصل ہو گئي ہے ایک جانب تو ان گاڑیوں کی وجہ سے عوام کو کم قیمت ٹرانسپورٹ حاصل ہو رہی ہے دوسری جانب پڑھے لکھے ڈرائيورز کے سبب باعزت طریقے سے سفر کرنے کا موقع حاصل ہو رہا ہے اور عوام کی جان پیلی ٹیکسیوں اور رکشہ والوں کے نخرے اٹھانے سے چھوٹ گئی ہے

مگر جس طرح ہر اچھائي کے ساتھ برائی کا بھی پہلو ہوتا ہے تو اسی طرح ان ٹرانسپورٹ کمپنیوں کی جانب سے ماضی بعید میں ان کے ڈرائیورز کی بدتمیزی اور بدتہزیبی کے واقعات بھی مسلسل خبروں کی زینت بنتے رہتے ہیں جن پر یہ کمپنیاں اپنے ضابطہ اخلاق کے مطابق کاروائياں کرتی بھی ہیں

مگر حالیہ دنوں میں سوشل میڈيا پر ایک لڑکی کی جانب سے ایک ایسا واقعہ رپورٹ کیا گیا جس نے تنہا سفر کرنے والی لڑکیوں مین تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور اس بات پر سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا اب جوان لڑکیوں کا ان کیب سروسز مین بھی تنہا سفر کرنے محفوظ  نہیں ہے

تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر علینہ سید نامی ایک لڑکی کی جانب سے اپنے فیس بک اکاونٹ سے کیب سروس کے ڈرائيور کی جانب سے اغوا کے ایک واقعے کو سامنے لایا گیا ہے علینہ سید کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ

کریم سروس کے کیپٹن محمد طیب جن کا فون نمبر   03332129072 تھا وہ کمپنی کی سروس گو سلور کیٹیگری کا ڈرائیور تھا اور کار نمبر BFB385 چلا رہا تھا ۔ میری شکایت کے بعد کریم کمپنی والوں نے ایک خط کے ذریعے مجھے آگاہ کیا کہ اب یہ ڈرائیور میری شکایت کے بعد کمپنی کا حصہ نہیں ہے اور کمپنی والوں نے اس کو فارغ کر دیا ہے

میں نے چوبیس ستمبر 2018 کو رات آٹھ بجے اس شخص کی گاڑی بک کروائی اس ڈرائیور نے کورنگی کریک کے بیابان علاقے سے گاڑی لے جانے کی کوشش کی اور جب میں نے منع کیا تو گاڑی روکنے سے انکار کر دیا اس کے برے تیور دیکھ کر میں نے خیابان اتحاد اور کورنگی کریک کی درمیانی جگہ پر گاڑي کے ہینڈ بریک زبردستی کھینچ کر گاڑی کو روک دیا اس کے بعد لات مار کر دروازہ گھول کر زبردستی گاڑی سے باہر کی جانب بھاگی ۔

مگر گاڑی کے ڈرائيور نے یہیں پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس نے میرا پیچھا کیا اور زبردستی مجھے کھینچ کر گاڑی میں بٹھانے کی کوشش کی اس دوران وہ اس طرح چیخ و پکار کرتا رہا کہ دیکھنے والوں کو یہ محسوس ہو کہ وہ میرا باپ ہے اور کسی خانداںی جھگڑے کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے تاکہ لوگ اس جھگڑے میں مداخلت نہ کریں

اس دوران اس نے مجھے لاتیں بھی ماریں مگر میں مستقل طور پر یہ کوشش کرتی رہی کہ راسے سے گزرتی ہوئي گاڑیاں کسی طرح میری مدد کے لیۓ رک جائیں گاڑیوں کو رکتے دیکھ کر اس ڈرائيور نے لوگوں کے سامنے یہ ظاہر کرنے کی کوشش شروع کر دی جیسے میں اس کی گاڑی سے کرایہ دیۓ بغیر بھاگنے کی کوشش کر رہی ہوں اس لیۓ وہ یہ مار پیٹ کر رہا ہے

پندرہ منٹ کی اس جدوجہد کے بعد میری اس آدمی سے جان چھٹ گئی جس کے نتیجے میں مجھے جسمانی خراشوں کے ساتھ اندرونی چوٹیں بھی آئيں مگر میں یہ سمجھتی ہوں کہ چونکہ میں ذہنی اور جسمانی طور پر اتنی مضبوط تھی کہ اس ڈرائيور کا مقابلہ کرنے میں کامیاب ہو سکی مگر ہر عورت میری طرح نہیں ہوتی جس کے نتیجے میں اس قسم کے ڈرائيور اپنے مزموم مقاصد میں کامیاب ہو سکتے ہیں لہذا ہر عورت کو اس حوالے سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے

جو تفصیلات علینہ سید نے ڈرائیور کے حوالے سے شئير کی ہیں اس سے ڈرائیور کی تصویر دیکھ کر بظاہر وہ آدمی ایک دیندار مسلمان نظر آرہا ہے مگر کسی کے چہرے سے اس کی شرافت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا اور نہ ہی اس بات کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے کہ کس کی کیا نیت ہے

 

To Top