فارو‍ق خان کون ہے اس کا طلال چوہدری سے کیا تعلق ہے فواد چوہدری نے سب کے ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کا مطالبہ کیوں کر دیا

فارو‍ق خان کون ہے اس کا طلال چوہدری سے کیا تعلق ہے فواد چوہدری نے سب کے ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کا مطالبہ کیوں کر دیا

پاکستان میں یہ سال الیکشن کا سال ہے جیسے جیسے الیکشن کے دن نذدیک آتے جا رہے ہیں ویسے ویسے سیاسی پارٹیوں اور اس سے جڑے لوگوں کے جزبات بھی عروج پر پہنچتے جا رہے ہیں عوام کے سامنے بڑے بڑے دعوؤں کی لائنیں لگائی جا رہی ہیں ۔ ہر سیاسی کارکن کی کوشش یہ ہے کہ وہ اپنے قائد کو دنیا کا سب سے بڑا مخلص اور پاکباز انسان ثابت کر دے

پاکستانی سیاست میں ذاتیات کی آمد کوئي نئی نہیں ہے اس سے قبل بھی کئی بار پہلے بھی سیاسی رہنماؤں کی ذاتی زندگی کو نشانہ بنا کر عوام کو اس سے متنفر کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے فاطمہ جناح سے لے کر بے نظیر بھٹو تک اور اب عمران خان کی ذاتی زندگی کو بنیاد بنا کر ان کے سیاسی مخالفین کی جانب سے کڑی ترین تنقید کی جاتی رہی ہے جس کا جواب اس کے کھلاڑی پوری قوت سے دیتے رہے ہیں

مگر گزشتہ کچھ عرصے سے جب سے پاکستانی ٹیلی وژن پر ٹاک شوز کا آغاز ہوا ہے اس نے ایک نیا سیاسی کلچر متعارف کروایا ہے اس کے مطابق سلجھے ہوۓ پڑھے لکھے لوگوں کو اپنے ٹاک شوز میں بلوانے کے بجاۓ ایسے لوگوں کو بلوایا جاتا ہے جو کہ جزباتی ہوتے ہیں اس کے بعد ان لوگوں کو کسی نہ کسی بات پر اس حد تک اکسایا جاتا ہے کہ نوبت گالم گلوچ یا مار پیٹ تک جا پہنچتی ہے

اس طرح سے ٹی وی شو والے اپنی ریٹنگ میں اضافہ کر لیتے ہیں ۔ماضی میں ایسے ہی واقعات میں مراد سعید کا جاوید لطیف سے الجھنا ، نعیم الحق کا دانیال عزیز کو دھپڑ مارنا وغیرہ اس کی صرف چند مثالیں ہیں پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن نے اپنے کارکنوں کی سیاسی تربیت رنے کے بجاۓ ان کو اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی جو اجازت عطا فرمائی ہے اس کا براہ راست اثر ہمارے گھروں تک پہنچ رہا ہے

https://www.youtube.com/watch?v=tjjMyRWNgdQ

ایسا ہی ایک واقعہ گزشتہ روز حامد میر کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں دیکھنے میں آیا جب کہ کاغذات نامزدگی کی فارم کے بارے میں بات کرنے کے لیۓ حامد میر نے اپنے شو میں طلال چوہدری مسلم لیگ ن ، فواد چوہدری پاکستان تحریک انصاف اور مولا بخش چانڈیو پیپلز پارٹی کو بلوایا

فارم میں موجود 62 اور 63کے حلف نامے کے ذکر پر طلال چوہدری نے براہ راست عمران خان نشانہ بنایا ان کے مطابق چونکہ عمران خان پر الزام ہے کہ چونکہ ان کے سیتا وائٹ کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے اس کے نتیجے میں ان کی ایک بیٹی بھی ہے تو ایسا انسان جس پر اس قسم کا الزام ہو وہ صادق اور امین نہیں ہو سکتا

ان الزامات کو سنتے ہی فواد چوہدری آپے سے باہر ہو گۓ اور انہوں نے طلال چوہدری پر انتہائی رکیک الزامات لگانے شروع کر دیۓ ۔ انہوں نے طلال چوہدری سے کہا کہ عمران خان کی بیٹی کے ڈی این اے کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کے بھی ڈی این اے کروا لو اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ان سے پوچھا کہ وہ بتائیں کہ فیصل آباد کے فاروق خان کے ساتھ ان کا کیا تعلق ہے

فواد چوہدری کے اس الزام پر طلال چوہدری نے کوئی جواب نہ دیا دوسری طرف حامد میر اور مولا بخش چانڈیو ان دونوں کو چپ کروانے کی کوشش کرتے رہے اب اس بات سے اللہ ہی بہتر واقف ہے کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا مگر کسی پر تہمت لگانا بھی بدترین گناہ ہے ۔ہمارے سیاست دانوں کو اس بات کا خیال کرنا چاہیۓ کہ وہ عوام کو ایک بہتر تاثر دینے کی کوشش کریں

 

To Top