طلاق ایک آشیاں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دینے والا اذیت بھرا راستہ

طلاق ایک آشیاں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دینے والا اذیت بھرا راستہ

طلاق کے بعد عدالت کے فیصلے کے مطابق میری بہن والدہ کے ساتھ رہے گی جب کہ میں اپنے ابو کے پاس رہوں گا ۔ جس پل گھر ٹوٹا اس پل ہم بچوں کا بھی بٹوارہ ہو گیا ۔ چیزوں کا بٹوارہ اتنا تکلیف دہ نہیں ہوتا جتنا گوشت پوست کے انسانوں کا بٹوارہ اذیت ناک ہوتا ہے ۔ بچوں کے لیۓ تو ماں اور باپ دونوں ہی ضروری ہوتے ہیں مگر جب اس میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑ جاۓ تو اس کے نتیجے میں جو نسل پروان چڑھتی ہے وہ بکھرے گھر کی طرح ہی ہوتی ہے ۔

اگرچہ بظاہر دیکھنے میں میں بہت پڑھا لکھا کامیاب انسان تھا مگر اندر سے میں آج بھی ڈرا سہما ایک بچہ تھا جس سے اس کی ماں کو چھین لیا گیا تھا اور ماں کے نام پر ایک سوتیلی عورت کے حوالے کر دیا گیا ۔جس نے مجھے دل بھر کر عورت نام سے نفرت کا سبق دیا ۔اب سوچتا ہوں تو وہ بھی بے قصور ہی نظر آتی ہے پراۓ بچے کو اپنا کہہ کر کوئی بھی سینے سے نہیں لگا سکتا ۔

میرے بچپن کی ہر رات اپنی ماں کو یاد کرتے اور تکیۓ کو بھگوتے گزری میں نے سوچ لیا تھا کہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوتے ہی اپنی ماں کے پاس چلا جاؤں گا مجھے لگتا تھا کہ میری ماں بھی میرے لیۓ میری ہی طرح تڑپتی ہو گی

اور پھر جس دن میری نوکری لگی اس دن میں مٹھائی لے کر پہلی بار اپنی ماں کے پاس گیا ۔ مجھے میری خالہ سے پتہ چلا کہ میری ماں کی دوسری شادی میرے نانا نے زبردستی کروا دی تھی میری بہن کو میری خالہ نے گود لے لیا تھا ۔اس وقت اس کی عمر صرف ڈیڑھ سال تھی اس وجہ سے اس کو آج تک پتہ ہی نہ چل سکا کہ اس کے اصل ماں باپ کون ہیں

امی کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہوۓ میرے ہاتھ کانپ رہے تھے میرا دل بری طرح دھڑک رہا تھا ۔دروازہ کسی نوجوان لڑکی نے کھولا میں نے ان سے امی کا پوچھا تو اس نے امی کو بلا دیا امی کو دیکھتے ہی میں بے تاب ہو کر ان کی جانب بڑھا

مگر ان کے انداز کے گھنچاؤ کو محسوس کر کے میں ثھٹک گیا ۔انہوں نے میری نوکری ملنے پر مجھے مبارکباد دی اور جب میں نے انہیں یہ بتایا کہ اب میری نوکری لگ گئی ہے اور میں ان کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں تو ان کے پس و پیش نے مجھے حیرت میں ڈال دیا

میں ان کے پاس کچھ دیر بیٹھا اور پھر ان کو یہ بتا کر آگیا کہ میں جلد ہی علیحدہ مکان کا انتظام کر رہا ہوں اور پھر اس کے بعد ان کو میرے ساتھ ہی رہنا ہو گا

اگلے دن شام کے وقت میرے فون کی گھنٹی بجی میری امی کا فون تھا سلام دعا کے بعد انہوں نے مجھ سے کہا کہ وہ میرے ساتھ نہیں رہ سکتیں کیوں کہ اس کے لیۓ انہیں اپنے دوسرے شوہر کو چھوڑنا ہو گا اور زندگی میں ایک بار پھر طلاق کا دھبہ وہ خود پر نہیں لگا سکتیں

انہوں نے اپنے دوسرے شوہر سے یہ بھی کہا کہ وہ مجھے اپنے ساتھ رکھنا جاہتی ہیں مگر ان کے دوسرے شوہر نے ایک اجنبی اور غیر لڑکے کو اپنے گھر پر رکھنے سے انکار کر دیا ۔ کیوںکہ اس گھر میں ان کی جوان بیٹی بھی رہتی ہے

طلاق بطاہر تو ایک میاں بیوی کے درمیان ہوتی ہے مگر اس فیصلے کا خمیازہ ہم بچوں کو بھگتنا پڑتا ہے اس فیصلے سے قبل کوئی ہم بچوں کےبارے میں کیوں نہیں سوچتا ؟؟؟

To Top