کیا پیسہ کمانے والی بیوی اپنے شوہر کو طلاق دینے کا حق رکھتی ہے ؟

کیا پیسہ کمانے والی بیوی اپنے شوہر کو طلاق دینے کا حق رکھتی ہے ؟

میاں بیوی گاڑی کے دو پہیۓ ہوتے ہیں اس بات کا مطلب یہی لیا جاتا ہے کہ ان دونوں کے اوپر گھر کی گاڑی چلانے کا بوجھ مساوی طور پر ہوتا ہے ۔ دونوں کی ذمہ داریاں معاشرتی طور پر تقسیم ہوتی ہیں اور اس طرح دونوں اپنا اپنا کردار برابری کی بنیاد پر ادا کرتے ہوۓ ایک گھر کے نظام کو بہتر طور پر چلاتے ہیں ۔

اسلامی قوانین کے مطابق چونکہ مرد کے ذمے معاش کی ذمہ داری ہے اس سبب اس کی شرعی حیٹیت خاندان کے سربراہ کے طور پر ہوتی ہے اس حوالے سے اسلام نے یہ حق مرد ہی کو تفویض کیا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے شادی کو جاری رکھے یا پھر طلاق دے کر بوی کو فارغ کر دیے ۔


مگر اب جب ہم موجودہ معاشرے پر نظر ڈالتے ہیں تو بہت سارے گھرانے ایسے بھی نظر آتے ہیں جہاں پر معاش کی ذمہ داریاں یا تو میاں بیوی میں برابری کی بنیاد پر منقسم ہیں یا پھر بعض صورتوں میں معاش کی ذمہ داری مکمل طور پر عورت کے اوپر ہے ۔

جیسے بعض گھرانوں میں شوہر دوسری شادی کر لیتا ہے اور پہلی بیوی کی معاشی ذمہ داریوں سے عہدا برآ ہونے سے منکر ہو جاتا ہے تو ایسی صورتوں میں عورتیں کیا اقدامات کر سکتی ہیں ؟ شرعی طور پر دیکھا جاۓ تو اس حوالے سے علما کی راۓ کے مطابق وہ عورت قانونی طور پر عدالت کے ذریعے اس آدمی سے طلاق یا خلع حاصل کر سکتی ہے ۔

اس بارے میں اسلام آباد ہی کے ایک وکیل رضوان خان کہتے ہیں:’’پاکستان میں برطانوی عہد سے چلے آ رہے قانون کے تحت عورت کو یہ حق حاصل ہے کہ اگر اُس کا شوہر دوسری شادی کر لے تو وہ کورٹ کے ذریعے طلاق لے سکتی ہے۔ تاہم مردوں کی اجارہ داری والے قدامت پسند پاکستانی معاشرے میں ان قوانین کا ناجائز استعمال ہو رہا ہے اور بالآخر ان کا فائدہ مردوں ہی کو پہنچتا ہے۔‘‘

طلاق دراصل ایک ذاتی فیصلہ ہوتا ہے تاہم پاکستان کے اسلامی معاشرے میں اس کے بہت سے مذہبی پہلو بھی ہیں۔ مسلم علماء کا ایک گروپ مسلم فیملی لاء میں تبدیلیوں کی سفارش کر رہا ہے جس کے تحت ایسی بیویوں کو طلاق لینے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے، جن کے شوہر اُن کی رضامندی کے بغیر دوسری شادی کر لیتے ہوں۔

پاکستان میں حکومت کے مجوزہ نکاح فارم کی ایک شق میں یہ درج ہوتا ہے کہ خاوند نے بیوی کو طلاق کا حق تفویض کیا ہے یا نہیں؟… اکثر لوگ تو اس شق کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور اثبات یا نفی (ہاں یا نہیں) میں کچھ نہیں لکھتے۔ لیکن بعض لوگ اس پر اصرار کرتے ہیں کہ نکاح کے موقعے پر تفویض طلاق کے اس حق کو تسلیم کیا جائے اور وہ اس شرط کو لکھواتے یعنی منواتے ہیں کہ عورت کو طلاق کا حق تفویض کر دیا ہے۔

قرآن میں طلاق کا طریقہ کار اور اس کے بارے میں احکامات سورۃ البقرہ اور سورۃ الطلاق میں موجود ہیں جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مرد کے پاس طلاق کا حق موجود ہے مگر اس میں کہیں بھی یہ واضح نہیں ہے کہ عورت کو یہ حق نہیں دیا گیا بلکہ اس میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اگر عورت چاہے تو وہ بھی شوہر سے علیحدگی اختیار کر سکتی ہے ۔

موجودہ حالات میں اسلامی نظریاتی کونسل کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان احکامات کی روشنی میں واضح قانون سازی کرے تاکہ عدالتی نظام کے تحت جو خواتین شوہروں کی بلیک میلنگ کا شکار ہیں آسان اور باعزت طریقے سے اس سے نجات حاصل کر سکیں

 

 

To Top