بسنت کے تہوار پر پابندی: اسلامی یا غیر اسلامی؟ شہباز شریف نے نئی منطق پیش کردی

بسنت کے تہوار پر پابندی: اسلامی یا غیر اسلامی؟ شہباز شریف نے نئی منطق پیش کردی

بسنت کا تہوار فروری کے آغاز سے منایا جانا شروع ہوتا ہے ۔یہ تہوار بہار کے موسم کے آغاز کا استعارہ بھی ہوتا ہے اور بے رنگ جاڑے کو الوداع کہنے کا ایک انداز بھی، اس تہوار کی تاریخی اہمیت اگرچہ مذہبی طور پر کچھ بھی نہیں اسی وجہ سے مذہبی حلقوں کی جانب سے اس کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے ۔لوگ اس کو پیسے کا زیاں قرار دے رہے ہیں ۔

2

اس تہوار کو بسنت پنچمی یا وسنت پنچمی بھی کہا جاتا ہے یہ پنجابی کلینڈر کے مطابق ماہ میگھ کے پانچویں دن سے شروع ہوتا ہے ۔پاکستان کے اندر بسنت منانے پر سال 2007 سے پابندی عائد ہے ۔اور اس کا سبب پتنگ بازی میں استعمال ہونے والی خطرناک ڈور ہے جو کہ کئی معصوم شہریوں کی جان لے چکی ہے۔

بسنت کا باقاعدہ آغاز مہاراجہ رنجیت سنگھ نے انیسویں صدی میں کیا تھا ۔اس تہوار کو صوفی بزرگوں کے مزارعات پر منایا جاتا تھا اور اسی تہوار کے اندر پتنگ بازی کا آغاز بھی مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور ہی میں ہوا ۔

بسنت کا تہوار چونکہ موسم بہار کے آغاز کا اعلان ہوتا ہے لہذا مہاراجہ رنجیت سنگھ اور اس کی رانی نے اس دس روزہ تقریبات میں نہ صرف خود پیلا لباس زیب تن کیا بلکہ اس نے اس دن کی مناسبت سے تمام عمائدین حکومت کو بھی پابند کیا کہ وہ پیلا لباس پہنیں یہی سبب ہے کہ آج تک لوگ اس دن کی مناسبت سے نہ صرف پیلا لباس پہنتے ہیں بلکہ پیلے پکوان بھی پکاتے ہیں اور اپنے گھروں کو بھی پیلے رنگ کے پھولوں سے سجاتے ہیں ۔

رنگارنگ تقریبات سے بھرپور بسنت نامی یہ تہوار 2007 سے قبل پاکستان کا ایک بڑا تہوار مانا جاتا تھا ۔بڑے بڑے ہوٹلوں میں باقاعدہ طور پر اس کی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا تھا ۔دنیا کے مختلف حصوں سے سیاح ان تقریبات میں شرکت کے لۓ آتے تھے اور اس سبب ملک کو کثیر زرمبادلہ بھی حاصل ہوتا تھا ۔اس کے علاوہ اس دن کی تقریبات کے انعقاد کے سبب لوگوں کو روزگار کے مزید مواقع بھی حاصل ہوتے تھے ۔

بدقسمتی سے کچھ شقی القلب لوگوں کے سبب بسنت پر پابندی لگا کر اس تہوار کو متنازعہ بنا دیا گیا ہے ۔ پتنگ بازی بذات خود اتنی نقصان دہ نہیں ہے مگر اس کے لۓ کیمیکل والی جس ڈور کا استعمال کیا جارہا ہے اس کے سبب ہونے والی اموات نے لوگوں کے اندر اس تہوار کے لۓ سخت ناگواریت پیدا کر دی ہے۔

مگر اس بات کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس پابندی کے باوجود بھی جن لوگوں نے خطرناک ڈور کے ساتھ پتنگ بازی کرنی ہے وہ  تو کر رہے ہیں ۔ انسانی جانیں بھی ویسے ہی ضائع ہو رہی ہیں مگر سرکار نے لوگوں کے منہ بند کرنے کی خاطر نام نہاد پابندی لگا دی ہے جس کے سبب وہ پیسہ جو جائز طریقے سے حکومتی خزانے میں جانا چاہۓ ،وہ رشوت کی شکل میں ارباب اقتدار کی تجوریوں میں جمع ہو رہا ہے۔

پابندی کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتی بلکہ اس سے چوری اور گناہ کے رجحان میں اضافہ ہوتا ہے ۔اس سے زیادہ بہتر عمل یہ ہے کہ لوگوں کی تربیت اس طرح کی جاۓ کہ وہ اس خطرناک ڈور کا استعمال ترک کر دیں اور اس طریقے سے بغیر کسی کو نقصان پہنچاۓ زیادہ بہتر طریقے سے لطف اندوز ہو سکیں ۔

To Top