شاہ فیصل کالونی میں تین بہن بھائیوں کی ہلاکت پر ذمہ داروں کی معنی خیز خاموشی

شاہ فیصل کالونی میں تین بہن بھائیوں کی ہلاکت پر ذمہ داروں کی معنی خیز خاموشی

شاہ فیصل کالونی کراچی کا ایک گنجان آباد علاقہ ہے۔ جہاں ہر وقت ایک رش کا سماں رہتا ہے۔ یہاں کی زیادہ تر آبادی متوسط طبقے اور ان مزدوروں پر مشتمل ہے۔ جو انڈسٹریل ایریا میں نوکریاں کرتے ہیں۔ اس علاقے کے مکین اپنی زندگیوں کی ضروریات کی تکمیل کے لۓ محنت مزدوری کا راستہ اپنا کر اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔

عبدالسبحان کا گھرانہ بھی ان ہی میں سے ایک تھا۔ اس نے اپنی اولادوں کو حق حلال کی کمائی سے پالا تھا۔ یہی سبب تھا کہ اللہ نے اس کو یہ شرف بخشا تھا کہ اس کی دونوں بیٹیاں تیرہ سالہ قرت العین اور بارہ سالہ زیب النسا قرآن قفظ کرنے میں کامیاب ہو پائی تھیں۔ ایک باپ کے لۓ اس سے بڑی خوشی کے پل اور کیا ہو سکتے ہیں کہ وہ ایک ساتھ دو حافظہ بیٹیوں کا باپ تھا۔

حفظ کی تکمیل کے بعد اسناد کے حصول کے لۓ ان دونوں کو مدرسہ جانا تھا۔ عبد السبحان نے اپنے بیس سالہ بیٹے عبد الجبار کو کہا کہ بہنوں کو ساتھ لے جا کر ان کی اسناد ان کو دلوا دے۔ ان کو بھجوانے کے بعد وہ خود بھی کام کے لۓ گھر سے نکل گیا ۔ ابھی وہ راستے ہی میں تھا کہ اس کو پتہ چلا کہ موڑ پر پانی کے ٹینکر کو حادثہ پیش آیا ہے۔ انسانی ہمدردی کے خیال سے وہ بھی جاۓ حادثہ کی جانب بھاگا۔

جب تک وہاں پہنچا تو اس کو پتہ چلا کہ حادثہ آئل ٹینکر کی تیز رفتاری کے سبب پیش آیا۔ موڑ کاٹتے ہوۓ پانی کا ٹینکر الٹ گیا اور موٹر سائیکل سوار اس کے نیچے کچلے گۓ ۔ متاثرین کو ٹینکر کے نیچے سے کچلی حالت میں نکال کر جناح ہسپتال بھجوادیا گیا ہے۔ وہ اس سانحے پر افسوس کرتے ہوۓ گھر کی جانب روانہ ہو گیا۔

اس کے تو گمان میں بھی نہ تھا کہ گری ہیں جس پہ بجلیاں وہ اسی کا نشمین ہے ۔اچانک اس کے فون کی گھنٹی بجی۔ اور اس کو اطلاع دی گئی کہ حادثہ کسی اور کے ساتھ نہیں اسی کے جگر گوشوں کے ساتھ پیش آيا ۔ اس کا دل اس بات کو تسلیم کرنے کے لۓ قطعی طور پر تیار نہ تھا۔ ابھی چند لمحوں قبل تو اس نے ان تینوں کو روانہ کیا تھا ۔

مگر جب وہ جناح ہسپتال پہنچا تو اس کو پتہ چلا کہ اس کا گھر اجڑ چکا ہے۔ جن کلیوں کی آبیاری اس نے قطرہ قطرہ کر کے اپنے خون و جگر سے کی تھی۔ اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ جن بیٹیوں کو اس نے کبھی پھول کی چھڑی سے بھی نہ چھوا تھا ان کی لاشوں کی حالت دیکھ کر وہ گنگ رہ گیا۔ عبد الجبار جو اس کے بڑھاپے کا سہارا بننے والا تھا اپنی بہنوں کا محافظ تھا۔ ان کو تحفظ دیتے دیتے زندگی کی بازی ہار بیٹھا تھا ۔

اپنے بدحال جگر گوشوں کی لاشوں کو لۓ وہ گھر آگیا۔ جہاں ان بچوں کی ماں اپنی حافظہ بیٹیوں کی اسناد کے لۓ منتظر تھی۔ اسے کیا خبر تھی کہ اس کی حافظہ بیٹیاں اس کے لۓ دوہری سعادت کا باعث بن گئيں۔ اب وہ حافظہ بیٹیوں کی ماں کے ساتھ ساتھ شہید بچوں کی ماں کے درجے سے بھی سرفراز ہو گئی ہے ۔

عبدالسبحان کے ساتھ ہونے والے اس سانحے نے علاقہ مکینوں کی نہ صرف آنکھیں اشکبار کر دیں اس کے ساتھ ساتھ انتظامیہ کی غفلت پر ایک سوالیہ نشان بھی اٹھا دیا ۔ ٹوٹی پھوٹی سڑکوں ، ابلتے گٹروں اور ٹریفک کے نظام کی دیکھ بھال نہ ہونے کا ذمہ دار کون ہے ؟ کون ہے جس نے اس بائیس ویلر ٹینکر کو دن کے وقت رہائشی علاقے سے گزرنے کا اجازت نامہ دیا؟ کون ہے جس نے اس کی اس تیز رفتاری کا نوٹس نہیں لیا؟

علاقہ مکینوں نے ڈرائیور کو تو گرفتار کر کے پولیس کے حوالے کر دیا ہے ۔مگر کیا اس ڈرائیور کو قرار واقعی سزا مل پاۓ گی ؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب ہم میں سے کسی کے پاس نہیں ہے کیونکہ ڈرائیور کے اس عمل کو حادثہ قرار دلوا کر غیر قانونی ہائیڈرنٹ کے مالکان اسے آرام سے بچا لیں گے ۔

آخر کب تک اسی طرح ہمارے معصوم بچے ایسی بے وجہ اموات کا شکار ہوتے رہیں گے؟ قانون کی پاسداری کروانا ارباب اقتدار کا کام ہے۔ حادثات کا ہونا روکنے کے لۓ ان وجوہات کا سدباب ضرور کرنا چاہۓ تاکہ آئندہ ایسے حادثات کا راستہ روکا جا سکے ۔

To Top