شادی شدہ ہونا انسانی زندگی کو کن کن خطرات سے بچاتا ہے سائنسدانوں کے جدید انکشافات

شادی شدہ ہونا انسانی زندگی کو کن کن خطرات سے بچاتا ہے سائنسدانوں کے جدید انکشافات

شادی کے لغوی معنی خوشی کے ہوتے ہیں۔ معاشرتی طور پر شادی سے مراد اپنی زندگی کو مخالف صنف کے انسان کے ساتھ عمر بھر بانٹنے کا نام ہے۔ مشرقی معاشرےمیں یہ بات ہر فرد کے لۓ لازم و ملزوم ہے کہ وہ عمر کے کسی نہ کسی حصے میں لازمی شادی کرے ۔

شادی کا ایک دوسرا نام ذمہ داری کا بھی ہے ۔ جس میں ایک فریق کے اوپر دوسرے فریق کے حوالے سے کچھ ذمہ داریاں واجب ہو جاتی ہیں ۔ ایک بالغ انسان کے لۓ شادی اس کی جسمانی اور جنسی تسکین کا ایک ذریعہ بھی ہوتی ہے۔

جس کی وجہ سے وہ بہت ساری ذہنی اور جسمانی بیماریوں سے بھی محفوظ رہ سکتا ہے ۔لندن یونی ورسٹی کی جدید تحقیق کے مطابق اس بات سے قطع نظر کہ شادی کامیاب تھی یا نہیں ۔ شادی شدہ زندگی کے سبب انسان ڈیمنشیا نامی ذہنی بیماری کے خطرے سے اسی فی صد تک محفوظ ہو سکتا ہے ۔

 

ڈیمنشیا علامات کے ایک مجموعہ کو بیان کرتا ہے جس میں یاداشت کی کمی، منصوبہ بندی میں مشکلات، مسئلہ حل کرنے یا زبان، اور بعض اوقات برتاؤ یا رویے میں تبدیلی بھی شامل ہو سکتی ہے۔

 

آٹھ لاکھ سے زیادہ افراد پر تحقیقات کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ تنہا یا مجرد زندگی گزارنے والے افراد میں ڈیمنشیا کی بیماری چالیس فی صد زيادہ دیکھنے میں آئ ہے ۔ جبکہ وہ افراد جن کے زندگی کے ساتھی کا انتقال زندگی کے کسی بھی حصے میں ہو جاۓ اور ان کو باقی زندگی تنہا گزارنے کا موقع ملے وہ بیس فی صد زيادہ اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں ۔

لہذا سائنسدانوں کی جدید تحقیق کے مطابق جو لوگ اس مرض سے بچنا چاہتے ہیں ان کو چاہیے کہ وہ جلد از جلد شادی کرکے اس بیماری کے خطرے سے نجات حاصل کریں.

To Top