اسکول سے بھاگنے والے بچے کی دل دہلا دینے والی داستان

اسکول سے بھاگنے والے بچے کی دل دہلا دینے والی داستان

میری عمر چودہ سال ہے میں ساتویں جماعت کا طالب علم ہوں ۔میرا تعلق پنجاب کے ایک مضافاتی علاقے سے ہے ۔میں اسکول میں کبھی بھی بہت اچھا طالب علم نہیں رہا لہذا اسکول میں ڈانٹ مار لازمی میرا نصیب رہتی تھی ۔بچپن  میں تو ڈر کے عالم میں یہ ڈانٹ مار برداشت ہو جاتی تھی مگر جیسے جیسے جوان ہوتا گیا میرے اندر اس مار کے خلاف غصہ بڑھتا گیا ۔

ایسا نہیں ہے کہ میں پڑھنے کی کوشش نہیں کرتا تھا ۔مگر باوجود کوشش کے مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا تھا ۔ لفظ میرے آگے ناچتے پھرتے تھے مگر میں ان کی شناخت نہیں کر پاتا تھا ۔میرے والد بہت غصہ ور انسان تھے ۔ پڑھائی کو لے کر میرے مسئلے کو سمجھے بغیر اسکول سےملنے  والی شکایت پر وہ مجھ پر چڑھ دوڑتے تھے ۔

اسکول میرے لۓ ڈراونا خواب بنتا جا رہا تھا ۔ میری شخصیت بری طرح مسخ ہو چکی تھی ۔ ایک دن اسکول جاتے ہوۓ میرا جوتا ٹوٹ گیا ۔میں اسکول سے لیٹ ہو گیا مجھے لگا کہ اگر دیر سے اسکول جاؤں گا تو پھر مار پڑۓ گی ۔اس خیال سے میں اسکول جانے کے بجاۓ قریبی کھیل کے میدان میں جا کر بیٹھ گیا ۔

مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں ۔میدان میں ایک ہو کا عالم تھا ۔سب بچے اپنے اپنے اسکول گۓ ہوۓ تھے ۔ گرمی کے سبب اس کھلے میدان کا رخ کسی نے بھی نہ کیا تھا ۔ کافی دیر تک وہاں بیٹھے رہنے کے بعد چھٹی کے ٹائم پر میں اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گیا دل میں شدید ڈر تھا کہ اگر ابو کو پتہ چل گیا تو بہت مار پڑۓ گی ۔مگر جب میں گھر گیا تو سب کچھ حسب معمول تھا ۔

میری امی نے میرے سامنے کھانا لا کر رکھا ۔شام کو بھی مجھے کوئی فکر نہ تھی کیونکہ اسکول سے غیر حاضری کے سبب کوئی ہوم ورک مجھے نہ ملا تھا ۔اگلے دن میرے قدم اسکول جانے کے بجاۓ خود بخود میدان کی جانب بڑھنے لگے اور پھر یہ روز کا معمول بن گیا ۔ وہیں پر میری دوستی کچھ ایسے لڑکوں سے ہوئی جو عمر میں مجھ سے بڑے تھے مگر ان کو کوئی کام کاج نہ تھا ۔

ان کے ساتھ رہ کر مجھے دنیا کے ایسے رنگوں سے آشنائی ہوئی جو میرے لۓ نیۓ تھے ۔سگریٹ نوشی ان کے اصرار  پر میں نے شروع کر دی ۔ایک دن انہوں نے مجھے کہا کہ کل وہ مجھے ایک خاص چیز دکھائیں گے اگلے دن جو کچھ انہوں نے مجھے دکھایا وہ میری آنکھیں کھول دینے کے لۓ کافی تھا۔ وہ بلو پرنٹ تھے جو کہ آج سے قبل میں نے کبھی نہیں دیکھی تھی۔

اس کے بعد ایک سلسلہ شروع ہو گیا مگر اس کی انتہا اس دن ہوئی جب ان لڑکوں نے ایک دن مجھے ایک سگریٹ پینے کے لۓ دیا اور اس سگریٹ کے پیتے ہی مجھے لگا کہ میں ہواؤں میں اڑنے لگا ہوں ۔اور اس کے بعد مجھے کچھ ہوش نہ رہا ۔جب مجھے ہوش آیا تو میرا سر بری طرح بھاری ہو رہا تھا ۔

میں نے اپنے اردگرد نظر دوڑائی تو وہ ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جہاں ہم لڑکے اکثر جمع ہو کر موبائل پر بلو فلمیں دیکھا کرتے تھے ۔مگر ایک خاص بات جس نے مجھے چونکا دیا کہ میں برہنہ تھا ۔ میں نے جلدی سے کپڑے پہنے اور دریافت کیا کہ یہ سب کیا ہوا ہے ۔اس پر ان لڑکوں نے بتایا کہ انہوں نے آج تک جو خرچہ مجھ پر کیا تھا وہ ادا ہوگیا ہے ۔

مجھے ان کی بات سمجھ نہیں آئي جب میں نے سختی سے پوچھا تو انہوں نے اپنے موبائل فون پر مجھے ایک ویڈیو دکھائی ۔یہ ویڈیو بھی ایک بلو فلم ہی تھی مگر اس میں کوئی اور نہیں بلکہ میں خود برہنہ حالت میں موجود تھا ۔میں نے جب ان سے اس کو ڈیلیٹ کرنے کو کہا تو انہوں نے بتایا کہ وہ اس کی کئي کاپیاں بنا چکے ہیں ۔

آئندہ بھی مجھے ایسی ویڈیو بنانے کے لۓ ان کے ساتھ تعاون کرنا پڑۓ گا ورنہ وہ مجھے کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑیں گے ۔اس کے بعد میری زندگی کے بدترین دور کا آغاز ہوا ۔ وہ اب بھی جب چاہتے ہیں مجھے بلا لیتے ہیں ۔اورپھر میرے ساتھ وحشت اور درندگی کے کھیل کا آغاز ہو جاتا ہے ۔

میری زندگی انہوں نے برباد کر دی ہے مجھے کسی قابل نہیں چھوڑا ۔میں اسکول جانا چاہتا ہوں ۔مجھے اب اس مار سے بھی کوئی ڈر نہیں ۔مجھے اپنے ابو کی ڈانٹ اور پیار پر اب پیار آتا ہے ۔ مگر میرے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے وہ میری ویڈیو بنا بنا کر باہر کے ملکوں کو بیچتے ہیں ۔ اور میں سب سے منہ چھپاتا پھرتا ہوں ۔

میری اپنی عمر کے تمام لڑکوں سے یہی درخواست ہے کہ استاد اور والدین کی سختی ہماری بھلائی کے لۓ ہوتی ہے اس کا برا نہ مانا کریں ۔اسکول درحقیقت ہماری پناہ گاہ ہے ۔اور استاد ہمارے محافظ ہیں ۔ان کی بات کو برداشت کرنے والے کو دنیا کی ٹھوکریں برداشت نہیں کرنی پڑتی ہیں ۔

To Top