سانحہ ساہیوال: دہشت گرد قرار دیا جانے والا ذیشان داعش کا آلہ کار یا ایک معصوم انسان؟ ہوش اڑا دینے والے انکشافات سامنے آگئے

سانحہ ساہیوال: دہشت گرد قرار دیا جانے والا ذیشان داعش کا آلہ کار یا ایک معصوم انسان؟ ہوش اڑا دینے والے انکشافات سامنے آگئے

اس وقت پورا ملک سانحہ ساہیوال کے سبب غم و غصے کی لپیٹ میں ہے سی ٹی ڈي کے اہلکاروں کی اندھا دھند فائرنگ کے سبب خلیل اس کی بیٹی اور اس کی بیوی اس واقعے میں ہلاک ہوئي اس کے ساتھ ساتھ گاڑی کا ڈرائیور ذیشان بھی اس فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہوا سی ٹی ڈی کے ابتدائی بیان کے مطابق یہ سارے لوگ دہشت گرد تھے

مگر جب عوام کی جانب سے سخت ترین احتجاج سامنے آیا اور خلیل کے لواحقین نے اس بات کا دعوی کیا کہ خلیل ایک شادی کے سلسلے میں اپنے گھر والوں کے ساتھ جا رہا تھا تو سی ٹی ڈی والوں نے بھی اپنے موقف میں تبدیلی کرتے ہوۓ اس بات کا انکشاف کیا کہ خلیل اور اس کے خاندان کی موت درحقیقت ان کی بدقسمتی تھی اور اہلکاروں کا اصل نشانہ ذیشان تھا

ذيشان کے بارے میں سی ٹی ڈی اہلکاروں کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کا دہشت گرد تنظیم داعش سے قریبی تعلق تھا اور اس نے بارودی مواد کی لاہور سے ساہیوال منتقلی کے لیۓ اس گھرانے کا استعمال کیا اور گجرانوالہ میں حال ہی میں مارے جانے والے دہشت گردوں کے ساتھ اس کا قریبی تعلق تھا

سی ٹی ڈی کے ایک اعلامیۓ کے مطابق ذیشان کے موت کے بعد افغانستان سے ایک کال بھی ریکارڈ کی گئی جس میں ذیشان کی موت کے بارے میں خبر کی تصدیق کی گئی اور اس کے باقی ساتھیوں کو محفوظ مقامات پر چھپنے کی ہدایت بھی کی گئی اس حوالے سے احکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ذیشان کی ذمے بارودی مواد کو جنوبی پنجاب پہنچانے کی ذمہ داری دی گئی تھی جس کے سبب اس نے جان بوجھ کر خلیل کے گھرانے کو لفٹ دی تھی تاکہ ان کی آڑ میں بارودی مواد منتقل کیا جا سکے

جب کہ دوسری جانب ذیشان کی والدہ کا اس حوالے سے یہ کہنا تھا کہ اس کا بیٹا پانچ وقتہ نماز گزار اور تہجد گوار تھا وہ باقاعدگی کے ساتھ قرآن کا مطالعہ کرتا تھا اور اس کے اندر کسی قسم کی کوئي برائی نہ تھی اے نے اپنے بیٹے کو پیٹ کاٹ کر میو اسکول اڈل ٹاؤن سے دسویں کی تعلیم دلوائی تھی اوراس کے بعد کمپیوٹر ڈپلوما کروایا تھا اور وہ کمپیوٹر کی اپنی دکان چلاتا تھا

[”adinserter block= “10”]

ان شواہد کی روشنی میں معاملہ مذید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے اگر ذیشان کا تعلق واقعی داعش سے تھا تو اس حوالے سے حلیل اور اس کی موت کے ذمہ دار سی ٹی ڈي اہلکاروں کے ساتھ ساتھ ذیشان اور داعش کی تنظیم سے تعلق رکھنے والے افراد بھی ہیں جنہوں نے اپنے مزموم مقاصد کی تکمیل کے لیۓ اس خاندان کا استعمال کیا

وزیراعظم کی ہدایات کی روشنی میں جے آئی ٹی کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے جو کہ اس سارے واقعے کی تحقیق کرے گا اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے خلیل کےبچوں کی کفالت کی ذمہ داری بھی اٹھانے کا اعلان کیا ہے اس کے ساتھ ساتھ دو کڑوڑ کی امداد کا بھی اعلان کیا ہے

[”adinserter block= “15”]

امید ہے کہ مدینے جیسی فلاحی ریاست قائم کرنے کی خواہش رکھنے والے حکمران اس واقعے کے ذمہ داروں کو سخت سے سخت سزا دیں گے اور غفلت کے مرتکب اہلکاروں کو بھی قرار واقعی سزا ھے کر سانحہ ساہیوال کو ایا مٹال بنا دیںگے

To Top