بہاروں کو آنا ہے ایک دن،خزاں کا موسم ہمیشہ نہیں رہتا،ثمینہ احمد کی کہانی

بہاروں کو آنا ہے ایک دن،خزاں کا موسم ہمیشہ نہیں رہتا،ثمینہ احمد کی کہانی

ثمینہ احمد کی زندگی کی کہانی

ہنستے مسکراتے چہرے ، اوردوسروں  کی زندگیوں  میں  مسکراہٹیں بکھیرتے لوگ اکثر  اپنے اندر دکھوں کا ایک جہاں لیے پھر رہے ہوتے ہیں۔ لیکن ہم ان کے ظاہری رنگوں  کو دیکھ کر یہ سوچتے ہیں کہ یہ کتنے خوش نصیب  اور مطمئن ہیں۔ نہ ان کی زندگی میں کوئی پریشانی ہے نہ کوئی غم۔ ایسی ہی خوش مزاج اور گریس فل اداکارہ ثمینہ احمد کی زندگی کی کہانی ہے جب ان کے شوہر فرید احمد نے انہیں چھوڑ کر شمیم آرا سے شادی کرلی۔ اگران کے ماضی کے دھندلکوں میں جھانکیں تو کرب اور اذیت کے گہرے بادل نطر آئیں گے۔ جن کی بارش میں وہ کئی سال بھیکتی رہیں۔

ثمینہ احمد کی شادی

Reviewit.pk

فرید احمد کی پہلی منگیتر شمیمم آرا

ہنستی کھکھلاتی  چہچہاتی  نوجوان ثمینہ احمد  نہیں جانتی تھیں کہ فرید احمد سے شادی ان کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی  بن جائے گی۔ اور فرید احمد کا ماضی ان کی شادی شدہ زندگی کو ایسے موڑ پر لے آئے گی جہاں ہار ان کا مقدر بنے گی۔  ثمینہ احمد کے پہلے  شوہر فرید احمد، سینئر ہدایت کار و فلم ساززیڈ ڈبلیو احمد کے بیٹے  تھے اور ان کی منگنی اداکارہ شمیم آراء سے طے تھی۔۔۔لیکن زیڈ ڈبلیو اپنے بیٹے کی شادی شمیم آراء سے نہیں کرنا چاہتے تھے۔

شمیم آرا کی شادی

ٖFacebook

دلہن  بنی شمیم آرا انتظار کرتی رہیں مگر بارات نہ آئی

زیڈ ڈبلیو احمد کی یہ ناپسندیدگی  کتنی زندگیوں کو خراب کرے گی شاید وہ خود بھی نہیں جانتے تھے۔ عین شادی والے دی  جب شمیم آرا دلہن بنی بیٹھی بارات کا انتظار کر رہی تھیں ۔ اس موقع پر میڈیا کےنمائندگان اور پریس بھی موجود تھا ، تو  شمیم آرا پر انکشاف ہوا کہ فرید احمد  بارات لے کر نہیں آرہے ہیں۔ قیامت کی اس گھڑی نے ان کو آسمان سے زمین پر لاگرایا  اور انہیں بے تحاشا سبکی کا  سامنا کرنا پڑا۔

شمیم آرا اور ثمینہ احمد

Pakistan Point

ثمینہ احمد کی فرید احمد سے شادی

دوسری جانب زیڈ ڈبلیو احمد نے کچھ عرصے بعد اپنے بیٹے کی شادی ٹی وی ایکٹریس ثمینہ احمد سے کردی۔ شادی کے کچھ عرصے بعد للہ نے اس جوڑے کو ایک  بیٹا اور ایک بیٹی سے نوازا۔ اسی دوران  شمیم آرا نے بھی  سندھ کے ایک وڈیرے سے شادی کرلی اور وہ اپنے سارے غم بھول گئیں، مگر یہ خوشی  زیادہ عرصہ قائم نہیں رہی اور ان کے پہلے شوہر ایک ایکسیڈنٹ میں انتقال کر گئے،

کچھ عرصےبعد شمیم آر انے ممتاز بزنس مین ایگفا کلر فلم کے مالک کریم مجید سے دوسری شادی  کی جس  سے ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا۔ مگر میاں بیوی کے درمیان چپقلش نے رشتے کی یہ ڈور توڑدی اور شمیم آرا نے  ان سے طلاق لےلی۔

شمیم آرا کا بدلہ یا ثمینہ احمد کی بدقسمتی؟؟

ثمینہ احمد جو اپنے گھر میں پر سکون زندگی گزار رہی تھیں،انہیں پتا ہی نہیں چلا کہ کب خزائیں ان کے گھر کا رخ کرنے لگی ہیں، فرید احمد کی دوبارہ سے شمیم آرا سے ملاقاتیں  شروع ہوگئیں ،گلے شکوے، ناراضیاں ختم ہوئیں تو عشق کا بھوت پھر سوار ہوا ، ا س بار شمیم  آرا ،فرید احمد سے  اس شرط پر شادی کرنے  کے لیے تیار ہوئیں کہ وہ اپنی پہلی بیوی کو طلاق دیں  گے اور بچوں کو بھی چھوڑ دیں گے۔

فرید احمد  بھی ماضی کا کفارہ ادا کرنے کے لیے بے چین تھے۔ انہوں نے ثمینہ احمد کو طلاق دے کر  شمیم آرا سے شادی کرلی۔ مگر شادی کے محض چار دن بعد ہی شمیم آرا نےپریس  کانفرنس کی  جس میں فرید احمد سے مطالبہ کرتے ہوئے ، ان کی ماضی میں کی جانے والی بے وفائی کا بدلہ لے لیا۔ فرید احمد اس صدمے کو جھیل نہ سکے اور کچھ عرصے بعد ہی  انتقال کر گئے۔

ثمینہ احمد کی شادی

The News

بہاریں لوٹ آئیں،منظر صہبائی نے ثمینہ احمد کا ہاتھ تھم لیا

مگر اس کہانی کا اصل کردار جس نے بنا کسی قصور  کے یہ سزا کاٹی وہ ثمینہ احمد تھیں ۔ اس حادثے  کے بعد ثمینہ احمد نے  بہت محنت  اور اچھے انداز کے ساتھ اپنے بچوں کو پروان چڑھایا  ان کی شادیاں کیں اور اب وہ نانی  ہونےکے ساتھ ساتھ دادی بھی بن چکی  ہیں۔ ۔ اور دکھوں کی آندھی گزر چکی ہے۔  ان کی زندگی کے موسم نے کروٹ  لے کر خوشیوں  کی جھومتی برسات  ان کے آنگن میں برسادی ہے۔ منظر صہبائی  کی صورت۔ منظر  صہبائی نے  انہیں اپنی زندگی میں  شامل کرکے  ان کا ہاتھ تھام  لیاہے ۔

بلاک بسٹرفلم بول  اور ڈراما سیریل الف  میں  اپنی اداکاری سے دھاک بٹھانے والے منظر صہبائی ، ہدایت کار سرمد صہبائی کے بھائی بھی ہیں۔

ثمینہ احمد کی کہانی

The Pakistan Post

مزید پڑھیے: لیجنڈری اداکارہ ثمینہ احمد اور منظر صہبائی زندگی بھر کے لیے ہم سفر بن گئے

مبارکباد اور ڈھیروں دعائین

کورونا وائرس کے اس ماحول میں ثمینہ احمد  اور منظر صہبائی کی شادی کی خبر نے جہاں ایک ہلچل مچائی وہیں میڈیا انڈسٹری سمیت عوام نے  بھی انہیں  شادی کی مبارکباد  اور  ڈھیروں دعائیں دی ہیں۔ دکھوں کے بادل ہماری زندگیوں میں آتے ضرور ہیں کبھی  یہ جل تھل برس کر فوراً چلے جاتے ہیں تو کبھی  یہ لمبے عرصے کے لیے ٹھہر جاتے ہیں مگر انہیں ایک دن جانا ہوتا ہے شرط  یہ ہے کہ آپ  مایوس نہ ہوں  اور اس دروازے  کے کھلنے کا انتظار کریں  جس کے کھلتے ہی بہار اپنے رنگ ہر سو بکھیر دے گی ، جیسے اب اس  نے ثمینہ احمد کے  گھر پر   دستک  دے کر ڈیرہ جما لیا ہے  کیوں کہ بہا ر کو آنا ہوتا ہے

To Top