آخر سلمان تاثیر چاہتے کیا تھے؟

آخر سلمان تاثیر چاہتے کیا تھے؟

سات سال پہلے 4 جنوری 2011 کو پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر اپنے محافظ ممتاز قادری کے ہاتھوں مار دیے گئے، جس کے بعد پاکستان کے ہر گلی، کوچے، ہر ادارے ہر چائے کے ہوٹل پر نظریاتی بحث چل پڑی، جس کا نتیجہ عدالت کے فیصلے کے بعد بھی نہیں نکل سکا کہ سلمان تاثیر غلط تھا یا اس کا محافظ ممتاز قادری؟

جو مانتے تھے کہ سلمان تاثیر غلط تھا وہ تو نڈر ہو کر کہیں بھی کہہ دیتے تھے کہ سلمان تاثیر کو مار کر قادری صاحب نے جنت حاصل کرلی ہے، بیشک قادری صاحب نے بعد میں عدالت کی طرف سے ملنے والی سزائے موت کے فیصلے کے بعد صدر پاکستان کو معافی کی اپیل بھی کی تھی، مگر سلمان تاثیر کے چاہنے والوں میں جو عقلمند لوگ تھے جو شاید یہ بولنا چاہتے ہیں کہ ممتاز قادری غلط تھا، وہ اپنی قیمتی جان بچانے کی خاطر اتنا ہی بول کر بات ختم کردیا کرتے تھے کہ خدا ہی بہتر جانتا ہوگا کے دونوں میں کون غلط تھا۔

مگر میرا سوال یہ ہے کہ آخر سلمان تاثیر چاہتے کیا تھے؟

جیسا کہ ہر سیاست دان الیکشن میں جیتنا چاہتا ہے اور ایک سیٹ جیتنے کا اتنا نشہ ہوتا ہے کہ ہر سیاست دان یا سیاسی لیڈر کروڑوں روپے صرف ایک سیٹ کو جیتنے میں لگا دیتا ہے۔ ایک کامیاب کاروباری شخص کے ساتھ ساتھ پاکستان کی بڑی سیاسی پارٹی کے کامیاب سینیئر ممبر، جن کو پنجاب کا گورنر بنایا گیا، ایک غریب اور غیر مسلم عورت کی جان بچانے کی خاطر اپنے سر پاکستان بھر کے مزہبی حلقوں سے گالیاں کھا کھا کر اپنے ہی محافظ کی ہاتھوں بے دردی سے ماردیے گئے.

مزہبی حلقے آج تک ممتاز قادری کو اپنا ہیرو مانتے ہوئے یہ سمجھتے ہیں کہ ممتاز قادری نے سلمان تاثیر کو جہنم واصل کردیا، اگر یہ بات سچ ہے تو پھر اس کا مطلب یہی بنتا کہ سلمان تاثیر جہنم جانا چاہتے تھے، اس لیے غریب آسیہ بی بی کے لیے آواز اْٹھائی، اور باقی تمام عقل مند سیاست دان جو چپ کر کے تماشا دیکھتے رہے وہ شاید درست رہے۔ کیا سلمان تاثیر صاحب کو دوسرے سیاسی لیڈروں ،عمران خان، طاہر القادری، نواز شریف وغیرہ کی طرح زندہ رہنا پسند نہیں تھا؟  کیا وہ بھی بیرون ملک میں گھومنا پھرنا نہیں چاہتے تھے؟

اس ملک کے عقل مند سیاست دان ایک ایم این اے یا ایم پی اے کی سیٹ کو جیتنے لیے لاکھوں روپے برباد کر دیتے ہیں مگر کچھ بیوقوف ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو گورنر کی سیٹ بھی مل جاتی ہے مگر ایک غریب عیسائی عورت کے لیے اپنی گورنر کی کرسی کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی ہی ختم کر دیتے ہیں۔

آج تک اگر کہیں سلمان تاثیر اور ممتاز قادری کی بحث چلتی ہے تو نتیجہ آخر میں یہی نکلتا ہے کہ سلمان تاثیر کو درست سمجھنے والا لادین اور گناہ گار انسان سمجھا جاتا ہے اور قادری کو درست سمجھنے والا ایک مکمل دینی انسان سمجھا جاتا ہے۔

ہر انسان کی طرح مجھے بھی اپنی جان پیاری ہے اور یہ بات سمجھتے ہوئے میں بھی یہی بول سکتا ہوں کہ خدا بہتر جانتا ہوگا کہ کون درست تھا اور کون غلط؟

To Top