ساس بہو کے درمیان پستے ہوۓ ایک مظلوم مرد کی داستان

ساس بہو کے درمیان پستے ہوۓ ایک مظلوم مرد کی داستان

میں جب سونے کے لیۓ لیٹا تو میری بیوی دودھ کا گلاس لے کر آگئی اس کا کہنا تھا کہ مولوی صاحب نے دم کر کے دیا ہے اور مجھے یہ لازمی پینا  پڑے گا میں اس کو کیسے بتاتا کہ اس سے پہلے ہی امی مجھے ایک دودھ کا گلاس پلا چکی ہیں جو ان کے مولوی صاحب نے دم کر کے دیا تھا میرے گلے میں میری امی کا پہنایا ہوا تعویز ہے اور میرے بازو پر میری بیوی کا دیا ہوا تعویز بندھا ہوا ہے ۔ساس بہو کے ان تعویزوں نے مجھے ایک مرد کم اور  مزار زیادہ بنا دیا ہے

میرا قصور یہ ہے کہ میں ایک ماں کا اکلوتا بیٹا اور ایک بیوی کا اکلوتا شوہر ہوں اگرچہ میری شادی میری امی نے اپنی مرضی سے اپنی قریبی دوست کی بیٹی سے کی تھی مگر ان کا اب یہ کہنا ہے کہ ان ماں بیٹی نے تعویز گنڈے کر کے ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی تھی اسی سبب وہ اپنے شہزادوں جیسے بیٹے کے لیۓ بندریا جیسی شکل والی بہو لے آئیں ۔


جب کہ مجھے اپنی بیوی مناسب ہی لگتی تھی وہ ایک قبول صورت لڑکی ہے یہ بات میں نے جب بھی اپنی امی کو سمجھانے کی کوشش کی تو اس بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اب اس ماں بیٹی نے مجھ پر بھی تعویز کروا دیۓ ہیں اسی سبب مجھے ایک بدصورت عورت بھی حور شمائیل لگتی ہے

بقول امی کے جادو کے اس توڑ کو کروانے کے لیۓ انہوں نے ایک بہت مستند مولوی صاحب ڈھونڈے ہیں جو کہ اپنے تعویزوں کے ذریعے مجھے میری بیوی کی اصل شکل دکھانے میں کامیاب ہو جائيں گے ۔ جب کہ دوسری جانب میری بیوی کو میری صحت ، میرے روزگار کی بہت فکر ہوتی ہے اس کو لگتا ہے کہ اس کے شوہر پر کسی کی نظر بد کا سایہ ہے جس کو دور کرنے کے لیۓ اس کی امی کے مولوی صاحب نے تعویز دیا ہے جس کو اپنے جسم کے ساتھ لگا کر رکھنا بہت ضروری ہے ۔

مجھے یہ دونوں عورتیں بہت عزيز ہیں اسی وجہ سے میں ان دونوں کی ماننے پر مجبور ہوں مگر اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ میری آمدنی کا ایک بڑا حصہ ان مولوی صاحبان کے آستانوں کی نظر ہو جاتا ہے جو کہ درحقیقت میں آپس میں باپ بیٹے ہیں کبھی کبھی تو مجھے یہ لگتا ہے کہ میں اصل میں انہی باپ بیٹوں کے لیۓ کما رہا ہوں

ساس بہو کی اس چپقلش کا سب سے زیادہ خمیازہ مجھے ہی بھگتنا پڑتا ہے کیوں کہ ایک بار مجھے کھانا امی کے ساتھ کھانا پڑتا ہے تو اس کو برابر کرنے کے لیۓ بیوی کے ساتھ بھی کچھ نہ کچھ کھانا پڑتا ہے تاکہ امی کے جادو کا اثر کا توڑ کیا جاسکے ۔ میں صبح جب دفتر کے لیۓ نکلنے لگتا ہوں تو کمرے سے نکلنے سے قبل میری بیوی میرے گرد حصار کھینچتی ہے تو گھر کے دروازے سے نکلنے تک میری ماں مجھ پر نہ جانے کون کون سے کلام پھونکتی رہتی ہیں

اب تو میرے دوستو نے بھی اس بات کو لے کر میرا مزاق بنانا شروع کر دیا ہے چاند کی کن تاریخوں میں کس رنگ کا کپڑا پہننا ہے ہاتھوں میں کڑے گلے میں تعویز بازؤ پر بھی تعویز اکثر دوست تو مجھے سائیں بابا کے نام سے پکارنے لگے ہیں ۔مگر اب اس سب سے جان چھڑانے کا فیصلہ میں نے بھی کر لیا ہے

اس مقصد کے لیۓ میں نے بھی اپنے دوست کے بتاۓ ہوۓ ایک پیر صاحب کے پاس جانا شروع کر دیا ہے جس کا ماننا ہے کہ وہ مجھے ایسا تعویز دیں گے جس سے ساس بہو کے جھگڑے کا ہمیشہ کے لیۓ خاتمہ ہو جاۓ گا اور میری زندگی میں سکون آجاۓ گا۔

To Top