سال 2017 کی پیشن گوئیاں سامنے آگئیں، مزید جانئے کہ اس سال میں کیا کیا ہو سکتا ہے؟

سال 2017 کی پیشن گوئیاں سامنے آگئیں، مزید جانئے کہ اس سال میں کیا کیا ہو سکتا ہے؟

سال 2017 کے آغاز ہی سے لوگوں نے توقعات اور امیدوں کا بازار گرم کر رکھا ہے ہر ایک کو لگتا ہے کہ یہ سال ہر وہ ادھورا کام مکمل ہو جاۓ گا جو کہ سال 2016 میں ادھورا رہ گیا ۔ ہر کنوارے کی شادی ہو جاۓ گی ،ہر گنجے کے بال نکل آئیں گے وغیرہ وغیرہ ایسی ہی کچھ توقعات اور امیدوں کو بیان کریں گے۔

بلاول بھٹو زرداری کی امیدیں

1

بلاول بھٹو زرداری جو یہ امید لگاۓ بیٹھے ہیں کہ وہ سال 2018 میں وزیر اعظم پاکستان بنیں گے مگر امید یہ ہے کہ وہ اس سال شادی ضرور کر لیں گے ایک اور امید جو ان کے اردو کے استاد نے ظاہر کی ہے کہ وہ کم از کم اتنی اردو ضرور سیکھ جائیں گے کہ اس کے بعد وہ اپنے لۓ کروں گی کے بجاۓ کروں گا کا صیغہ استعمال کریں گے

عمران خان کی امیدیں

07

 

عمران خان کے لۓ سال 2017 سب سے ذیادہ امیدوں کا سال کہا جاۓ تو غلط نہ ہو گا ان کی امیدوں کی تو کوئی حد ہی نہیں ۔یہاں تک کہ انہی امیدوں کس سبب انہوں نے شیروانی بنانے کا آرڈر بھی دے دیا ہے ان کو امید ہے کہ اگر وزیر اعظم بن گۓ تو شیروانی کام آۓ گی ورنہ تیسری شادی کی تو امید ہے ہی ۔

فلم اسٹار میرا کی امیدیں

3

اس سال امید ہے کہ میرا کی انگریزی میں بہتری آۓ گی اس کے لۓ میرا امید لگاۓ بیٹھی ہیں کہ ان کو شادی کے لۓ کوئی انگریز دولہا مل جاۓ تو بہتر ہو گا۔ کیونکہ ایک طرف تو اس طرح ان کا شادی کا ارمان پورا ہو جاۓ گا اور دوسری طرف دن رات انگریز کے ساتھ رہ کر انگریزی تو بہتر ہو ہی جاۓ گی۔

سابق وزیر اعلی قائم علی شاہ کی امیدیں

4

قائم علی شاھ جو معمر ترین وزیر اعلی کا ریکارڈ 2016 میں پہلے ہی اپنے نام کر چکے ہیں، ایک بار پھر امید سے ہیں کہ جس طرح جسٹس سعید الزماں صدیقی صاحب اسپتال سے گورنر سندھ کا تخت سنبھالے بیٹھے ہیں اسی طرح حکومت ایک موقع ان کو اور دے تاکہ وہ بھی گورنر سندھ کا قلم دان اپنے کانپتے ہوۓ ہاتھوں سے سنبھال سکیں

عام عوام کی امیدیں

5

عام عوام کا تو کام ہی امیدیں لگانا ہے مگر یہ یاد رہے کہ ان کی کوئی بھی امید پوری ہونے کے لۓ نہیں ہوتی اور یہ امید ایسے ہی امید ہی رہ جاتی ہے ۔ عام آدمی کو امید ہے کہ جب وہ غسل خانے کا نلکہ کھولے تو صاف پانی اس میں سے نکلے ، چولھا جلانے کے لۓ گیس کھولے تو گیس آرہی ہو گھر سے نکلے تو گٹر ابل نہ رہیں ہوں صاف ستھری ہوا اس کو تازہ دم کر دے اسٹاپ پر جاۓ تو بس میں اس کے لۓ جگہ ہو اور دفتر جاۓ تو اس کو یقین ہو کہ مہینے کے بعد اس کی تنخواہ اس کو ضرور مل جاۓ گی اور واپس آۓ تو اس کو یقین ہو کہ وہ خیر و عافیت سے گھر پہنچ جاۓ گا راستے میں کسی خودکش بمبار کا شکار نہیں بنے گا

یاد رہے یہ صرف امیدیں ہیں

To Top