Parhlo Urdu

وہ کون سے حقائق ہیں جو راؤ انوار کو نواز شریف سے زیادہ طاقتور ثابت کرتے ہیں

Disclaimer*: The articles shared under 'Your Voice' section are sent to us by contributors and we neither confirm nor deny the authenticity of any facts stated below. Parhlo will not be liable for any false, inaccurate, inappropriate or incomplete information presented on the website. Read our disclaimer.

خط اور اس خط سے پہلے واٹس ایپ کال اور ویڈیو پیغام بھی سامنے آیا، مگر راؤ انواز خود منظرِ عام پر نہیں آرہے۔ ہر طرف ان کا خوب چرچا ہو رہا ہے۔ فیس بک پر، اخبارات میں اور نیوز چینلز پر خبر کے ساتھ ان کی تصویریں اور ویڈیوز دکھائی جارہی ہیں، مگر یہ سب پرانی ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں کی خواہش ہے کہ راؤ انوار کم از کم انھیں تو اپنی تازہ ترین تصویر بھیج دیں۔

ادھر عدالت کی جانب سے نقیب محسود کی جعلی پولیس مقابلے میں ہلاکت کے ذمہ دار اس پولیس افسر کی گرفتاری کے حوالے سے حکم جاری کرنے کے ساتھ متعلقہ اداروں کے افسران کی سرزنش اور سخت ریمارکس دینے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔


اور جب عدالت کو راؤ انوار کا خط ملا تو ایک نیا حکم دیا گیا۔ نقیب قتل کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران کہا گیا کہ سپریم کورٹ کو راؤ انوار کی طرف سے خط بھیجا گیا ہے اور ان کا موقف ہے کہ وہ بے گناہ ہیں۔ آزاد جے آئی ٹی بنانے کی درخواست ہے جس کا ہر فیصلہ ان کو منظور ہوگا۔ اس خط پر راؤ انوار کے دستخط بھی موجود ہیں۔ عدالت نے کہاکہ انھیں گرفتار نہ کیا جائے اور یہ بھی کہ مظلوم کی طرح ظالم کا بھی حق ہوتا ہے۔ یہ خدشہ بھی ہے کہ کسی نے مفرور پولیس افسر کو نقصان پہنچایا تو اہم ثبوت ضائع ہوجائیں گے۔

کراچی میں متنازع اور مشکوک مقابلوں کے لئے مشہور ایس ایس پی راؤ انوار اپنے 35 سالہ کریئر میں کئی بار معطل ہوئے اور انکوائری بھی جھیلی ہے لیکن ہر بار انھیں کلین چٹ مل گئی۔ نوجوان نقیب اللہ محسود کی مبینہ ماورائے عدالت ہلاکت کے بعد وہ روپوش ہونے پر مجبور ہوگئے اور ہمارے اداروں کے قابل اور فرض شناس افسران تاحال ان کا کھوج نہیں لگا سکے ہیں۔ ادھر عدالت بھی ان کے ایک خط میں الجھ کر گرفتار نہ کرنے کی بات کررہی ہے

۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جس پولیس کو گرفتاری نہ کرنے کا حکم دیا جارہا ہے وہ راؤ انوار کو گرفتار کر ہی کب رہی ہے؟ دوسری طرف وہ خط واقعی راؤ انوار کا ہے تو یہ عدالت کو الجھانے اور معاملے کو طول دینے کی کوشش کے سوا کیا ہو سکتا ہے؟

سیاسی میدان کی شخصیات کی نظر میں راؤ انوار کچھ لوگوں کے خاص آدمی ہیں۔ فاروق ستار انہیں پیپلز پارٹی کی قیادت کا خاص الخاص قرار دے چکے ہیں۔ اس حوالے سے اب ایک انگریزی اخبار میں رپورٹ بھی سامنے آئی ہے اور عام لوگوں میں بھی اب آصف علی زرداری کے راؤ انوار سے تعلقات کا خوب ذکر ہورہا ہے۔

اسی طرح مسلم لیگ ن کے سابق سینیٹر نہال ہاشمی نے بلدیاتی انتخابات کے موقع پر الزام عائد کیا تھا کہ راؤ انوار نے ان کے لوگوں کو منحرف کرکے پیپلز پارٹی کے ضلعی چیئرمین کو ووٹ ڈلوائے۔ اسی طرح بعض تجزیہ نگار بھی راؤ انوار کو اہم اور طاقتور شخصیات کا منظور نظر کہتے ہیں۔ تاہم اس کا کوئی ثبوت اب تک سامنے نہیں لایا گیا ہے۔

اسکے علاوہ سندھ ہائی کورٹ اور پولیس میں راؤ انوار کے خلاف شہریوں کو ہراساں کرکے زمینوں پر قبضے کرنے کی شکایات کا بھی ڈھیر لگا ہوا ہے۔ اب تو قوم کا بچہ بچہ اس پولیس افسر کے ’’کردار اور کارناموں‘‘ سے واقف ہے۔ سنجیدہ اور حقیقی مطالبہ عوام کا یہ ہے کہ نقیب اور دیگر نوجوانوں کی جعلی پولیس مقابلوں میں ہلاکتوں کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں اور چاہے کوئی بھی بااثر اور طاقتور شخص بے نقاب ہو راؤ انوار اور اس جیسے دیگر افسران کو عدالت کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔

عدالت کو چاہیے کہ متعلقہ اداروں کے افسران کو مزید مہلت اور چھوٹ دیئے بغیر اسے منطقی انجام تک پہچائے۔ اس کیس اور راؤ انوار پر اب تک بہت کچھ لکھا جاچکا ہے، مگر مجھے جس بات نے قلم اٹھانے پر مجبور کیا وہ یہ ہے کہ ایک بھاری مینڈیٹ لے کر حکومت بنانے کا دعوی کرنیوالے میاں نواز شریف کو عدالت نااہل کرسکتی ہے مگر ایک معمولی پولیس افسر جسکے پیچھے نہ تو عوام کی طاقت ہے، نہ ہی اسے باشعور طبقے اور کسی میڈیا گروپ کی حمایت اور مدد حاصل ہے، وہ اب تک عدالتی کٹہرے میں نہیں پہنچ سکا ہے۔ آخر ادارے کیا کررہے ہیں اور خاص طور پر پولیس؟

اس حوالے سے ایک گیت کے بول میں تھوڑی سی تبدیلی کررہی ہوں۔
کہاں ہو تم کو ڈھونڈ رہی ہے یہ عدالت یہ پولیس۔۔۔۔۔

Snap Chat Tap to follow