قرآن و احادیث کی رو سے بیویوں کو وہ کونسے گیارہ حقوق حاصل ہیں جن کے بارے میں وہ نہیں جانتیں؟

قرآن و احادیث کی رو سے بیویوں کو وہ کونسے گیارہ حقوق حاصل ہیں جن کے بارے میں وہ نہیں جانتیں؟

قرآن و حدیث کی رو سے میاں بیوی کے حقوق واضح طور بیان کیۓ گۓ ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پو چھا گیا کہ سب سے اچھی عورت کو ن ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فر مایا کہ وہ عورت جو اپنے شوہر کو خوش کردے جب وہ اس کو دیکھے اور اس کی فر مانبرداری کرے جب وہ کوئی حکم دے اور اس کے خلاف نہ کرے نہ اپنے نفس میں او رنہ اپنے مال میں جس کو وہ نا پسند کرے نسأئی ۲؍۱ ۷۱، مشکوۃ ص ۲۸۳

اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایک عورت کی زندگی میں اس کے شوہر کی اہمیت کیا ہے مگر چونکہ اسلام دین فطرت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ عدل و انصاف کا حامل دین ہے لہذا قران و حدیث میں مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کے بھی حقوق بتاۓ گۓ ہیں جن کو ادا کرنا مرد پر بھی واجب ہے

شوہر کو گھریلو معاملات میں بیوی کی مدد کرنی چاہۓ

گھر میاں بیوی کی وہ ذمہ داری ہے جس کو مشترکہ طور پر وہ جنت بھی بنا سکتے ہیں اور جہنم بھی ، یہ تاثر قطعی طور پر غلط ہے کہ گھر کے کام کرنے کی ذمہ داری صرف خواتین کی ہوتی ہے ۔ہمارے پیارے نبی کی زندگی ہمارے لۓ ایک مثال ہے اور روایت سے یہ بات ثابت ہے کہ وہ امہات المومنین کی گھر کے کاموں میں نہ صرف مدد کرتے تھے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اپنے سارے کام اپنے ہاتھوں سے انجام دیتے تھے ۔

شوہر کو بیوی سے محبت اور وفا کرنی چاہۓ

حدیث کا مفہوم ہے کہ جب میاں بیوی محبت سے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامتے ہیں تو ان کے گناہ ان کی انگلیوں کے بیچ سے بہہ جاتے ہیں

بیوی اپنے شوہر سے خلع لے سکتی ہے

اگر میاں بیوی میں سمجھوتے کی کوئی صورت نظر نہ آرہی ہو تو بیوی کے پاس یہ حق موجود ہے کہ وہ اپنے شوہر سے خلع کا مطالبہ کر کے علیحدگی اختیار کر سکتی ہے

عورت دوبارہ شادی کر سکتی ہے

شوہر کی موت کی صورت میں یا اس سے طلاق کی صورت میں عورت کو بھی مرد کی طرح یہ حق حاصل ہے کہ وہ دوبارہ شادی کر سکتی ہے

شوہر کو بیوی کی تعریف کرنی چاہۓ

مفہوم حدیث ہے کہ بہترین شخص وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ بہترین ہے لہذا شوہروں کو چاہۓ کہ اپنی بیویوں کے ساتھ اچھے برتاؤ کا مظاہرہ کریں اور ان کی اچھائیوں کی تعریف بیوی کے سامنے کرے

روٹی کپڑا اور مکان دینے کی ذمہ داری مرد کی ہے

اسلامی تعلیمات کی رو سے مرد اس بات کا ذمہ دار ہے کہ وہ اپنی بیوی کی تمام تر ذمہ داریاں پوری کرے

عورت کی کمائی پر مرد کا کوئی حق نہیں ہوتا

عورت کی کمائی مکمل طور پر  عورت کی ہوتی ہے اور مرد کے پاس اس بات کا کوئی حق موجود نہیں ہوتا کہ وہ اس کمائی پر اپنا حق جتا سکے ۔

شادی کے بعد عورت کے لۓ اپنا نام تبدیل کرنے کی کوئی پابندی نہیں

شادی کے بعد بیوی پر یہ لازم نہیں ہے کہ وہ اپنے نام کے ساتھ اپنے شوہر کا نام لگاۓ وہ اپنے پرانے نام کے ساتھ بھی زندگی گزار سکتی ہے

بیوی کی آرائش اور زیبائش کے سامان کی فراہمی شوہر کی ذمہ داری ہے

سجنا سنورنا ہر عورت کی فطرت میں شامل ہوتا ہے اور بیوی کا سنگھار تو ہوتا ہی شوہر کے لۓ ہے لہذا اسلام مرد کو اس بات کا پابند کرتا ہے کہ وہ بیوی کی زیبائش کے سامان کی ذمہ داری اٹھاۓ

اولاد کی تربیت کی ذمہ داری میں مرد عورت کے ساتھ برابر کا ذمہ دار ہے

اولاد کی تربیت کی ذمہ داری صرف عورت کا فرض نہیں ہے بلکہ مرد بھی اس میں برابر کا ذمہ دار ہے اور اسلام مرد کو اس بات کا پابند کرتا ہے کہ وہ عورت کے ساتھ مل کر اس عمل میں حصہ لے۔

عورتوں کے یہ سارے حقوق مستند احادیث اور اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہیں لہذا ان کے بارے میں جاننا ہر مرد اور عورت کے لۓ ضروری ہے۔

To Top