میں قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھوں گا کیوںکہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حافظ حسین احمد کے اس انکشاف نے پاکستانیوں کو ہلا کر رکھ دیا

میں قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھوں گا کیوںکہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حافظ حسین احمد کے اس انکشاف نے پاکستانیوں کو ہلا کر رکھ دیا

عاصمہ جہانگیر مرتے مرتے بھی ایک نئی بحث کا آغاز کر گئیں کے جنازے میں عورتوں کی شرکت نے جہاں بہت سارے سوال اٹھا دیۓ وہیں پر تاریخ  کے اوراق سے جڑے کئی صفحات بھی اکھیڑ ڈالے جو کہ ہم سب کی نظر سے پوشیدہ تھے ۔ اس حوالے سے مختلف مکتبہ فکر کے علما اپنی اپنی راۓ کا اظہار کر رہے ہیں ۔یہ انکشاف قائد اعظم محمد علی جناح کے جنازے کے حوالے سے تھے


اس حوالے سے بات کرتے کرتے جمعیت علما اسلام کے حافظ حسین احمد نے ایک ایسا انکشاف کر دیا جس نے نہ صرف تمام پاکستانیوں کو صدمے سے دوچار کر دیا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ پاکستانیوں کے دلوں میں بہت سارے سوالات بھی پیدا کر دیۓ ۔ ایک ٹی وی پروگرام میں جب حافظ حسین احمد سے عاصمہ جہانگیر کے جنازے میں عورتوں کی شرکت کے حوالے سے دریافت کیا گیا تو ان کا کہنا تھا

ماضی میں جس وقت گیارہ ستمبر 1948 میں قائد اعظم محمد علی جناح کا انتقال ہوا تھا اس موقعے پر ان کی نماز جنازہ جو معروف عالم دین مولانا شبیر احمد عثمانی نے پڑھائی تھی مگر اس نماز جنازہ کو پڑھنے سے اس وقت کے وزیر خارجہ ظفر علی خان نے انکار کر دیا تھا

اس انکار کی وجہ انہوں نے یہ بتائی تھی کہ میں اس شخص کا جنازہ نہیں پڑھ سکتا جو کہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یقین نہیں رکھتا ۔اگرچہ حافظ حسین احمد کے اس دعوی کا ثبوت ہمیں تاریخ کے اوراق سے نہیں ملتا جب کہ تاریخ کا اگر مطالعہ کیا جاۓ تو مولانا شبیر احمد عثمانی جو کہ تحریک پاکستان کے تمام ادوار میں قائد اعظم کے کٹر ترین مخالف رہے جب ان سے دریافت کیا گیا کہ آپ نے قائد اعظم کے جنازے کو پڑھانے کی حامی کیوں بھری تو اس  حوالے سے ان کا جواب تاریخ کا حصہ ہے

ان کا کہنا تھا کہ مجھے خواب میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی اور انہوں نے مجھے ہدایت کی کہ میں قائد اعظم کا جنازہ پڑھاؤں ۔ حافظ حسین احمد نے بانی پاکستان کے بارے میں اتنا بڑا انکشاف کر دیا ہے انہیں چاہیۓ کہ یا تو وہ اس حوالے سے مستند مواد ثبوت کے طور پر پیش کریں یا پھر اس الزام کو واپس لیں ۔

یاد رہے کہ مولانا ظفر علی خان جو پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ تھے مزہبی اعتبار سے احمدیہ فرقے کے پیروکار تھے اور اس وقت کے علما نے ان کے استعفی کا مطالبہ بھی کیا تھا لہذا حافظ حسین احمد کا ان کا نام حوالے کے طور پر استعمال کرنا اور یہ کہنا کہ انہوں نے قائد اعظم کا جنازہ اس لیۓ نہیں پڑھا تھا کہ وہ حصور صلی اللہ علیہ وسلم پر یقین نہیں رکھتے تھے پاکستانیوں کے لیۓ ایک سوالیہ نشان ہے ۔

 

 

To Top