قندیل بلوچ! تمہارا شکریہ

قندیل بلوچ! تمہارا شکریہ

جب 15 جولائی 2016 کو قندیل کے مرنے کی خبر ملی تو اس سے قبل ہی مولوی عبدالقوی والے اسکینڈل کی وجہ سے بہت سے لوگ پہلے ہی اس کے مرنے کی دعا کر رہے تھے ۔ان کو اندیشہ تھا  کہ کہیں اس کا اگلا  شکار وہ ہی نہ ہوں ۔یہی وجہ تھی کہ اس کے مرنے کی خبر سن کر بہت سے لوگوں نے سکھ کا سانس لیا۔

اس بات سے قطع نظر کہ وہ حق پر تھی یا نہیں ، یہ ماننا پڑا کہ جو کام بڑی بڑی خواتین کی حقوق کی تنظیمیں نہ کر پائیں وہ قندیل بلوچ کی موت نے کر دیا۔ اسی کے مرنے پر ارباب اقتدار نے وعدہ کیا تھا کہ غیرت کے نام پر ہونے والے خواتین کے قتل کے معاملے کو اسمبلی میں پیش کیا جاۓ گا ۔اور آخر کار اسمبلی کے مشترکہ اجلاس میں بھاری اکثریت سے یہ بل منظور کر لیا گیا ۔

1

Source: Dawn

اس بل کا بنیادی غور طلب نقطہ یہ تھا کہ اگر قاتل کو وارثین معاف بھی کر دیں اس صورت میں بھی اس کی سزا معاف نہیں کی جاۓ گی بلکہ 25 سال قید کی سزا برقرار رہے گی ۔بل تو بظاہر واقعی اچھا لگ رہا ہےمگر ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ قانون ملک کے تمام حصوں میں یکساں طور پر نافذ ہو سکے ۔

وہ چاہے اندرون سندھ کے علاقے ہوں یا پاکستان کے شمالی علاقہ جات، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس امر کو یقینی بنائیں کہ آئندہ کوئی معصوم کسی ظالم کے ہاتھوں ونی نہ ہو پاۓ ۔ اور نہ ہی کوئی جرگہ کسی معصوم کو جلانے کا حکم دے۔

4

Source: The Express Tribune

اس بل پر تبصرہ کرتے ہوۓ سینیٹر حمد اللہ صاحب نے فرمایا کہ پہ بل ملک کی عورتوں کے اندر مغربی آزادی پیدا کرنے کا سبب بن سکتاہے ۔ ان کے اس بیان نے مزید کئی سوالات پیدا کر دئیے، جب ایوان بالا میں بیٹھے لوگ اس طرح سوچ سکتے ہیں تو پھر ہم کسی اور سے کیا امید رکھ سکتے ہیں؟

صرف قوانین بنانے سے مسائل حل نہیں کئے جا سکتے ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگوں کو اس معاملے میں آگاہی اور شعور دیا جاۓ تاکہ پھر کوئی قندیل بلوچ اپنے بھائی کی نام نہاد غیرت کی بھینٹ نہ چڑھ سکے اور قندیل یااس جیسی قتل ہونے والی لڑکیوں کے قاتلوں کو قرار واقعی سزا مل سکے۔

To Top