پورن ویڈیوز دیکھنے والے افراد کی ازدواجی زند گی کے کچھ اذیت ناک پہلو

پورن ویڈیوز دیکھنے والے افراد کی ازدواجی زند گی کے کچھ اذیت ناک پہلو

میں ٹی وی اسکرین کے سامنے بیٹھی تھی ۔ٹی وی پر خبریں چل رہی تھیں ۔ قصور میں معصوم زینب کے قاتل کے بارے میں بتایا جارہا تھا ۔کچھ لوگوں کو لگ رہا تھا کہ جس طریقے سے زینب کی بے حرمتی کی گئی ہے وہ کسی ایسے انسان کا کیا دھرا تھا جو کہ ڈارک ویب کے لیۓ فلمیں بنا تا ہے ۔ اسی سبب زیادہ پیسے کے حصول کے لیۓ معصوم زینب کو اس طرح اذیتیں دے کر مارا گیا ۔

میری عمر چالیس سال ہو چکی ہے شادی کو بھی بیس سال ہو چکے ہیں ۔ اس سارے واقعے اور اس دوران ہونے والی اس اذیت کو جس کا سامنا معصوم زینب کو کرنا پڑا میرا خیال ہے مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جان سکتا ہے ۔ میری زبان پر اس وقت بھی ایسے ہی زخموں کے نشان اور تکلیف ہے جیسے کہ زینب کی زبان پر تھے ۔

اپنی شادی شدہ زندگی کی ہر رات میں نے اس اذیت کا سامنا کیا جس کو بیان کرنا میرے لیۓ دشوار ہی نہیں ناممکن ہے ۔لفظ اس تکلیف کا احاطہ نہیں کر سکتے جس سے میں ہر رات گزرتی ہوں ۔ یہ سلسلہ شادی کے پہلے مہینے ہی سے شروع ہوگیا تھا ۔ بظاہر میرے شوہر ایک انتہائی کامیاب انسان تھے ۔ اچھی نوکری مالی آسودگی کسی ساس سسر یا سسرالی قریبی رشتے دار کا نہ ہونا یہ تمام باتیں میرے شوہر کو ہر لڑکی کا آئیڈیل بناتی تھیں ۔

مگر ان کی شخصیت کا یہ پہلو سب سے نہ صرف پوشیدہ تھا بلکہ کوئی بھی اس پر یقین کرنے کو بھی تیار نہ تھا وہ ہر رات بلیو پرنٹ یا پورن ویڈیوز لے کر آتے اور ان کو دیکھنے کے بعد وہی تمام طریقے مجھ پر آزماتے ۔ میرے انکار پر مجھے روئی کی طرح دھن دیتے اور صبح ہوتے ہی وہ وہی پرانے نمازی پرہیز گار بن جاتے تھے ۔

میرے  لیۓ ہر روز غیر مردوں کو برہنہ حالت میں دیکھنا انتہائي اذیت ناک ہوتا اور اس کے بعد اس سب کو اپنے جسم پر برداشت کرنا اور بھی زيادہ آذیتناک ہوتا ۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ وہ وقت ہوتا جب ماہواری کے ایام میں میں اس کی خواہشات کی تکمیل کے قابل نہ ہوتی ۔اس وقت میں میری بد نصیبی اور بھی بڑھ جاتی ۔

ان دنوں میں اس انسان کی وحشت میں مزید اضافہ ہو جاتا اور وہ میرے ساتھ جو سلوک کرتا میری بیان کرنے کی طاقت میرا ساتھ نہیں دے سکتی ۔ہر صبح میں خود کو اپنے بکھرے وجود کو نیۓ سرے سے جوڑتی اور دنیا کے سامنے ایک اچھی بیوی اور ایک اچھی ماں کا کردار ادا کرتی اور ہر رات مجھے پورن ویڈیوز کی ہیرویئن بن کر اپنے شوہر کو راضی کرنا پڑتا ۔

مجھے لگتا تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس انسان کی نفسانی خواہشات میں کمی آتی جاۓ گی تو شاید زندگی میں سکون کے کچھ پل مل جائیں مگر یہ میری خام خیالی ثابت ہوا ۔ جیسے جیسے اس کی طاقت میں کمی آتی گئی اس کی وحشت میں اضافہ ہوتا گیا اس نے اپنے کسی دوست کے ذریعے پیسے دے کر ڈارک ویب تک رسائی حاصل کر لی تھی ۔

اب اس کی ان ویڈیوز میں تشدد کا عنصر بڑھنے کے ساتھ ساتھ میری سزاؤں میں بھی اضافہ ہوتا جارہا تھا ۔ اپنی کمزوری کو قبول کرنے کے بجاۓ وہ اس کا غصہ بھی مجھ پر نکالتا ۔ معصوم زینب کے لیۓ اٹھنے والی آوازوں کو سن کر میرے دکھ میں مزید اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔کیا کوئی میرے دکھ اور تکلیف کو بھی سمجھ پاۓ گا ؟

To Top