کورونا،لاک ڈاون اور بے روزگاری۔۔غریب کی بھوک کیسے مٹے؟؟

غربت،معیشت،کورونا

معاشرتی سرگرمیاں بند

کورونا وائرس ملکی ہی نہیں دنیا کی معیشت پر بھی ایسے اثر انداز ہورہا ہے ۔ جیسے مکڑی اپنا جال  بنتی ہے شکار کے گرد۔ کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاو کے پیش نظر  پاکستان میں بھی لاک ڈاون جاری ہے۔

مارکیٹیں، تعلیمی ادارے، فیکٹریاں، ٹرانسپورٹ اور ہر قسم کی معاشی سرگرمیاں منسوخ  کر دی گئی ہیں۔ کراچی لاہور جیسے بڑے شہروں میں قانون نافذ کرنے والے ادارے سیکورٹی فراہم کرنے کے ساتھ عوام کو ان کے گھروں تک محدود رکھنے کے لیے موجود ہیں۔

غریب کی بھوک

Gulf News

غریب کے لیے ایک وقت کی روٹی کھانا بھی مشکل

ایسے میں دیہاڑی دار مزدوروں اور غریبوں کے لیے ایک وقت  کی روٹی کھانا بھی مشکل ہوگیا ہے اور لگتا ہے یہ مہلک وائرس غریب کو مزید غریب تر کرنے آیا ہے۔ غریب بستیوں میں رہنے والےعوام یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ کورونا سے موت یقینی نہیں ہے لیکن اگرحالات یہی رہے تو وہ بھوک سے ضرور مر جائیں گے۔غربت کے ساتھ اب بھوک کی چکی میں پستے اس غریب عوام  کی  روز کی کمائی کا آسرا  لاک ڈاون نے بند کردیا ہے۔خاص کر وہ  سفید پوش طبقہ جو نہ کسی سے مانگ سکتا ہے اور نہ کسی کے آگے اپنادامن پھیلا سکتا ہے۔  صرف 10 دن کے اس لاک ڈاون نے  وفاق اور صوبائی حکومتی اقدامات کی قلعی بھی کھول کر رکھ دی ہے۔

Meet this extraordinary woman who sells food for 3 rupees only

Who sells lunch for 3 rupees….This video will make you reevaluate your priorities in life.Pazban-e-Pakistan ?

Gepostet von Parhlo am Freitag, 10. August 2018

ذرانم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیز ہے ساقی

پاکستان خصوصاً کراچی میں بڑی تعداد میں مخیر حضرات  مستحق لوگوں کوعطیات دیتے ہیں۔ ہرمشکل گھڑی میں الگ الگ ذات میں گھری یہ قوم ایک ہوجاتی ہے۔ ایسی ہی  ایک مثال کراچی میں قائم کھانا گھر کی  باہمت خاتون سربراہ  پروین سعید کی ہے ۔ کھانا گھر سے غریب اور نادار افراد محض تین روپے میں پیٹ بھر کے کھانا کھاسکتے ہیں، اور نہ صرف کھاسکتے ہیں بلکہ اسی قیمت پر اپنے گھر موجود افراد کے لیے لے کر بھی جاسکتے ہیں۔

کھانا گھر سے غریبوں کو بنیادی ضروریات کی چیزیں بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ جن میں آٹا،دال،چینی اور دیگراشیا شامل ہیں۔ ماسک دستانے پہنے اورسینی ٹائزنگ کے بعد عملہ مکمل احتیاطی تدابیر کے ساتھ کام کرتا ہے۔ کھانا گھر کی خاتون سربراہ کا کہنا ہےکہ کھانا کھانے کے لیے آنے والے افراد کی مکمل اسکریننگ کے ساتھ ان کے پہلے ہاتھ دھلوائے جاتے ہیں۔ جبکہ عملہ اور کھانا کھانے والے سماجی فاصلہ کو بھی برقرار رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیے: کورونا وائرس،کپتان کی ٹائیگر فورس میدان میں اترے گی

تھرمل اسکریننگ کی سہولت بھی موجود

سربراہ خاتون کا کہنا تھا کہ کھانا گھر تقریباً 5 ہزار سے زائد غریبوں کوکھانا کھلارہا ہے جب کہ کھانا تقسیم کرتے ہوئےغریبوں کی کورونا وائرس سے متعلق تھرمل اسکریننگ بھی کی جاتی ہے کھانا کھانے کے لیے آنے والے افراد میں سے اگر کسی میں کوئی ایک علامت بھی ظاہر ہوتی ہے تو اسے دوسرے لوگوں سے الگ کردیا جاتا ہے

  ہوٹلوں میں کھانا کھانے پر پابندی کے بعد سے غریب لوگ ان کے کھانا گھر سے کھانا پپیک کروا کر لے جاتے ہیں یا ان کا عملہ خود غریب بستیوں میں جاکر کھانا تقسیم کردیتا ہے۔

یقینا غریب کی بھوک مٹانے کا ذریعہ بننے والے افراد اس بحرانی کیفیت میں ملک و قوم کا سرمایہ ہیں اور خدا وند کریم کی طرف سے ایک تھفہ۔

To Top