Parhlo Urdu

پولیس عوام کے محافظ یا عوام کے دشمن ؟؟

Disclaimer*: The articles shared under 'Your Voice' section are sent to us by contributors and we neither confirm nor deny the authenticity of any facts stated below. Parhlo will not be liable for any false, inaccurate, inappropriate or incomplete information presented on the website. Read our disclaimer.

یورپی و مغربی دنیا میں پولیس نام سن کر لوگوں کے ذہن میں تحفظ کا خیال آتا ہے لوگ مدد میں پولیس کو یاد کرتے ہیں. لیکن اگر پاکستان کی بات کریں تو یہاں تحفظ تو دور پولیس کا نام سن کر جھرجھری سی آجاتی ہے اور یہ صرف جھرجھری کی حد تک محدود نہیں بلکہ پولیس کا نام سن کر لوگوں پر خوف و لرزہ طاری ہوجاتا ہے اور یہ سب کچھ پولیس کے اس رویہ کا نتیجہ ہے جو وہ عوام کے ساتھ اپناتی ہے

جیسا کہ اگر آپ کسی واردات کی رپورٹ درج کروانے پولیس اسٹیشن چلے جائیں تو آپ کو ایسا محسوس ہوگا کے جرم آپ نے خود کیا ہے اور آپ سے تفتیش کا عمل چل رہا ہے اور آپ مظلوم نہیں مجرم ہیں

یہ باتیں صرف اسی حد تک محدود نہیں اگر آپ حال ہی میں رونما ہونے والے واقعات کی کڑیاں جوڑیں تو آپ بھی اس بات سے متفق ہونگے کے پولیس کا کردار مشکوک ہے۔

Posted by Dr Nimsha Asad Official on Friday, January 19, 2018

نقیب اللہ محسود کا نام صرف محسود ہونا اور اسکا وزیرستان سے تعلق محض ایک اتفاق تھا مگر ہماری پولیس نے اسی اتفاق کو اسکا جرم بنا دیا، جس طرح کی تصاویر نقیب کی سماجی رابطہ کی ویب سائٹ پر موجود ہے کوئی دہشتگرد اسطرح کبھی لوگوں میں گھلتا ملتا نہیں اور نہ ہی وہ اسطرح کھل کر زندگی جیتا ہے

نقیب کا واقعہ ایک طرف حال ہی میں پیش آنے والا  شاہراہ فیصل پر پولیس مقابلہ ہے جہاں پانچ بہنوں کا اکلوتا بھائی مارا گیا بہنیں انصاف کی دہائی دیتی رہیں لیکن کوئی فائدہ نہیں۔

5 behnon ka iklota bhai shahre faisal pe police encounter mein maara gaya – behen cheekh cheekh ke halkaanSindh Police or Terrorist ? #Fixit

Posted by Alamgir Khan on Saturday, January 20, 2018

سوال یہ ہے کے آخر کب ہماری پولیس کا میعار بہتر ہوگا ، کب عوام کا بھروسہ  پولیس پر بحال ہوگا، کب ہم پولیس سے ڈرنے کے بجاے انھیں  اپنا مددگار سمجھیں گے

 

Snap Chat Tap to follow