لاہور میں پولیس اہلکاروں کو مارنے والی گاڑی کس کی تھی نئی بحث چھڑ گئی

لاہور میں پولیس اہلکاروں کو مارنے والی گاڑی کس کی تھی نئی بحث چھڑ گئی

نۓ  سال کے آغاز کی تقریبات میں جب پوری قوم اپنے گھروں میں گرم نرم بستروں پر تھی ۔یا پھر اپنے دوستوں اور قریبی عزیزوں کے ساتھ نۓ سال کے جشن منانے کی تیاری کر رہے تھے ۔ایسے وقت میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو اپنے آرام کو قربان کر کے اپنے نرم گرم بستروں سے دور اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے ۔

[adinserterblock=”15″]

ایسے ہی دو پولیس والے مستنصر اور کاظم بھی تھے ۔جن کی ذمہ  لاہور کے پوش علاقے ڈی ایچ اے کے رہائشیوں کی حفاظت کی ذمہ داری تھی ۔جو اس یخ بستہ موسم میں انتہائی جاں فشانی سے ادا کر رہے تھے ۔ان کو اس محنت اور ذمہ داری کا جو صلہ ملا وہ انتہائی افسوسناک تھا ۔

لاہور میں نیو ایئر نائٹ کا نشہ، بے قابو گاڑی کا حادثہ

لاہور میں نیو ایئر نائٹ کا نشہ، بے قابو گاڑی کا حادثہ

Posted by ARY News on Monday, January 1, 2018

ناکہ پر ڈیوٹی دیتے اہلکاروں کو دیکھ کر تمام گاڑیاں اپنی رفتار کم کرتے ہوۓ ناکے کو پار کرتے ہوۓ گزر رہی تھیں مگر اچانک ایک گاڑی تیز رفتاری سے ناکے کی جانب بڑھی سی سی ٹی وی کی فوٹیج دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ڈرائیور نۓ سال کی آمد کی خوشی میں بری طرح بدمست تھا ۔

شراب کے نشے میں ہونے کے سبب وہ گاڑی کی رفتار پر قابو نہ رکھ سکا اور ناکے سے ٹکرا گیا جس کے نتیجے میں ناکے کے بیرل ٹکڑے ٹکڑے ہو گۓ ۔اور اس کے ٹکڑے ڈیوٹی پر موجود اہلکار مستنصر کی گردن پر لگے جس سے اس کی گردن کٹ گئی اور وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گیا ۔

جب کہ دوسرا اہلکار بری طرح زخمی ہو گیا بعد میں گاڑی کے ڈرائیور کو حراست میں لے لیا گیا اور اس گاڑی کے مالک کے ڈرائیور کے خلاف مقدمہ قائم کر لیا گیا ۔یاد رہے اس امر سے سب ہی واقف ہیں کہ کسی ملازم کی یہ مجال نہیں ہوتی کہ وہ نۓ سال کی تقریبات میں اپنے مالک کی گاڑی چلاتے ہوۓشراب پیۓ ۔

اس کے باوجود اصل مجرم کو بچاتے ہوۓ ایک ایک بے قصور پولیس اہلکار کو مارنے کے الزام میں ایک غریب ڈرائیور کو قربانی کا بکرا بنا کر پیش کر دیا گیا ہے ۔ذرائع کے مطابق یہ گاڑی لاہور کے معروف صنعتکار میاں منیر کے بیٹے کے نام ہے جس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ ان کا تعلق حکمران جماعت سے ہے ۔

 

اور وہ مریم نواز کی بیٹی کے سسر ہیں اور گاڑی مریم نواز کی بیٹی کے دیور کی ملکیت ہے ۔مگر مریم نواز نے اپنے ٹوئٹ کے ذریعے اس امر کی تردید کرتے ہوۓ کہا ہے کہ ان کی بیٹی کے سسر کا نام چوہدری منیر ہے اور ان کا میاں منیر سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ ایک بار پھر بلوچستان کی طرح ایک طاقتور آدمی کی گاڑی نے ایک معصوم پولیس والے کو نشانہ بنایا ہے ۔اس بار ان معصوموں کو انصاف مل پاۓ گا یا ماضی کی طرح یہ بھی قانون کا مزاق اڑاتے ہوۓ آزاد ہو جائیں گۓ

To Top