پڑھئیے کسطرح اس آگ نے سپریم کورٹ تک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا

پڑھئیے کسطرح اس آگ نے سپریم کورٹ تک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا

پاکستانی قوم کاپسندیدہ جملہ ہے کہ سنا ہے میں نے ، اس ایک جملے کی لگائی گئی آگ کا حساب کوئی نہیں ہے ۔ گھر ،دفتر بازار سیاست ہر جگہ اسی لفظ کی دھوم سنائی دے رہی ہے ۔ اکثر لڑائیوں کا سبب یہی ایک وہ جملہ ہوتا ہے نند کے بارے میں بھابھی نے کچھ کہہ دیا تو نند لڑنے آگئی ۔ بھائی نے بھائی کے بارے میں کچھ سب لیا تو نوبت ہاتھا پائی تک جا پہنچی ۔ پڑوسن کو پڑوسن کے بارے میں کچھ کہہ دیا تو پورا محلہ گونجنا شروع ہو گیا ۔

آج کل اس جملے کی گونج سپریم کورٹ میں بھی سنائی دے رہی ہے ۔سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق کے آگے بڑھا دینا ہماری عادت بنتی جا رہی ہے معاملہ کسی پر الزام لگانے کا ہو یا پھر کسی الزام کو آگے بڑھانے کا ، ہم سب اس معاملے میں پیش پیش ہوتے ہیں اور جب ان الزامات کو ثابت کرنے کا وقت آتا ہے تو ہم لوگ بغلیں جھانکنا شروع کر دیتے ہیں ۔

آج کل کچھ ایسے ہی الزامات ہمارے میڈیا میں بھی گونج رہے ہیں ان میں سے کچھ تو ایسے ہیں جن کو سن کر سر شرم سے جھک جاتا ہے مگر سوشل میڈیا کے ذریعے ان کی اشاعت انتہائی تیزی سے جاری و ساری ہے

نواز شریف نے فلیٹ منی لانڈرنگ کے پیسے سے خریدے

01

پاناما لیکس کے سامنے آتے ہی پوری قوم آف شور کمپنیوں میں وزیر اعظم کا نام آتے ہی پورے زور شور کے ساتھ اس بات کو پھیلانے پر لگی ہوئی ہے کہ ان کمپنیوں میں سارا پیسہ وزیر اعظم کا لگا ہوا ہے جو انہوں نے پاکستان ہی سے ناجائز ذرائع سے کمایا تھا مگر جب بات ثابت کرنے کی آتی ہے تو سب یہی کہتے ہیں کہ سنا ہے میں نے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عمران خان کوکین کا استعمال کرتے ہیں

02

حکومتی عمائدین اور وزرا کی جانب سے اس بات کا الزام بہت شدومد دہرایا جاتا رہا ہے کہ عمران خان اور ان کے بنی گالہ کے ساتھی کوکین کا استعمال کرتے ہیں اور جب ان سے ثبوت مانگے جاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ سنا ہے میں نے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مریم نواز کی شادی گھر والوں کی رضامندی کے بغیر ہوئی تھی

06

سوشل میڈیا پر بارہا مریم نواز پر تنقید کرتے ہوۓ یہ کہا جاتا رہا کہ اس کی شادی میں گھر والوں کی رضامندی شامل نہ تھی یہاں تک کہ اس بے چاری نے اپنی شادی کی تصویریں تک ثبوت کے طور پر پیش کر دیں پھر بھی ہم سب یہی کہتے ہیں کہ سنا ہے میں نے کہ۔۔۔۔۔۔۔

سنی سنائی بات کو بغیر تصدیق کے آگے بڑھانا سخت گناہ ہے لہذا ہم سب کو کسی بھی بات کو پھیلانے سے قبل اس کی تصدیق لازمی کر لینی چاہۓ کیونکہ یہ ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔

To Top